تیسری عالمی جنگ کا نقارہ اور ہماری تیاری

امتِ مسلمہ اس وقت بہت سے مسائل اور سازشوں کے بھنور میں ہے۔ کہیں امت مسلک کی بنیاد پر لڑ رہی، کہیں کفار کے ہاتھ پس رہی ہے ، کہیں نظریاتی یلغار کی زد میں ہےاور کہیں مفلسی کا شکار ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت جسے بہر حال ہمیں تسلیم کرنا ہو گا۔کیونکہ جب تک ہم اپنے بنیادی مسائل کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ہم اپنی بڑھتی مشکلات پر قابو بھی نہیں پا سکیں گے۔ اس لیے ہمیں مایوسی سے بچتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت ہمت و حوصلے کے ساتھ اپنے مسائل کو سمجھنا ہو گا تا کہ ہم ان کا کچھ حل نکال سکیں۔

عالمی سیاست کے حوالے سے گزشتہ ماہ کا سب سے بڑا مسئلہ یروشلم کا ہے۔امریکی صدر احمق ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت   تسلیم کیا اور امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا حکم دیا۔جس کے بعد انہیں مغربی ممالک کی جانب سے بھی شدید مخالفت اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ٹرمپ کے اس بیان کے  بعد مشرقِ وسطیٗ میں بھی فوراً ہنگامے پھوٹ پڑے ۔ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے  شدید ردِ عمل سامنے آیا اور انہوں نے امریکی صدر کو  خبردار کیا۔ پاکستان کی جانب سے  بعد ازاں اس کی مذمت کر دی گئی۔ یہاں پر ہمیں اپنی غفلت تسلیم کرنا ہو گی کہ جب ٹرمپ   اسلام مخالف بیان پر مشرقِ وسطیٗ میں ایک طوفان کھڑا ہو گیا تھا اور سارے عرب میڈیا اور خصوصاً ٹوئیٹر پر یہ سب سے زیادہ بحث کیے جانے  والا موضوع بن چکا تھا اس وقت ہمارے عام عوام جو معلومات کے لیے میڈیا پر انحصار کرتے ہیں انہیں اس بیان کی بھنک تک نہیں پڑی تھی۔

امریکی صدر کا یہ متنازعہ بیان دینا اس قدر سادہ اور سیدھا نہیں ہے جتنا یہ بظاہر نظر آ رہا ہے۔ اس بیان سے امریکہ کی اسرائیل نوازی اور وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کا مقام کھل کر سامنے آ گیا ہے۔اس وقت پوری مسلم امہ چیلنج ہو چکی ہے اور مسلم حکمرانوں کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔اگر ہم چند سال پیچھے چلے جائیں تو ہمیں اس بیان کا پسِ منظر با آسانی سمجھ آتا  ہے کہ سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہنری گسنجر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ “اپنی حماقتوں کی وجہ سے چین اور روس کسی قابل نہیں رہیں گے اور یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل جیتیں گے۔اسرائیل کو یہ جنگ اپنی پوری طاقت اور ہتھیاروں کے ساتھ لڑنا ہو گی”۔ اور مزید یہ بھی کہا کہ” مشرقِ وسطی میں تیسری عالمی جنگ کا نقارہ بج چکا ہے جو اسے سن نہیں رہے وہ بہرے ہیں” او ر اس سے بھی بڑی بات جو اس شخص نے کی جس سے اس جنگ میں ان کی توجہ اور دلچسپی عیاں ہوتی ہے کہ “امریکہ اور یورپ کے نوجوانوں کو گزشتہ دس سال سے پوری طرح تربیت دی جا رہی ہے اور جب ان کو حکم دیا جائے گا  وہ پاگلوں کی طرح لڑیں گے اور حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مسلمانوں کو تباہ کر دیں گے ، امریکہ اور اسرائیل نے روس اور ایران کے تابوت تیار کر لیے ہیں اور ایران اس کے لیے آخری کیل ثابت ہو گا”۔

ٹرمپ کا یہ بیان دراصل امریکہ اور اسرائیل کے اس منصوبے کی کڑی ہے۔اور ہنری گسنجر خود ایک کٹر یہودی ہے اور مسلمانوں کے خلاف یہ زہر امریکی وزیرِ دفاع کے لبادے میں اس کے اندر کا یہودی اگل رہا تھا ۔لیکن جو کچھ بھی ہنری گسنجر نے کہا اس میں بالکل دو رائے نہیں ہے۔ یہ بات تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ کس طرح یورپی ممالک اور خصوصاً اسرائیل نے اپنے نوجوانوں کی عسکری تربیت کے اوپر توجہ دی ہے۔ گہرائی میں جائے بنا بس اتنا ملاحظہ  جان لیجیئے کہ انٹرمیڈیٹ تک ہر اسرائیلی طالبِ علم کو اسلحہ کی مکمل تربیت حاصل کرنا ہوتی ہے  جبکہ بیچلر کی ڈگری   حاصل کرنے کے لیے انہیں کسی مسلمان ملک کے خلاف عملی طور پر دو بدو جنگ میں شریک ہونا ہوتا ہے، اور جب تک وہ کسی جنگ کا عملی طور پر حصہ نہیں بنتے انہیں ڈگری نہیں دی جاتی۔ ایسا نہیں ہے کہ محض یورپی ممالک ہی   نوجوانوں کی نظریاتی و جسمانی تربیت پر توجہ دے رہے ہیں بلکہ ہمارا  پڑوس انڈیا جو کہ اپنے عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے، ایک ایسا ملک ہے  جس کی آبادی کا بہت بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے وہاں بھی نوجوان نسل کو باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے۔ ہمارے دشمنوں نے  اس لحاظ سے بہت سا ہوم ورک کر لیا ہے ۔ لیکن ہم نے نہ اپنے نوجوانوں میں آگاہی پیدا کی اور نہ ہی ان کی تربیت کی۔ یہ ایک بہت بڑا خلا ہے  جسے پر کرنا ہو گا۔ این سی سی کے نام سے جو تربیت ہمارے تعلیمی اداروں میں پہلے طلبا کو دی جاتی تھی اس کا آغاز دوبارہ سے کرنا ہو گا۔

انیسویں صدی کے نصف میں اٹھارہ سو سال تک جس طرح دنیا بھر کے یہودی ایک منصوبے  کے تحت اس سرزمین کی طرف واپس آئے جہاں  سے انہیں کئی مرتبہ خوار کر کے نکالا جا چکا تھا اور کس طرح انہوں نے  ایسی زمینیں خریدیں جو بالکل  غیر  آباد تھیں اور جنہیں  کوئی دیکھتا ہی نہ  تھا یعنی حیفہ اور بتاح تکفا کے علاقے جو اس وقت ریگستان تھے۔غیر  آباد اراضی خرید کر وہاں اپنے قدم مضبوط کیے اور پھر اردگرد کے لوگوں کو پیچھے دھکیلنا شروع کیا اور پھر قومی گھر کے نام پر برطانیہ اور امریکہ نے مسلمان ممالک کے قلب میں ایک خنجر پیوست کر دیا تاکہ مسلمانوں کے خلاف اپنے مذموم مقاصد کو یقینی  بنایا جا سکے ۔اسرئیل کے تخلیقی مقاصد میں ہی توسیع پسندی شامل ہے ۔ دنیا کے نقشے پر موجود اسرئیل واحد ملک ہے جس کی حدود مقرر نہیں ہیں بلکہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی گئی ہیں جس کی وجہ سے ارد گرد کے عرب ممالک سکڑ کر رہ گئے ہیں۔امریکہ کی شہ پر اسرائیل کی توسیع پسندی کی پالیسیوں کی وجہ سے ہی مشرقِ وسطیٗ آگ و خون میں ہے۔

عین اس موقع پر جب مشرقِ وسطیٗ میں انتشار ہے امریکی صدر کا یہ بیان مسلم دنیا کے عالمِ کفر کی جانب سے ایک للکار ہے۔ اب یہ مسئلہ صرف فلسطین یا عرب ممالک کا نہیں رہ گیا بلکہ تمام مسلمان ممالک کا یہ دینی اور اخلاقی فرض بنتا ہے کہ قبلہ اول کے دفاع کے واسطے محض بیانات کے تبادلے سے نکل کر  کچھ عملی اقدام کریں۔ہم اس وقت ایسے موڑ پر آن کھڑے ہوئے ہیں کہ اگر ہم نے  آج غفلت برتی تو یہ غفلت امت کے استحکام کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو گی بعد میں جس کا مداوا شاید مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے۔

قارئین کرام! امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی جانب دھکیل دیا ہے۔ اور عملاً یہ بات ثابت کر دی ہے کہ امریکہ کو دنیا کے امن اور سلامتی سے کوئی سروکارنہیں ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے  اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے پر اقوامِ متحدہ کے ایکشن نہ لینے پر اس بات پر بھی مہر لگ گئی ہے کہ یہ عالمی ادارے بھی ان کافروں نے صرف اپنے مفاد کے لیے بنا رکھے ہیں۔ اور اب  وقت آ چکا ہے کہ ہم بھی تمام باتوں کو تسلیم کر کے اپنی تیاری کریں۔آج پورا عالمِ کفر مسلمانوں کے خلاف ایک پیج پر آ چکا ہے۔ہمیں بھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا ہو گا۔ہمیں تیسری عالمی جنگ کا خطرہ تسلیم کرنا ہو گا۔چونکہ پاکستان  ایٹمی قوت ہے پاکستان کو کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔اس وقت پوری امت کے مسلمان روتے بلبلاتے بچے، امت بیٹیاں اور ہمارا اثاثہ ہمارے بزرگ امید بھری نظروں کے ساتھ پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔اور ہمارے حکمران ذاتی مفادات کی سیاست سے ہی باہر آنے کو تیار نہیں۔ ہمارے وزراء اپنے فرائض کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔اب تک جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا لیکن اب ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ہمیں امت کے آنسو پونچھنے ہیں اور زخموں پر مرہم رکھنا ہے۔ ہمیں قومی مفاد اور امت کے استحکام کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی از سرِ نو ترتیب دینا ہوگی۔ ہمارے حکمرانوں کو امریکہ کی ذہنی غلامی سے نکلنا ہو گا۔اب ہمیں امریکہ کے ڈو مور کے آگے لیٹنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ہمیں امریکی ڈالروں کی ضرورت اور نہ ہی ہمارا کسی بھی قسم کا کوئی بھی سٹریٹیجک یا معاشی مفاد امریکہ کے ساتھ منسلک ہے۔پاکستان  کو بیت المقدس کے دفاع کے واسطے دو ٹوک پالیسی ترتیب دینا ہو گی اور اس مسئلے کے حل کے واسطے مضبوط سفارت کاری کرنا ہو گی۔جس طرح پاکستان نے عالمی اسلامی اتحاد کے قیام میں مرکزی کردار ادا کیا اسی طرح “او آئی سی” کے استحکام اور امت کی صفوں میں اتحاد قائم کرنے کے لیے پاکستان کو کردار ادا کرنا ہو گا۔
اس وقت ملکِ پاکستان سنگین صورتحال سے دو چار ہے ۔ ایک طرف پوری مسلم امہ چیلنج ہو چکی ہے دوسری جانب چانکیا کے نظریات پر یقین رکھنے والا  ہمارا ازلی و ابدی دشمن بھارت وطنِ عزیز پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے۔اللہ نے ہمیں دہشت گردی کی لعنت سے کافی حد تک چھٹکارا دے دیا ہے جس کا سہرا پاک فوج کے سر ہے ۔ لیکن خطرات کا یہ بھنور ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا کیونکہ پوری دنیا اس وقت پاکستان کے خلاف متحد ہے۔ ایک طرف بھارت ایل او سی پر وقتاً فوقتاً اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتا رہتا ہے اور دوسری جانب افغانستان کی سرزمین بھی ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ان موجودہ چیلنجز کا سامنا ہمیں بحیثیتِ قوم کرنا ہو گا۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہماری صفوں میں اتحاد ہو گا۔اللہ ہمیں پاکستان اور دینِ اسلام کے دفاع و استحکام میں کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Abdullah Qamar
Abdullah Qamar
Political Writer-Speaker-SM activist-Blogger-Traveler-Student of Islamic Studies(Eng) at IOU-Interested in International Political and strategic issues.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *