پچاس لاکھ کی گاڑی اور 10 روپے کا سوال

صاحب جی 10 روپے دے دو روٹی کھانی ہے۔ سگنل بند ہوتے ہی وہ شیشے کی جانب لپکی، اسٹاپ پر کھڑی زمانے کی گرد کو اپنے چہرے پر سجائے اس لڑکی نے انگلی اپنے رب کی طرف اٹھاتے ہوئے بابو صیب سے سوال شکم کیا –

میں بائیک پر بیٹھا ہیلمٹ کا شیشہ اوپر کرتے ہوئے سگنل کھلنے کا انتطار کر رہا تھا کہ یکا یک ایک بچہ بھاگ کر گاڑی کی عنڈ اسکرین کو اپنے ٹوٹے وائپر کے فوم سے صاف کرنے لگا۔ پیپ پیپ ہٹو کیا کر رہے ہو شیشہ گندہ کر دیا بابو صیب بچے کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنی پچاس لکھ کی گاڑی کی تعریف گھڑتے ہوئے " ہٹو نا پتہ ہے کتنی مہنگی گاڑی ہے ستیا ناس کر دیا شیشے کا" گاڑی کے اندر سے بچے کو ہٹنے کا اشارہ کرتے ہوئے مخاطب تھے –

بچہ جلدی سے نیچے اترا اور اپنی ماں کے پاس آکھڑا ہوا اور ندامت کے آنسو چہرے پر سجائے بابو صیب کے تلخ لہجے کو اپنی معصوم سی مسکراہٹ میں دبوچتے ہوئے اپنے دامن سے پیشانی سے ٹپکتا پسینہ سکھاتے ہوئے شیشے کے اندر بیٹھے بابو صیب کو دیدہ طلب سے تکنے لگا –

شرم نہیں آتی، پورا فیملی لیکر مہنگی گاڑی دیکھتے ہی آ چپکتے ہو، کچھ حیاء ہوتی ہے، تمیز نام کی کوئی چیز ہوتی ہے، پوری فیملی کو کام تقسیم کر رکھا ہے، ایک مانگے، ایک گاڑی صاف کرے، ایک اسٹاپ کنارے بیٹھ کر رونا دهونا لگا رکھے، کسی فیکٹری یا بنگلے میں کوئی کام کاج کرو ،محنت کر کے کماؤ اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرو، بابو صیب اپنا کالر درست کرتے ہوئے سوالوں کے ڈرون برساتے سینہ چوڑا کرتے ہوئے ظالم آنکھوں سے ماں بیٹے کو دیکھتا رہا –

بابو صیب اللہ کسی کو محتاج نہ کرے ہمارے لیے یہ بھی محنت ہے ہم کوئی بناوٹی بھکاری نہیں، کسی فیکٹری اور تمہارے جیسے سیٹ لوگوں کے بنگلے میں کام کاج سے بہتر ہے ہم بھوکے مر جائیں جہاں تم جیسا پڑها لکھا بھی کسی جاہل سے کم نہیں تم جیسا اپنے گھر میں جھاڑو پونچھا کرنے والیوں کو اپنا غلام سمجھ بیٹھتا ہے، صبح سے لیکر شام تک وہ تمہارے کپڑے سے لے کر چپل تک صاف کرے اور اسے پانی تک کا نہ پوچھو ، فیکٹری میں کام کر کے ہوس کے پجاریوں کی گندی آنکھوں سے یہ بھیک بہتر ہے جاؤ جاؤ، اللہ تمہیں پھر بھی بہت دے اور تھوڑا سا تمیز اور کسی مفلس سے بات کرنے کا ڈهنگ بھی ۔ مفلس کی آہ سے بچو، سگنل کھلتے ہی بابو صیب اپنی 50 لاکھ کی گاڑی کو ایک مفلس کی بے عزتی کے ساتھ چلتے بنے –

دوستوں یہ رب کریم کی ہی دین ہے کسی کو زیادہ کسی کو کم، کسی کو اتنا کہ وہ سنبھال نہ سکے اور کسی کو اتنا کہ وہ پائی پائی کا محتاج ۔جو محتاج ہے آپ کا فرض بنتا ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اور اچھا برتاو کریں، انکی ضروریات کو پورا کریں۔ اگر یہ نہیں کر سکتے تو اپنے اخلاق سے ہی انکا دل جیت لیں تاکہ وہ ہنسی خوشی آپ کے سلوک کی بدولت آپ کو دعا دے دے ناکہ اس پڑهے لکھے مسٹر جنٹل مین کی طرح تلخ لہجے اور بدسلوکی سے اپنی ہی عزت لے ڈوبے اور کسی مفلس کی آہ کو اپنے لیے آہ بنا بیٹھے – ( اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو )

عمیر اقبال
ابھی تعارف کے قابل نہیں ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *