علم کی مسماری کے بعد تعلیمی نوکریوں کی مسماری/یاسر جواد

گزشتہ تیس سال کے اندر اندر مقتدر قوتوں نے کامیابی کے ساتھ معاشرے کے کئی لڑکھڑاتے ہوئے شعبوں کو مسمار کر دکھایا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو لاہور میں نجی ویگنوں کی انجمن کے سربراہ مولوی لہولہان کی خاطر برباد کیا گیا۔ فیروزپور روڈ پر پی آرٹی سی کا ڈپو بسوں کا قبرستان بن گیا جن کے کئی بھوت کوٹ عبدالمالک اور شرقپور جیسے علاقوں میں نجی ٹھیکوں پر دیے گئے۔
دریائی اور نہری نظام بھی شدید لاپروائی اور بدانتظامی کا شکار ہوا۔ مثلاً گجرات میں اگر کوئی سڑک چوڑی کرنی پڑی تو ایک طرف سے بیس فٹ کی بجائے دونوں طرف سے دس دس فٹ چوڑی کی گئی تاکہ دونوں طرف کے شیشم کے درخت نیلام کر کے بیچے اور خود ہی خریدے جا سکیں۔ دریاؤں پر ریت کے ٹھیکے ایک الگ کہانی ہیں جن پر ایم این اے نامی جتھوں کا راج ہوتا ہے۔
صحت کے شعبے کو ہم سبھی جانتے ہیں، کہ کیسے ڈاکٹر حضرات محض اپنے نجی کلینک کے لیے گاہک گھیرتے ہیں اور مطالبات منظور نہ ہونے پر ایمرجنسی بھی بند کر دیتے ہیں۔
عدلیہ تو ہے ہی ایسا شعبہ جِس میں جمہوریت سب سے آخر میں آتی ہے، اور پاکستان جیسے معاشروں میں تو کبھی نہیں آتی۔ آج آپ نے اگر کسی سے دو لاکھ روپے لینے کا مقدمہ درج کروانا ہو تو درخواست کے ساتھ 15000 روپے کورٹ فیس جمع ہوتی ہے، تیس چالیس ہزار روپے وکیل لے لیتا ہے۔ پانچ چھ پیشیوں کے بعد آپ ایک لاکھ روپے جیب سے خرچ کر چکے ہوتے ہیں۔ ’’عدالت میں گھسیٹنے‘‘ کی دھمکی یونہی نہیں بنی۔
اب اساتذہ سراپا احتجاج ہیں، کیونکہ ہزاروں سرکاری سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کیے جانے کی اطلاع ہے۔ شہروں کی مڈل کلاس کے بچے ویسے ہی ان سکولوں میں نہیں جاتے، لہٰذا شہری لوگ سوشل میڈیا وغیرہ پر اُسی طرح ان اساتذہ کی بپتا سے ہمدردی نہیں رکھتے، جیسے یہ اساتذہ دوسروں کے کسی مسئلے میں ساتھ نہیں دیتے۔
دو عشرے پہلے تک کلرکوں، ریلوے مزدوروں، اساتذہ اور صنعتی مزدوروں وغیرہ کی انجمنیں موجود تھیں۔ اب سب کچھ مسمار ہو چکا ہے۔ ’آواز‘ کا ہر شعبہ ایک ایک کر کے ختم ہو چکا۔ سکولوں کی نج کاری سے سرمایہ دار فائدہ اٹھائیں گے، اساتذہ پنشنوں سے محروم ہوں گے اور اُنھیں کام کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔
بس مذہبی تنظیمیں اور جماعتوں، مدنی چینل وغیرہ کو استحکام اور ترقی حاصل ہے۔ اور یہی ہمارا مستقبل ہے۔ اساتذہ کو اب پتا چل جانا چاہیے کہ اُنھیں عقل چُوس کیوں پہنائے گئے، جیسے اُن کے ذہن اب ہیں، یہ خاص مقصد کے تحت بنائے گئے۔ اور وہ آگے سے طلبا کو بھی اپنے جیسا بناتے رہے ہیں۔ اُنھوں نے نوکری مل جانے کو ہی زندگی کی آخری منزل سمجھا۔ اب نوکری نہ رہی تو وہ کیا کریں گے؟

Facebook Comments

یاسر جواد
Encyclopedist, Translator, Author, Editor, Compiler.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply