علاقائی جرگوں کے فیصلے/قمر رحیم

کم و بیش چار پانچ ماہ سے ضلع پونچھ آزاد کشمیر کے کئی ایک دیہاتوں میں علاقائی جرگوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ان جرگوں میں شادی بیاہ کی تقریبات و رسم و رواج مرکزی اہمیت کے حامل رہے۔

 

 

 

 

 

 

بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث شادیوں کو آسان بنانے کے لیے تقریبا ً سبھی جرگوں نے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہ طے کیا کہ:

Advertisements
julia rana solicitors london

شادی کی دعوت میں ون ڈش یا بہت سادہ یا کم خرچ کھانا دیا جائے۔
زیور کو دو یا تین تولہ سونا تک محدود کر دیاجائے۔
جہیز کی رسم کو ختم کر دیا جائے۔
مہر کی رقم ممکنہ حد تک کم کر دی جائے۔
معاشروں نے اپنے مسائل کو حل کرنے اور ایک مہذب زندگی گزارنے کے لیے قوانین، ادارے اور ریاستیں بنائیں اور ترقی کی راہ پر چل نکلے۔ بر صغیر میں ریاستوں نے معاشروں کو غلامی کے طوق میں جکڑ کر انہیں بانجھ کیے رکھا۔ اس لیے ہمارے ہاں یہ تصور پنپ ہی نہ سکا کہ معاشرے اداروں یا ریاستوں کی تشکیل کرتے ہیں۔ بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ادارے (سول ادارے)یا ریاستیں معاشروں کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی تمام تر خرابیوں کاذمہ دار اداروں کو قرار دیتے ہیں۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ ہمارے ہاں نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ادارے منصوبہ بندی کے تحت معاشروں کو برباد کر رہے ہیں۔ لیکن ہم یہ نہیں دیکھتے کہ خرابی کا منبع کہاں پر ہے۔ خرابی ریاست یا اداروں کے اندر آتی کہاں سے ہے؟ خرابیوں کا بنیادی منبع معاشرہ ہے۔جب تک فرد اورمعاشرے کے اندرسے خرابی دور نہیں ہوتی، اداروں کے اندر بہتری نہیں آسکتی۔ انگریزی کا مقولہ ہے Garbage in garbage out۔
سو متذکرہ بالا جرگے اصلاح احوال کے لیے قائم ہوئے۔یہ ایک اچھا کام ہے۔خصوصاًایسے وقت میں جب ریاست بوسیدگی کا شکار ہو اور حکمران طبقہ کی نظر اپنے پیٹ سے اوپر نہ اٹھ رہی ہو۔معاشرے کو سیلف ڈسپلن کی طرف لے جانا ہماری ضرورت ہے۔ لیکن اس کام کے لیے معاشرتی ارتقا، تاریخ، سوشیالوجی اور اخلاقیات کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ معاشرہ اچھے اور اہل لوگ پید اکرے گا تو ریاست اچھے اور اہل ہاتھوں میں جائے گی۔ مگرصرف اس صورت میں جب اصلاح احوال کی کوششوں کا نشانہ لوگ ہوں، نہ کہ رسم و رواج۔رسم و رواج کلچریا ثقافت کا حصہ ہوتے ہیں۔ ثقافت ایک چشمے اورپانی کی مانند ہوتی ہے۔اور پانی کبھی چڑھائی نہیں چڑھ سکتا۔ اسے چڑھائی پر لے جانے کے لیے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس طاقت کا حشر ہم پنجاب میں دیکھ چکے۔ کلچر نے ریاست کو شکست دے دی۔ ایسے میں جرگوں کی کیا طاقت کہ وہ معاشرتی رحجانات یا کلچر کی راہ میں حائل ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے شادی بیاہ اور عمومی کلچر میں کئی ایسی چیزیں در آئی ہیں جو ہمارے لیے اجنبی بھی ہیں، نامناسب بھی، مہنگی بھی اور کئی ایک خرابیوں کا باعث بھی ہیں۔
ان چیزوں یا خرافات کو ہمارے ہاں ایک گیپ ملا ہے تو انہوں نے جگہ بنائی ہے۔ اور یہ گیپ ہم نے انہیں مہیا کیا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماڈرن کلچر اورپرانا کلچر دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن ایک ایسے ماحول میں جہاں ہم پرانے کلچر کو خراب سمجھ کر ترک کردیں گے توماڈرن کلچر اس کی جگہ لینا شروع کر دے گا۔ مثلاً ہم نے شادیوں کے پرانے رسم و رواج کو ترک کیا تو ہماری شادیوں میں میڈیا کلچر نے جگہ بنا لی۔ باجے اور ڈھول کی جگہ کئی اور خرافات نے لے لی۔ کیوں؟
اس لیے کہ جب لوگ شادی بیاہ کے موقع پر تفریح کے روائتی کلچر سے محروم ہوئے تو انہوں نے الٹی سیدھی چھلانگیں لگانا شروع کردیں۔ہمارے روائتی کلچر میں بے حیائی اوراجنبیت نہیں تھی۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری شادیاں سادگی سے ہوں۔ شادیوں میں سادگی وہاں ہوگی جہاں زندگی میں سادگی ہوگی۔ معاشرہ ایڈوانس ہو اور شادیاں سادہ ہوں، یہ ممکن نہیں ہے۔لہٰذا ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق کرے۔ جو ون ڈش اور دو تولہ دیناچاہے خوشی سے دے۔ مگر یہ قاعدہ کلیہ لاگو نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح شادیوں میں نمود و نمائش سے بچنا چاہیے۔ لیکن یہ بھی مشکل کام ہے۔ اس لیے کہ معاشروں میں ہر وقت ایک ایسا طبقہ موجود رہتا ہے جو لوئر کلاس یا لوئر مڈل کلاس سے جب اپر مڈل کلاس یا اپر کلاس تک پہنچتا ہے تو recognitionکی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ اس لیے وہ شادی بیاہ کی تقریبات میں فضول خرچی کر کہ اپنا قد کاٹھ اونچا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔حالانکہ سماجی حیثیت کا تعین کرنے والے عوامل کچھ اور ہوتے ہیں۔ جن کا اگر اس طبقہ کو شعور بھی ہو تو وہ اس طرف نہیں جا سکتا۔شادیوں میں ون ڈش پر میرے تحفظات ہیں۔ اس لیے کہ مہنگائی کے اس دور میں مجھ جیسا سفید پوش آدمی اگر پیٹ بھر گوشت ہی کھا لیتا ہے تو کتنی خوشی کی بات ہے۔شاید پوری شادی میں یہی ایک عمل اچھا ہو۔
مختصراً یہ کہ شادی جیسی تقریبات کو قواعد و ضوابط کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔البتہ حیرت اس بات پرہے کہ جو چیز لاگو کرنے کی ہے اسے ان جرگوں نے اجتماعی طور پر نظر انداز کیا ہے۔بیٹیوں کے جائداد میں حق کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ہم بیٹیوں کو ان کا حق نہیں دیتے، یہ انفرادی سطح پر اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن جب ہم نے جرگوں کی سطح پر جمع ہو کر بھی اس خلاف ورزی پر کوئی توجہ نہیں دی بلکہ اسے بھاڑ میں ڈال دیا توکیا ہمیں اللہ کے عذاب کا انتظار نہیں کر نا چاہیے؟
دوسرا ظلم جو ان جرگوں میں ہوا، اس کو بیان کرنے سے پہلے رائج شادیوں میں زیور، مہر وغیرہ کی اصل حقیقت کو دیکھ لیتے ہیں۔سب سے پہلے مہر کو دیکھ لیجیے۔ آج کل مہر مقرر کر نے کے عمومی طور پر دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ مہر کی رقم کو زیور کی قیمت سے منہا کر دیا جاتا ہے۔ دوسرا اسلامی مہر ہے۔ جسے مہر فاطمی ؓبھی کہا جاتا ہے۔یعنی حضرت فاطمہؓ کا جتنا مہر۔ یہ مہرہمارے سرآنکھوں پر۔ لیکن ایک سوال علما سے، کہ کیا اس دور میں معاشی حالات یا مہنگائی کا تناسب اور زندگی کی ضرورتیں اتنی ہی تھیں جتنی آج ہیں؟ اب آتے ہیں پہلی قسم کے مہر پہ۔اس صورت میں عورت کو اس کے مہر کی ادائیگی زیور کی شکل میں ہو گئی ہے۔ لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے۔ یہ زیور کبھی بھی عورت کی ملکیت نہیں بنتا۔ اس بھید سے پردہ اس وقت اٹھتا ہے جب معاملہ خدا نخواستہ طلاق یا خلع تک پہنچتا ہے۔ عورت سے زیور چھین لیا جاتا ہے۔ خلع کی صورت میں یہ جواز پیش کیا جاتا ہے کہ عورت خلع لینے کے بعد زیور کی حقدار نہیں رہتی۔ یہاں تو با قاعدہ ایک کلیے قانون کے تحت عورت کو اس کی ملکیت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ لیکن دوسری صورت میں بھی سسرال والے بہو کو کسی صورت زیور نہیں لے جانے دیتے۔ بلکہ کئی ایک مثالیں ایسی ہیں جس میں بہو سے زیور چھین کر اس پر الزام لگا دیا جاتا ہے کہ زیور تو اس نے اپنے میکے میں رکھا ہوا تھا۔
اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زیور بچیوں کو صرف پہننے کے لیے دیا جاتا ہے۔ وہ ان کی ملکیت نہیں ہوتا۔ہماری کمینگی دیکھیے کہ استعمال کے لیے دیا جانے والاسات یا دس تولہ زیور بھی ہم نے دو تولہ تک محدود کر دیا۔ اب بات آتی ہے جہیز پر۔ ایک ڈنر سیٹ اور ایک بیڈ روم کے فرنیچر سے بھی ہم نے انہیں محروم کر دیا۔ گویا ہماری بچیاں ان چیزوں سے بھی حقیر ہیں۔
جرگوں کے ان فیصلوں کا براہ راست فائدہ لڑکے کو پہنچتا ہے۔ وہ لڑکا جو تقریباً ان پڑھ بھی ہے، نافرمان بھی ہے، نالائق بھی ہے اور ناکارہ بھی۔ اسے ہم نے ایک ایم ایس سی، ایم فیل، پی ایچ ڈی لڑکی دو تولہ زیور کے بدلے تھما دی۔ دو تولہ سونا، ون ڈش کھانا اور چار جوڑے کپڑے لاؤ اور ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی کی زندگی برباد کرتے پھرو۔مہنگائی سے نمٹنے کا یہ طریقہ ہے کہ بچیوں کو قربان کر دو؟لڑکوں پر بھی تو کوئی نظر رکھیے۔ان کی تربیت کیجئے، انہیں اس قابل بنائیے کہ وہ کمائیں اور شادی کریں۔
جائداد کے حق سے محروم، زیور کی عارضی خوشی سے محروم، رنگ برنگے کپڑے پہننے کی چھوٹی سے خوشی سے محروم، جہیز کی نشانی سے محروم۔۔یہ تمہاری بیٹی ہے یا تمہاری گائے ہے؟اور یہ شادی ہے یا جنازہ ہے؟
دل کرتا ہے اپنا گریبان پھاڑ ڈالوں اور ایسے ہی گریبان پھٹے لوگوں کا ایک جلوس لے کر شہر میں نکلو ں تاکہ کسی کو احساس ہو کہ ہمارے ہاں کیا ہو رہا ہے۔.

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply