• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اڈیالہ جیل سے “پاک فوج زندہ باد” کے نعرے/ڈاکٹر ابرار ماجد

اڈیالہ جیل سے “پاک فوج زندہ باد” کے نعرے/ڈاکٹر ابرار ماجد

مبینہ طور پر کہا جارہا ہے کہ عمران خان نے یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ “فوج زندہ باد” کے نعرے لگائے جائیں اور کوئی بھی فوج کے خلاف بات نہ کرے اور اگر کوئی کرتا ہے تو اس سے قطع تعلق کر لیا جائے۔ یوں تو عمران خان صاحب کو وہیں سے فیض ملا تھا جس کی بدولت وہ وزیر اعظم بنے اور پھر اگلے کئی سالوں اقتدار میں رہنے کے خواب دیکھنے لگے۔ اس وقت بھی ان کو ایک پیج پر ہونے پر فخر تھا اور پھر پیج تو نہیں پھٹا مگر چہروں کے رخ شائد مخالف سمت ہوگئے مگر دل پھر بھی کافی عرصے تک ملے رہے لیکن بظاہر وہ شکوے شکائیتیں کرتے رہتے تھے۔

یوں تو خان صاحب نے کبھی بھی یہ پیج پھاڑنے کی دل سے کوشش نہیں کی اور تیکھی آنکھوں سے وہ ہمیشہ اسی طرف ہی دیکھتے رہے کہ کب ان کو چہرے کا رخ بدلنے کا اشارہ ملے۔ انہوں نے کبھی بھی اخلاص کے ساتھ سیاستدانوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہی کسی ڈیل کی تاک میں رہے اور ہر طرح کی پیشکش کرتے رہے مگر بظاہر وہ اسٹیبلشمنٹ مخلاف نعرہ عوامی نفسیات کے پیش نظر ضرور لگاتے رہے۔ اور جب وہ نا امید ہوگئے تو پھر وہ بول کر بھی کہنے لگے کہ وہ تو چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ پہلے کی طرح آمنے سامنے رخ کر لئے جائیں مگر اتنے میں دوسری طرف سے رخ تو کیا شخصیات ہی بدل گئیں۔ اور اب وہ تو اپنا رخ بغیر کسی اشارے کے ہی بدلے بیٹھے ہیں مگر دوسری طرف سے اب رخ ان کی طرف مڑنے کے کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ دراصل اب مزاجوں کا نہ ملنا بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ خان صاحب کی کوششیں ابھی بھی جاری ہیں جو کہ کسی بھی طرح سے جمہوری انداز سیاست نہیں کہا جاسکتا۔ اب دوسری طرف سے رخ ریاست کی طرف ہے اور جو ریاست کی نمائندگی کا اختیار یا جواز رکھتا ہوگا وہی اس رخ کا مطمئہ نظر ہوگا، اب دیکھتے ہیں کہ ریاست کو کون مقبول یا قبول ٹھہرتا ہے۔

دراصل خان صاحب نے توجہ حاصل کرنے کے لئے جو روڑے پھینکے ہیں ان سے اب ان کی طرف توجہ کا ہونا مشکل ہی لگتا ہے۔ اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ دوسری طرف کے رخ کی توجہ وہ حاصل کر لیں تو ان کو ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا اور اس کے لئے اپنی حقیقی برادری سیاستدانوں میں اپنی جگہ بنانی ہوگی جس کے لئے جمہوری اقدار اور اصولی سیاست کی شروعات کرتے ہوئے اپنی مشکلات کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ ان پر کھویا ہوا اعتماد بحال ہوسکے۔

انہوں نے اپنے دور اقتدار میں سیاستدانوں کے ساتھ تو جو کچھ کیا تھا وہ بھی قابل افسوس ہے مگر جو اپنے محسنوں کے ساتھ کیا وہ آج ان کے لئے سب سے بڑی مصیبت بنا ہوا ہے۔ وہ سیاست دانوں سے بکھیڑے کرتے کرتے بھلیکھے میں ریاست سے بکھیڑا کر بیٹھے ہیں جس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ گئی ہے۔

لہذا کاش آج اڈیالہ جیل سے “پاک فوج زندہ باد” کے ساتھ ساتھ “آئین زندہ باد” اور “جمہوریت زندہ باد” کے نعرے بھی عملی طور پر گونجتے اور ان نعروں کی صدا پارلیمان تک پہنچتی جو ان پر ریاست کا اعتماد بحال کرنے میں کوئی کردار ادا کرتی اور وہ اس جگہ پہنچنے کی راہ پر نکلتے جو ان کو سیاستدانوں کے ساتھ لے جاکر کھڑا کرتی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی سیاست کی یہ حالت ہونے پر افسوس ہے وہ ایک سیاسی اثاثہ تھے اور عوامی امیدیں ان سے وابسطہ تھیں، روائتی سیاست سے مایوس عوام نے ان کو آزمانے کی رسک لی تھی مگر وہ عوامی امنگوں پر پورا نہیں اتر پائے۔ انہوں نے اپنی انتشاری سیاست سے سب کچھ۔ داؤ پر لگا دیا۔ ان کی الٹی گنتی اسی دن ہی شروع ہوگئی تھی جب انہوں نے پارلیمان کو چھوڑ کر چوک چوراہوں کی سیاست کا آغاز کیا تھا اور اپنی برادری سیاستدانوں کا ساتھ چھوڑ کر سیاسی عدم استحکام کی راہ اپنائی تھی جو انہیں پارلیمان کی بجائے اڈیالہ جیل لے کر پہنچ گئی۔

انہوں نے نوجوانوں کو روشن مستقبل کے خواب دکھائے تھے اور جب وقت عمل آیا تو انہوں نے نوجوانوں کو اٹھا کر پگوں والوں کو جگہ دینے کا کہہ دیا لیکن پھر بھی نوجوانوں نے محسوس نہیں کیا اور آنکھیں بند کرکے ان کے اشاروں پر چلتے رہے مگر انہوں نے ان کی آنکھوں پر اپنی محبت کی پٹی باندھ کر انہیں ایک گہری کھائی میں جا پھینکا جہاں سے اب ان کے لئے نکلنا بھی آسان نہیں رہا اور پگوں والوں نے جب امتحان آیا تو ان کو چھوڑ کر اپنی راہ لے لی۔

اب دوسرے نعروں کے ساتھ ساتھ انہیں “آئین و قانون زندہ باد” کے نعرے لگاتے اور پورا سچ بولتے ہوئے اپنی ان غلطیوں کا اعتراف کرنا ہوگا جو انہوں جمہوریت اور سیاست کے ساتھ کی ہیں اور اپنے آپ کو قانون کے سامنے بے قصور ثابت کرنا ہوگا تب ہی بات بنے گی۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو بھی جو ماورائے آئین و قانون جنوں اور شعور دیا تھا اس کی بھی سمت درست کروانی ہوگی تاکہ ان سے بختہ سیاست کی امیدیں وابسطہ کی جاسکیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ان پختگی کی پگڈنڈیوں سے گزرنے والے وہ پہلے سیاستدان نہیں بلکہ ریاست کی ان درسگاہوں سے دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدیں بھی تربیت حاصل کرکے گئے ہوئے ہیں کئی سال انہوں نے ان اداروں میں اپنے اندر تدبر اور حوصلہ پیدا کرنے کے لئے وقت لگایا اور آج ان کو یہ احساس ہے کہ جمہوری اقدار، اصولی سیاست اور آئین و قانون کی پاسداری ہی اس ملک و قوم کے مسائل کا حل ہے جوخان صاحب کو بھی سمجھانے کی کوششیں ہوتی رہیں مگر شائد اس وقت ان کو سمجھنے والا ماحول میسر نہیں تھا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply