میں ملحِد کیوں نہیں؟-مرزا مدثر نواز

خالقِ کائنات کی اس نعمت کا شکر ادا نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے مجھے ایک مسلم گھرانے میں پیدا کیا۔ لیکن کیا میں صرف اس لیے مسلمان ہوں کہ میرے آباؤ اجداد کا مذہب اسلام تھا؟نہیں‘ بلکہ میں اس لیے دین اسلام کا پیروکار ہوں کہ اس سے سچّامذہب مجھے روئے زمین پر نظر نہیں آتا۔ میری عقل و فہم و سمجھ بوجھ یہ مفروضہ ماننے کو تیار نہیں کہ سب کچھ جیسا کہ ظاہر و پنہاں کہکشائیں و نظام شمسی‘ بغیر ستون کے آسماں‘ زمین اور اس کے اندر چھپے خزانے‘ کرہ ارض پر بہتے ندی نالوں و دریاؤں کے مقررہ راستے‘ بارش برسانے و نباتات اگانے والا نظام‘ دریافت و غیر دریافت شدہ کم و بیش اٹھارہ ہزار مخلوقات اور اس کی حیات کا درست و پیچیدہ نظام‘ بچپن‘ جوانی‘ بڑھاپا اور اس کے بعد موت یعنی موت و حیات وغیرہ وغیرہ ایک دھماکے کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آ گیا؟ انسانوں نے رہنا سہنا و ہزاروں زبانیں خود ہی سیکھ لیں اور کیسے ایک خود کار طریقے سے‘ پیدا ہونے والا بچہ مادری زبان پر عبور حاصل کر لیتا ہے؟ میں اس بات کو ماننے کے لیے بالکل تیار نہیں کہ دریا کنارے کھڑے شخص کے لیے دریا کے کنارے لگا درخت اس کی آنکھوں کے سامنے گرے‘ اس کے بعد خود بخود آرے سے کاٹے گئے تختوں کی طرح اس کے تختے بن جائیں‘ ایک تختہ اس شخص کے پاس کنارے پر آ کر رک جائے‘ وہ شخص اس تختے پر سوار ہو اور تختہ اس کو منزلِ مقصود پر پہنچا دے۔ میرے پاس کیا دلیل و ثبوت ہیں کہ میں فضا میں گھومتی چائے دانی اور ڈارون کے نظریہ ارتقاء والے مفروضے پر ایمان لے آؤں؟ شیطان جب یہ وسوسہ ڈالے کہ مرنے کے بعد جب خدا نہ ملا تو پچھتاواو پشیمانی ہو گی‘ تو میری عقل کو یہ جواب دینا چاہیے کہ جب مرنے کے بعد اٹھ ہی گئے تو پشیمانی کیسی؟

شیطانی وسوسوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے جب میں اس آسمانی کتاب کا مطالعہ کرتا ہوں جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اس کے اتارنے والے نے لی ہوئی ہے اور تمام نسلِ انسانی کو واضح طور پر یہ پیغام دے دیا کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں تو دماغ کے دروازے اور دل کے دریچے کھلنے لگتے ہیں اور ہُو‘ ہُو ہونے لگتی ہے‘ یہ دہائیاں بے چینیوں کو قرار دینے لگتی ہیں کہ‘
؎ کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے‘ وہی خدا ہے
دکھائی بھی جو نہ دے‘ نظر بھی جو آ رہا ہے وہی خدا ہے (مظفر وارثی)
؎ تجلّی تیری ذات کی سو بسو ہے
جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے

Advertisements
julia rana solicitors

میں اس لیے اسلام کا پیروکار ہوں کہ یہ مجھے نغمہ توحید گانے اور اس پر عمل کرنے کی صلاح دیتا ہے‘ جس نے مندر‘ چرچ‘ گردوارہ وغیرہ اور وقت و دن کی پابندی ختم کرکے تمام روئے زمین کو میرے لیے مسجد بنا دیا۔ یہ وہ مذہب ہے جس میں‘ کوئی پیدائشی شہزادہ نہیں ہوتا بلکہ فضیلت کی بنیاد ذاتی کاوش ہے‘ کوئی یہ نہیں کہتا کہ وہ پیغمبروں کی نسل سے اور خدا کے لاڈلے ہیں لہٰذا جو چاہے وہ کریں اور خدا اس سب کے باوجود انہیں جنت میں داخل کر دے گا‘ تثلیث جیسے عقیدے کا کوئی تصور نہیں‘کوئی کسی دوسرے کے اعمال کا بوجھ نہیں اٹھائے گا یعنی نیک عمل کرے گا تو اپنے لیے اور برے کرے گا تو اپنے لیے‘ نسلی تفاخر نہیں اور جو برہمن و شودر کی تفریق پیدا کر کے انسانیت کی تذلیل نہیں کرتانہ ہی اعلیٰ و نیچ ذات جیسے الفاظ سننے کو ملتے ہیں‘ کسی خاندان کی غلامی نہیں اور شخصیت پرستی ممنوع ہے‘ بادشاہت کی بجائے خلافت ہے‘ مجھے چلّے کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی‘ دوردراز کا سفر کر کے رب کو منانا نہیں پڑتا‘ اپنے جیسے انسانوں کو مشکل میں پکارنا نہیں پڑتا‘ لات منات عزّیٰ کے نام کے چڑھاوے نہیں چڑھانے پڑتے‘ ہر در پر ماتھا نہیں ٹیکنا پڑتا۔
؎ کہ ہے ذاتِ واحد‘ عبادت کے لائق
زبان اور دل کی شہادت کے لائق
اسی کے ہیں فرماں اطاعت کے لائق
اسی کی ہے سرکار خدمت کے لائق
لگاؤ تو لو اس سے اپنی لگاؤ
جھکاؤ تو سر اس کے آگے جھکاؤ
مبرّا ہے شرکت سے اس کی خدائی
نہیں اس کے آگے کسی کو بڑائی (الطاف حسین حالیؒ)

Facebook Comments

مرِزا مدثر نواز
ٹیلی کام انجینئر- ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply