فیض، خلافت اور تاریخ کا بلاتکار۔۔اسد رحمان

ایک صاحب کی تحریر نظر سے گزری جنھوں نے فیض کو غداروں کی فہرست میں شامل کر دیا جو انگریز کے ساتھ مل کر اپنی عوام سے غداری کے مرتکب ہوئے۔
تحریر ویسے تو ان کی تاریخ سے شدید لاعلمی کا ثبوت ہے۔ کیونکہ انھوں نے فیض و ہمنوا کی انگریز فوج میں شرکت کو “تحریک خلافت کا جوابی بیانیہ” بنا کر پیش کر دیا۔ افسوس لوگ پڑھتے بھی نہیں۔ خلافت پہلی جنگ عظیم کا مسلئہ تھا جبکہ فیض کی فوج میں شرکت دوسری جنگ عظیم کا واقعہ۔ فیض فوج میں ترک خلافت کے خلاف نہیں بلکہ جرمن فسطائیت کے خلاف کھڑے ہوئے۔ جرمنی کے عوامی روس پہ حملے نے جو بیانیہ ترتیب دیا یہ اس کا نتیجہ تھا اور کسی بھی طور عوام دشمن نہیں تھا۔

رہی تحریک خلافت تو اپنے مقاصد کے اعتبار سے ایک ہوا میں معلق تحریک تھی جو کہ روایتی مسلمان اشرافیہ کی نئی نسل نے سر سید کے دور سے جاری سر جھکاؤ  پالیسی کی مخالفت میں شروع کیا۔ اس تحریک کے سرخیل جنابِ آزاد کو ان بنیادی حقائق سے بھی تعلق نہیں تھا کہ ترکی میں ینگ ترک حکومت بنا چکے ہیں اور اصل طاقت انہی کے پاس ہے اور اس تحریک کا سیاسی محور ایک سیکولر ریاست کی بنیاد رکھنا ہے۔ پھر 1919 میں ہونے والے معاہدے کے بعد ترک فوج نے یونانیوں کو شکست دینے کے بعد اتاترک نے قیادت سنبھال لی ہے اور یہ ایک طرح سے ان حلقوں کی جیت کے مترادف تھا  جو کہ پچھلی ایک صدی سے یورپی طرز کی ریاست کی تشکیل کے خواہاں تھے۔ اگر علی برادران اور آزاد جیسے عبقری ان زمینی حقائق سے واقف ہوتے تو کیا ایسی بیوقوفانہ سیاسی سٹریٹجی پہ عمل کرتے؟

1923 میں جب اتاترک نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا تو ان سب حضرات کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں تھا ، پھر کوئی ترک موالاتِ کے فتوے  دیتا رہا اور کوئی عوام کو کوسنے۔ اس تحریک نے ہندو اور مسلمانوں کو بظاہر اکٹھا کیا لیکن ہمیشہ کیلئے جدا بھی کر دیا کیونکہ اس کے بعد ہی گاندھی نے سیاست میں مذہبی لغت کا استعمال عام کیا جو کہ مسلمانوں کو اپنے لئے خطرناک محسوس ہوتا تھا۔
اگر جنابِ فارقی صاحب اپنے  مولویانہ استدلال سے باہر نکلیں تو ان کو معلوم ہو کہ اس تحریک کے قریباً  سب بڑے کرداروں نے پاکستان آنا ہی پسند نہیں کیا۔ جس زمانے میں یہ سب جاری تھا اس وقت تک فیض صاحب پالنے میں کھلیتے تھے اور ان کے والد افغانستان کے امیر کے مشیر تھے۔ اب اگر آزادی کے قریب کے سالوں کو بغور نظر دیکھا جائے تو حقائق کی روشنی میں نکلنے والا نتیجہ اس نتیجے سے بالکل مختلف ہے جو کہ فاروقی صاحب نکال رہے ہیں۔ مثلا اگر یہ کہا جائے کہ دوسری جنگِ عظیم میں جن جن لوگوں یا جماعتوں نے انگریز حکومت کی مدد کی وہ غدار ہیں تو محمد  علی جناح بھی اس الزام سے نہیں بچ سکیں گے۔ دوئم اگر یہ کہا جائے کہ فیض جیسے غدار ہندوستانی مسلمانوں کی بجائے کافر انگریز کی حکومت کے ہاتھ مضبوط کر رہے تھے تو وہ سارے مسلم لیگی جو کہ انگریز کی فوج میں بھرتیاں کروا رہے تھے ان کے بارے میں کیا خیال ہے۔
سوئم تاریخی حقیقت یہ کہتی ہے کہ تحریکِ خلافت کے سب سے بڑے رہنما مولانا آزاد نہ صرف یہ کہ دو قومی نظریے کے سب سے بڑے مخالف  تھے بلکہ انہوں نے پاکستان آنا بھی پسند نہیں  کیا اور نہ جمعیت علمائے ہند کے ارکان نے جب کہ فیض اور ان کی جماعت نے نہ صرف پاکستان کی  حمایت کی بلکہ پنجاب کی حد تک تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل اور مینفسٹو کی لکھت بھی کیمونسٹوں نے ہی کی۔ اس سارے تجزیے  سے جو نتائج نکالے جا سکتے ہیں مندرجہ ذیل ہیں:

۱-تحریکِ خلافت کے رہنما ترکی کی سیاست میں آنے والی تبدیلیوں سے آگاہ نہیں تھے اس لئے تحریکِ خلافت نے ہندوستانی سیاست پہ جو اثرات مرتب کیے  لانگ رن میں وہ منفی نکلے، جس میں سب سے زیادہ اہم مذہب کا سیاست میں در آنا تھا جس سے جناح صاحب بھی خوش نہیں تھے۔ اس مذہب کے اوزار کو جب گاندھی نے استعمال کیا تو پھر آزاد جیسے لوگوں کا متھا ٹھنکا اور وہ واپس سیکولر انڈین نیشنل ازم کی جانب مراجعت کرنے پہ مجبور ہوئے۔
2۔ اگر جنگ میں شرکت کو غداری کا سرٹیفکیٹ سمجھا جائے تو جناح صاحب پہ اس کے مرتکب ہیں کیونکہ مسلم لیگ نے دل و جان سے مسلمان بھرتی کر کر کے دوسری جنگِ عظیم کیلئے ارسال کیے۔ اب یا تو سب کو غدار کہیں یا کسی کو بھی نہیں اپنی مرضی سے کسی ایک کے  چناؤ  کا محرک صرف کوئی ذاتی یا نظریاتی مفاد ہی ہو سکتا ہے
3۔ تحریکِِ ِخلافت کے رہنماؤں  کے برعکس فیض اور کیمونسٹوں نے پاکستان کے خیال اور تحریک کو سپورٹ کیا اور بعد از تقسیم پاکستان کو اپنا وطن بھی بنایا۔ کیا اس بنیاد میں ہم مولانا آزاد کو مسلمانوں کا مخالف  اور انگریز کا ٹاؤٹ کہیں گے؟ بالکل نہیں ۔
ایسے میں بس گزارش ہے کہ مطالعہ بڑھائیے اور چیزوں کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کی روایت سے جان چھڑائیے۔ فیض جیسے آسمان پہ پھینکی تھوک خود  آپ کے لیے  مناسب نہیں۔

Avatar
اسد رحمان
سیاسیات اور سماجیات کا ایک طالبِ علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *