کل کی ہی بات ہے کہ میں تنہا بیٹھا ہوا تھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا
کہ آواز آئی
“سچی اوئے”ہاں ناسچی ، کیا میں بھی اب تجھ سے جھوٹ بولوں گا ، کوئی کرنے والی بات کر یار!
“یار میں سانس لیتا ہوں تو اس سانس سے کچھ لوگ خوش ہوتے ہیں میں کسی سے بات کرتا ہیں تو وہ بات کرکے اچھا محسوس کرتے ہیں میں ہوائوں کی طرف ہوں تو ہوائیں مجھ کو راحت بخشتی ہیں میں جانوروں کی طرف دیکھتا ہوں یا انکی طرف جاتا ہوں تو وہ خود کو مجھ سے محفوظ سمجھتے ہیں میں راستے پر چلتا ہیں تو راستے مجھے ماں جیسا پیار دیتا ہے”
حیران ہوتے ۔۔کیا؟کیا؟؟؟
نہیں یار ۔۔۔۔
میں سانس لیتا ہوں تو لوگ مجھ سے خفا ہوتے ہیں ، ہوائوں کی طرف جاتا ہوں تو ہوائیں مجھےچین نہیں دیتی ہیں ، کسی سے بات کرتا ہوں تو لوگ مجھ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں ، جانوروں کی طرف جاتا ہوں تو مجھ سے بھاگنے لگتے ہیں میرے ساتھ اٹھکیلیاں کرتے ہیں راستوں پہ چلتا ہوں تو راستے کبھی ادھر لے جاتے ہیں تو کبھی ادھر لے جاتے ہیں۔ہمیشہ ہی گمراہ کرتے رہتے ہیں۔
پر کیا ویسا بھی ہوتا ہے؟؟ جیسا تم نے بیان کیا؟
“تو اور کیا ۔ایساہی تو ہوتا ہے اور اس کو تو لوگوں نے بھلا دیا ہے۔ میری جان”کسے؟کسے بھلا دیا گیا ہے؟”محبت کو”میری جان؛
محبت کو بھلا دیا گیا ہے۔کیا ایسا نہیں ہے؟
ایسا ہی ہے میری جان محبت کو بھلا دیا گیا ہے۔محبت کو تو پیارے اللہ جی نے تمھارے اندر سمویا ہے۔۔ اسی محبت کی وجہ سے تو سب انسانوں کو ، دنیا کو اور اس کائنات کو اللہ جی نے بنایا ہے ۔تم کتنے برے ہو تمھارے دلوں کے اندر تو بغض بھرا ہوا ہے ۔۔حالانکہ اللہ نے جب پیدا کیا تھا تو تمھارے دل کے اندر محبت اور الفت بھری تھی تم نے اس کو دل کے اندر سے نکال کر بغض بھر لیا ہے۔
شاید،
شاید نہیں یقینا ًاسی بغض کی وجہ سے ہی کتنے برے بولتے ہو کہ زہر ہی بولتے ہو اور زہر ہی سنتے ہو۔
تم سے تو تمھاری زبان بھی پناہ مانگتی ہوگی تم تو وہ بولتے ہو جو کہ بولنے کے لیے ہے ہی نہیں
ترس آتا ہے تم پر۔۔۔۔۔۔
پر آخر ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟ وہ تمھارے جسم کے اندر ایک چھوٹا سا گھر جوکہ محبت اور الفت نامی کسی چیز کا ہے۔
اس میں تم نے اس کو اپنے گھر سے بے دخل کرکے اس کے گھر کو بغض اور کینے کے حوالے کردیا ہے۔یہ ظلم اور ناانصافی تم نے کیوں کی؟
سنو اس طرح ظلم اور ناانصافی مت کرو۔میں تو تمھارا اپنا اندر ہوں ۔۔
تمھارا اپنا خیال ہوں۔۔۔
میں تو صرف اور صرف تمھارا ہوں ۔۔میری جان میں یہ چاہتا ہوں کہ تم جس بے چینی میں ہو اس سے نکل جاو۔جس گمراہی کی طرف جارہے ہو نہ جاو۔جو ظلم اور ناانصافی کررہے ہو وہ نہ کرو۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں