گلگت بلتستان میں سیاسی اصلاحات کی تاریخ

گلگت بلتستان تاریخی حوالے سے صدیوں پر محیط ایک خطہ ہے جہاں پانچویں صدی عیسوی سے دردستان، بلورستان اور بروشال کی ریاستیں قائم تھی اور یہ خطہ تبت ریاست کی ایک اہم اکائی تھی لیکن حال کی طرح ماضی میں بھی سیاسی عدم استحکام کے سبب اندرونی تنازعات نے ان ریاستوں کو نہ صرف کمزور کیا بلکہ غیروں کو مسلط ہونے کا موقع بھی فراہم کیا ۔ تاریخ کہتی ہے کہ یہ خطہ ماضی بعید میں بھی بیرونی حملہ آوروں کی زد میں ر ہا لیکن جغرافیائی اور موسمی سختیوں اور مشکلات کے باعث بیرونی حملہ آوروں کو ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اُنیسویں صدی میں گلگت بلتستان پر سکھوں نے قبضہ کر لیا اور101سال تک ڈوگروں کے ماتحت رہے، ڈوگرہ حکمران بلتستان پر براہ راست حکومت کرتے تھے جو کہ ضلع لداخ کا حصہ تھا اور اس کا ہیڈ کوارٹر لہہ میں تھا۔ برطانیہ نے گلگت بلتستان پر قبضے کے لیے پہلے جموں کشمیر کے مہاراجہ کے ذریعے اور بعد میں براہ راست کوشش کی۔ برطانیہ نے وادی کشمیر کو جموں کے ڈوگرہ مہاراجہ کے ہاتھ بیچ دیا اور بعد میں اس نے سکھوں کی گلگت اور دوسری چھوٹی ریاستوں پر حملہ کر کے قبضہ کرنے میں بھی مدد کی۔ تاریخ کہتی ہے کہ1877میں برطانیہ نے اس علاقے کی اہمیت کے پیش نظر ایک برطانوی ایجنٹ کے زیر انتظام گلگت کی سیاسی ایجنسی تشکیل دی۔ جسے کچھ سال بعد واپس لے لیا گیا اور دوبارہ1892میں تشکیل دیا اور ہنزہ نگر اور دوسری چھوٹی ریاستیں یاسین، پنیال اور گوپس کو برطانوی ایجنٹ کا وفادار رہنا پڑا۔ جس سے وہ برائے نام خود مختار رہ گئی تھیں۔1932میں برطانیہ نے کشمیر کے مہاراجہ سے گلگت وزارت ساٹھ سال کے عرصے کے لیے پٹے پر حاصل کی۔ تاہم برطانیہ نے برصغیر سے اپنے انخلاء کے وقت اسے منسوخ کردیا۔ گلگت بلتستان کے عوام آج کی طرح اُس وقت بھی اس بات کو شدت سے محسوس کرتے تھے کہ ڈوگروں نے ہمارے ساتھ ظلم کیا ہے ہماری ریاست پر ناجائز قبضہ کیا ہے یہی وجہ تھی کہ ہر علاقے کا راجہ اپنی بساط کے مطابق ڈوگروں کے ساتھ الجھتا رہا لیکن ناکام رہا۔ تقسیم برصغیر کے بعد مہاراجہ کشمیر نے جب بھارت کے ساتھ الحاق کیا تو کرنل مرزا حسن خان کی قیادت میں ایک دفعہ پھر ڈوگروں کے خلاف نفرت نے سر اُٹھایا اور یکم نومبر1947کو انقلاب گلگت برپا کرکے جمہوریہ گلگت کی بنیاد رکھی۔ آزادی کے فوراً بعد مقامی انقلابیوں نے عبوری کونسل کا قیام عمل میں لایا جس کے تحت شاہ رئیس خان جمہوریہ گلگت کے صدر بانی انقلاب مرزا حسن خان کمانڈر انچیف مقرر ہوئے۔ اس نومولود ریاست نے ابھی مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کرنا باقی تھا کیونکہ اُس وقت گلگت کے کئی علاقے اور بلتستان ریجن آزاد نہ ہوئے تھے لیکن بدقسمتی سے برطانوی سامراجی ایجنٹ میجر بروان نے جب یہ سارا معاملہ دیکھا تو مقامی انقلابیوں کے درمیان فرقہ واریت کو ہوا دی جس میں اُنہیں کامیابی ملی اور ایک ایسے بندے کو جسے صرف پاکستان سے رابطہ آفیسر کیلئے مدعو کیا گیا تھا اس کے ذریعے بغیر کسی قانونی معاہدے کے عوام سے جھوٹ بول کر(کیونکہ مقامی عوام نومولود اسلامی مملکت پاکستان کیلئے ایک جذبہ اور جوش رکھتا تھا) بانی انقلاب کو دیوار سے لگا کر گلگت کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا ڈرامہ رچایا اور سولہ نومبر کو عبوری کونسل کے صدر کو ریاستی سربراہ سے ہٹا کر راشن ڈپو کا انچارج مقرر کیا اور سولہ دن کی حکومت کو سازشوں کا شکار کرنے کے بعد سردار محمد عالم خان نے عوامی لاشعوری سیاسی طور پر ناپختہ ہونے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہاں ایف سی آر نافذ کیا۔اقوام عالم میں جب کسی ریاست کے مستقبل کا سودا کیا جاتا ہے تو فریقین کے درمیان معاہدوں کے ساتھ ضمانت دینے والے بھی موجود ہوتے ہیں لیکن گلگت بلتستان کی الحاق کہانی شاید ہی دنیا میں دیکھنے کو ملے۔ یاد رہے ڈوگروں کی حکومت سے پہلے گلگت بلتستان کا کشمیر سے کوئی براہ راست تعلق نہیں رہا۔ البتہ لداخ کے ذریعے کشمیر سے زمینی رابطے کافی صدیوں سے قائم تھے۔ اسی طرح 14اگست1948کو بلتستان ریجن نے بھی ڈوگرہ راج سے مکمل طور پر نجات حاصل کی۔ بدقسمتی سے ایک طرف اس خطے کے ساتھ الحاق کا ڈرامہ رچایا تو دوسری طرف پاکستان حکمرانوں نے اس وقت کشمیر میں استصوابِ رائے کومد نظر رکھتے ہوئے اپنی مدد آپ آزادی حاصل کرنے والے اس خطہ کو پاکستان کا مستقل حصہ بنانے کی بجائے مسئلہ کشمیر کا حصہ بنا لیا تاکہ جنوری1948میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے قائم کیے گئے کمیشن کی جانب سے استصواب رائے کا فیصلہ ہونے کی صورت میں خطہ گلگت بلتستان کے لوگوں کا ووٹ کشمیر کو پاکستان کا حصہ قرار دینے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکے۔ آگے چل کر کشمیری رہنماؤں نے اٹھائیس اپریل1949کو ایک مرتبہ پھر اس خطے کے عوام سے کسی قسم کی رائے لئے بغیر معاہدہ کراچی کے تحت اس خطے کو کشمیر کا حصہ قرار دیکر مستقل طور پر پاکستان کے حوالے کیا لیکن آج یہ خطہ نہ ہی قانونی طور پر آزاد کشمیر کا حصہ کہلاتا ہے اور نہ ہی پاکستان عوامی مطالبات کا احترام کرتے ہوئے اس خطے کو آئینی طور پر پاکستان میں شامل کرنے کیلئے تیار نظر آتا ہے۔اس خطے کی قانونی خودمختاری کو ختم کرنے اور یہاں کے عوام کو اُس وقت کسی قسم کے قانونی فیصلہ کرنے کا موقع نہ دے کر سردار عالم کے مسلط ہونے کے بعد یہاں پولیٹیکل ایجنٹ اور اسسٹنٹ پی اے نے وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ یہاں انتظامی ڈھانچے کو ایف سی آر اورایجنسی نظام کے تحت چلایا جاتا رہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ وفاق کی جانب سے ان عہدوں میں تبدیلی آتی گئی، اور یہاں ریذیڈنٹ، ایڈمنسٹریٹر، چیف کمشنر اور چیف سیکریٹریز کی حیثیت سے وفاقی نمائندے اس خطے کا انتظام و انصرام سنبھالتے رہے۔متنازعہ خطے کو درپیش سیاسی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے1961میں پہلی مرتبہ بنیادی سیاسی نظام کی بنیاد رکھ کر پہلی مرتبہ انتخابات کروائے گئے۔ اسی طرح1979میں پہلی مرتبہ شمالی علاقہ جات ایڈوائزری کونسل تشکیل دی گئی۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت میں سیاسی اور انتظامی اصلاحات لاتے ہوئے گلگت بلتستان کو الگ الگ اضلاع کا درجہ دیا اور ایف سی آر اور ایجنسی نظام ختم کر کے لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا۔1972اور1974کے دوران ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کا خود دورہ کیا اور بھرپور عوامی مطالبات پر ضلع دیا میر، ضلع غذر اور ضلع گانگچھے کا قیام عمل میں لایا اور کچھ مقامی قومی جماعتوں کو ختم کرکے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔1977میں جب پاکستان میں مارشل لاء لگایا گیا تو متنازعہ گلگت بلتستان کو کشمیر سے ہٹ کر مارشل لاء کا پانچواں زون قرار دے کر یہاں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا۔ 1979میں گلگت بلتستان میں ناردرن ایریاز لوکل گورنمنٹ آرڈر نافذ کیا گیا۔ اسی طرح1984میں غلام مہدی (سکردو)، میر غضنفر (ہنزہ) اور وزیر افلاطون (استور) کو پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ میں مبصر نامزد کیے گئے۔1991میں پہلی بار ناردرن ایریاز کونسل میں خواتین کے لیے دو نشستیں مختص کیے جانے کے باعث ارکان کی تعداد سولہ سے بڑھ کراٹھارہ ہوگئی۔1994میں شہید بے نظیر بھٹو نے ایک پیکج دیا جس کے تحت پہلی مرتبہ ناردرن ایریاز کونسل کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے گئے اور ارکان کونسل کی تعداد کو سولہ سے بڑھا کر 26کر دیا گیا جس کے تحت غذر اور گانچھے کے اضلاع کو تین تین جب کہ دیگر تین اضلاع سکردو، گلگت، دیامیر، کو چھے چھے سیٹیں دی گئیں۔ گلگت بلتستان کے وفاقی وزیر کو چیف ایگزیکٹو بنایا گیا اور ناردرن ایریاز کونسل سے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو اور پانچ مشیر منتخب کیے گئے۔ عدالتی اصلاحات میں ایک چیف کورٹ کا اضافہ کیا گیا جو ایک چیئرمین اور دو ممبران پر مشتمل تھی۔ اسی طرح ایک اور پیکج معرکہ کارگل کے دوران28مئی1999کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں دیا گیا۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم جاری کیا کہ وہ شمالی علاقہ جات کے عوام کو بنیادی حقوق فوراً فراہم کرے اور حکومت کا اختیار وہاں کے منتخب نمائندوں کے سپرد کیا جائے اور بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے آزاد عدلیہ قائم کی جائے۔ وفاقی حکومت نے اکتوبر1999کو سیاسی، عدالتی اصلاحاتی پیکج کا اعلان کیا۔ جس کے مطابق ناردرن ایریاز کونسل کو قانون ساز کونسل کا درجہ دے دیا گیا۔ کونسل کو49شعبوں میں قانون سازی کا اختیار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ایک اپیلٹ کورٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ جب کہ کونسل میں خواتین نشستوں کو2سے بڑھا کر5 کر دیا گیا۔ تیسرا پیکج صدر مشرف کے دور میں مرحلہ وار آیا۔ جس میں پہلے پانچ سال کے دوران1999سے2004تک ترقیاتی فنڈ کو86کروڑ سے بڑھا کر ساڑھے چار ارب کردیا گیا۔ جب کہ اکتوبر2003میں کونسل کے لیے ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ دیا گیا۔2004میں لیگ فریم ورک آرڈر میں ترمیم کے ذریعے قانون ساز کونسل میں سے6خواتین اور پہلی مرتبہ6ٹیکنوکریٹ کی نشستیں دی گئیں جس سے ارکان کونسل کی تعداد26سے بڑھ کر36ہوگئی اور ضلع دیامیر کے سب ڈویژن استور کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی جعرافیائی اہمیت کے پیش نظر2007میں بتیس سال بعد کونسل کو ورک آرڈر ختم کرکے ناردرن ایریاز گورننس آرڈر نافذ کیا گیا۔ جس کے تحت قانون ساز کونسل کو اسمبلی کا درجہ دیا گیا۔ سپریم اپیلٹ کورٹ قائم کیا گیا اور وفاقی وزیر کو چیئر مین اور ڈپٹی چیف کو چیف ایگزیکٹو کا عہدہ دیا گیا۔ جب کہ چوتھی بار ستمبر2009میں گلگت بلتستان (ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈرجاری کیا جس کے تحت گلگت بلتستان کو چاروں صوبوں ملک کا پانچواں بے اختیار وزیر اعلیٰ اور گورنر نصیب ہونے کے ساتھ ساتھ شمالی علاقہ جات کا نام پہلی بار تبدیل کرکے گلگت بلتستان کے نام سے اس خطے کو شناخت ملی جو کہ اس خطے کی عوام کا دیرنیہ مطالبہ تھا۔ اسی طرح اس پیکج میں سیاسی خودمختاری کا نعرہ لگایا لیکن عملی طور پر آج بھی گلگت بلتستان کے حوالے سے آہم فیصلے ایک غیر منتخب غیر مقامی وزیر کرتے ہیں۔اس پیکج میں گلگت بلتستان کیلئے گورنر اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوئے اور وزیر اعلیٰ کی معاونت وزیر اعلیٰ کو دو مشیر اور پارلیمانی سیکریٹری مقرر کرنے کا اختیار بھی دیا گیا۔ گورنر کا تقرر وزیر اعظم پاکستان کی مشاورت سے صدر پاکستان کرتے ہیں جبکہ منتخب اسمبلی کو وزیر اعلی منتخب کرنے کا اختیار دیا ۔قانون ساز اسمبلی کے کل ممبران کی تعداد38ہوگی۔ جس میں سے24براہ راست منتخب ہوں گے جب کہ سات سات نشستیں، خواتین اور ٹیکنو کریٹس کی ہوں گی جس میں ہر ضلع کی نمائندگی شرط ہے اور جن امور پر قانون ساز اسمبلی قانون سازی کر سکتی ہے۔ ان کی تعداد49سے بڑھا کر61کر دی ہے۔کشمیر کونسل کی طرز پر گلگت بلتستان کونسل قائم کیا گیا جس کے چیئرمین وزیر اعظم پاکستان گورنر اس کے وائس چیئرمین ہیں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو بھی اس کے ممبر ہونے کا اختیار دیا۔ اسکے علاوہ اور بھی کئی اہم شقیں موجود ہیں مگر اس پیکج سے بھی گلگت بلتستان کے عام عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی معاشرتی ترقی اور تعمیر کی ایک جھلک بھی نظر نہیں آئی بلکہ یہاں کرپشن اقرباء پروری کی ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی تعلیم نظام کا بیڑا غرق ہوگیا نوکریوں کی بولی لگ گئی ۔ گلگت بلتستان کی متازعہ حیثیت پھر بھی برقرار ہے جس کے سبب اس خطے میں انوسٹمنٹ اور صنعتوں کا قیام آج بھی ناممکن ہے۔ وفاق میں پیپلزپارٹی کا سورج غروب ہوتا ہے یہاں ایک دفعہ پھر سیاسی نعرے لگنے لگے، سابق پیکج کو غیر معقول اور عوامی ضرورتوں کے منافی قرار دینے کی باتیں شروع ہوئی کیونکہ اس مین سارا کمال صرف اور صرف الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے ایک ڈھونگ تھا جسے بعد میں سرتاج عزیر کمیٹی کا نام دیا گیا جس میں مقامی سطح پر کوئی ممبر شامل نہیں اور حال میں کہا یہ جارہا ہے کہ اس کمیٹی نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی سفارش کی ہے نتیجہ کیا آئے گا کسی کو کچھ معلوم نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ قومی شناخت کا مسئلہ آج بھی باقی ہے گلگت بلتستان کے عوام چاہتے ہیں کہ اس خطے کے حوالے سے سابق حکومت نے بھی کئی بار قانون ساز اسمبلی سے مکمل آئینی صوبہ بنانے کیلئے متفق قراداد پاس کی ہے موجودہ حکومت نے یہ نعرہ چونکہ الیکشن سے پہلے لگایا تھا لیکن بعد میں مکر گئے،لہذ ا آئین پاکستان میں ترمیم کئے بغیر اس خطے کیلئے کوئی بھی پیکج فقط اس خطے کے عوام کیلئے ماضی کے پیکجز کی طرح لولی پاپ ہوگی۔دوسری طرف کشمیری ہمیشہ کی طرح اس بار بھی حقوق گلگت بلتستان کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں یوں ایسا لگتا ہے کہ یہ پیکج بھی گلگت بلتستان کی آئینی اور قومی شناخت کے حوالے سے سودمند ثابت نہیں ہوگا کیونکہ گلگت بلتستان کا سب سے آہم اور نازک مسئلہ معاشرتی ترقی اور یہاں کے قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کیلئے صنعتوں کا قیام اور مقامی وسائل پر حق حکمرانی ہے اور بین طور پر متنازعہ حیثیت کا ختم کرنا یا اس حیثیت کے مطابق حقوق کا حصول ہے۔لہذا سی پیک جیسے اہم تاریخ ساز منصوبوں کی کامیابی اور دشمن ممالک کا منہ بن کرنے کیلئے اب ضروری ہوچکا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ایک طرف رکھ کر اقوام متحدہ کی نگرانی میں یہاں رائے شماری کرکے گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنائیں دوسری صورت میں مسئلہ کشمیر کی ممکنہ حل تک کیلئے اس خطے کو بھی آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دے کر سی پیک کی قانونی حیثیت کو یقینی بنائیں۔

شیر علی انجم
شیر علی انجم
شیرعلی انجم کا تعلق گلگت بلتستان کے بلتستان ریجن سے ہے اور گلگت بلتستان کے سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *