مُردوں کی دنیا کون سی؟۔۔وقار عظیم

یہ قبرستان آبادی سے کچھ ہٹ کر تھا۔۔یہاں رات تو رات دن میں بھی خاموشی کا راج ہوتا تھا۔۔اس لیے یہاں سے رات کو گزرنے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔
وہ بھی ایک اندھیری رات تھی۔۔۔چاند بھی افق پر نہیں نہیں نکلا تھا لہذا سردیوں کی یہ اندھیری رات کچھ زیادہ ہی کالی اور خاموش تھی۔۔فضاء میں عجیب سی اداسی پھیلی تھی۔۔۔
رات کے بارہ بجے۔۔قبریں پھٹنا شروع ہو گئیں۔۔۔ان میں سے مُردے باہر نکلنا شروع ہوئے۔۔فضا کی خاموشی کو کھڑکھڑاتے کفن کی آوازیں چیرنے لگیں۔۔فضاء میں کافور کی خوشبو پھیلنے لگی۔رات کی گہری سیاہ تاریکی اور چمکتے سفید کفن کا امتزاج انتہائی خوفزدہ تھا۔مرُدوں کی یہ بستی زندہ ہو گئی۔تمام مُردے ایک معمول کی مانند شمالی دیوار کی جانب چلنے لگے۔۔
چاچا فضل حق اور غلام رسول آپس میں ہنسی مذاق کرنے لگے۔یہ دونوں پینتیس سال سے اس قبرستان میں ساتھ ساتھ دفن تھے۔بہت سے مُردے گروپ کی صورت بیٹھ کر گپ شپ کرنے لگے۔۔نئے آنے والے مُردے اپنے مرنے کی وجہ بتانے لگے۔۔کچھ اپنے دکھڑے سنانے لگے۔۔کسی کو بیوی کی یاد ستا رہی تھی۔۔کسی کو اولاد کا غم ستا رہا تھا کہ ان کا کیا بنا ہو گا۔۔

یہ بھی پڑھیں نہ میں مومن وچ مسیتاں، نہ میں وچ کفر دیاں ریتاں!۔۔عمار کاظمی

ایسے میں تھوڑی سی دور ایک قبر سے ڈری سہمی سسکیاں بلند ہوئیں۔ قبر نئی تھی اور پھٹی ہوئی تھی لیکن اس کا مکین ابھی تک اس کے اندر ہی تھا۔۔ یہ سسکیاں اتنی بلند ضرور تھیں کہ سب کو سنائی دیں،قبر کی مٹی ابھی تک گیلی تھی۔۔اس کے ارددگرد پھول کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں۔۔جو کہ یقیناً  قبر پھٹنے سے پہلے تک قبر کے اوپر تھیں۔۔
چاچا فضل دین اپنا بوسیدہ کفن سنبھالتے ہوئے قبر کی جانب گیا۔۔سب کی نظریں چاچا فضل دین اور قبر پر تھیں۔۔چاچا فضل دین نے قبر میں جھانکا تو سفید مہکتے کفن میں ، زخموں سے چور ایک چھوٹی سی بچی لیٹی ہوئی تھی۔۔جس کی درد بھری سسکیاں کلیجہ چیر رہی تھیں۔۔چاچا فضل دین کو دیکھ کر وہ بچی مزید سہم گئی اور اس کی سسکیاں رونے کی آواز میں بدل گئیں۔۔چاچا فضل دین نے نیچے جھک کر نتہائی پیار سے اس بچی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے باہر آنے کی دعوت دی۔۔۔ایک منٹ کی جھجھک کے بعد وہ بچی چاچا کا ہاتھ تھام کر قبر سے باہر آ گئی۔۔۔چاچا اس بچی کو لیے شمالی دیوار کے پاس آ گیا۔۔
تمام مُردے چاچا فضل دین اور اس بچی کے اردگرد اکٹھے ہونے لگے۔۔ہر کوئی اس بچی کے حالات اور اس کے چہرے پر موجود زخموں کے بارے جاننا چاہتا تھا۔۔
“بیٹا! کیا نام ہے تمہارا؟ کیا ہوا تھا؟ کس نے روندا تمہیں؟” اس بار غلام رسول نے بچی سے پوچھا
“انکل! زینب نام ہے میرا۔قصور کی رہنے والی ہوں۔۔ایک انکل چاکلیٹ کے بہانے ساتھ لے گئے تھے۔ پھر وہ ایک سے زیادہ انکل ہو گئے۔۔ان سب نے مل کر پہلے مجھے روندا ۔۔پھر مجھے مارا۔۔میرا گلا دبانے لگے۔۔جب وہ گلا دبا رہا تھا مجھے میری مما یاد آ رہی تھیں۔جو میری چھوٹی سے چھوٹی تکلیف پر رو اٹھتی تھیں۔۔مجھے میرے پاپا یاد آئے کہ وہ یہاں ہوتے کیا ان کی جرات ہوتی مجھے چھونے کی۔۔میں چیخنا چاہتی تھی لیکن آواز نہیں نکل رہی تھی۔۔میں رو رہی تھی۔۔بے آواز رو رہی تھی۔۔درد تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا۔۔خون تھا کہ بہتا جا رہا تھا۔۔پھر اچانک اندھیرا چھا گیا۔۔اب یہاں آنکھ کھلی”
اس کی داستان سن کر ان مُردوں کے جذبات جاگ گئے کوئی رو رہا تھا، کوئی غصے میں تھا۔۔قبرستان کی اس چار دیواری میں جذبات عروج پر تھے اور چار دیواری سے باہر کی دنیا میں مُردہ جذبات لیے لوگ سکون کی نیند سو رہے تھے۔۔یہ سوچے بنا کہ کل کو ان کی زینب کی باری بھی آ سکتی ہے۔۔

اگر مورخ وہاں ہوتا تو یقیناً  مخمصے میں پھنس جاتا کہ مُردوں کی دنیا کون  سی ہے؟ دیوار کے اس پار یا اُس پار۔۔

وقار عظیم
وقار عظیم
میرا نام وقار عظیم ہے۔۔عمر انتیس سال ہے اور تعلیم کے لحاظ سے الیکٹریکل انجینئر ہوں۔۔شوقیہ فوٹو گرافرہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مُردوں کی دنیا کون سی؟۔۔وقار عظیم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *