• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • “طالبات کے والدین کے نا م ایک کھلا خط ” (سانحہِ اسلامیہ یونیورسٹی)-محمد وقاص رشید

“طالبات کے والدین کے نا م ایک کھلا خط ” (سانحہِ اسلامیہ یونیورسٹی)-محمد وقاص رشید

محترم والدین ! آپ کی صف میں کھڑے ایک بیٹی کے باپ کی دعا ہے کہ خدا ہر بیٹی کی عصمت و ناموس کا محافظ ہو۔
عربی کی ایک مشہور ضرب المثل ہے کہ “سمجھدار وہ ہے جو دوسروں کے تجربات سے سیکھے۔

 

 

 

 

ہم نے اسلامیہ یونیورسٹی میں ہونے والے انسانیت سوز سانحے کے بارے میں یقیناً جان لیا ہے۔ اس سے ہمیں کیا سبق حاصل کرنا چاہیے۔ کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اسکے لیے آپ سانحہِ اسلامیہ یونیورسٹی پر “سرعام ” پروگرام کے مشہور میز بان جناب اقرارالحسن کا وی لاگ ضرور دیکھیے گا۔

افسوس صد افسوس ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں اعلیٰ  تعلیم کے لیے آئی ہوئی اس قوم کی بیٹیوں کی عصمت و ناموس کے محافظ ہی انکے لٹیرے بن جاتے ہیں۔

اس ادارے میں سکیورٹی کے نام سے ہزاروں اہلکار بھرتی کیے گئے ہیں۔ انتہائی کرب کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد یہاں کے سکیورٹی چیف میجر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کے ایک منشیاتی و جنسی نیٹ ورک کے مکروہ دھندے کے لیے کام کرتے ہیں۔

“سیکرٹ سکیورٹی ایجنٹس” ان لڑکیوں اور لڑکوں کی چھپ چھپ کر تصاویر اور ویڈیوز بناتے رہے جن کے آپس میں افئیرز تھے۔ کسی درخت ، ٹیلے یا عمارت کی اوٹ میں یہ رومانوی مناظر اعجاز شاہ کے موبائل میں پہنچتے رہے۔ اس نے ان کی بنیاد پر لڑکیوں کو بلیک میل کرنا اور دھمکانا شروع کر دیا کہ یہ ویڈیوز انکے والدین کو بھیجی جائیں گی وگرنہ انہیں اس کے مطالبات ماننے ہونگے۔۔۔۔۔

رکیے گا خدارا!
محترم والدین باقی کہانی سے قبل یہاں توقف چاہتا ہوں یہیں اور اسی مقام پر آپ کو روک کر ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر (خدا نخواستہ ) یہاں آپکی اور میری بیٹی ہوتی (ظاہر ہے جو وہاں ہیں وہ بھی ہماری ہی، ہم جیسوں ہی کی بیٹیاں ہیں )۔ تو کیا ہماری بیٹیوں کو ہمارا یہ اعتماد حاصل ہے کہ وہ کسی جنسی و منشیاتی بلیک میلر گروہ کے مکروہ کاندھوں پر بہ امرِ مجبوری اپنا سر رکھنے کی بجائے ماں باپ کے کاندھے پر سر رکھ سکیں ۔۔۔ہے ہمارے کاندھوں میں اتنا ظرف اتنی جگہ یا ان بیٹیوں کے منکر نکیر بھی ہم نے اپنے کاندھوں پر بٹھا کر انکے سروں کی جگہ ختم کر دی ؟

لڑکیاں بدنامی کے ڈر سے میجر ریٹائرڈ اعجاز شاہ کے غلیظ جال میں پھنس جاتی ہیں۔ انہیں منشیاتی و جنسی پارٹیز میں مدعو کیا جاتا ہے جو شہر میں موجود “عزت داروں” کے فارم ہاؤسز پر منعقد کی جاتی ہیں۔ ان “معزز” لوگوں میں پہلے ریاستِ مدینہ اور پھر ریاستِ عدم اعتماد کے مشترکہ وزیر طارق بشیر چیمہ صاحب کے بیٹے ولی داد چیمہ بھی شامل ہیں۔

سال ہا سال سے جاری یہ مکروہ دھندہ ابھی بھی یہاں جاری رہتا (اور وطنِ عزیز کے نظامِ انصاف کے ٹریک ریکارڈ کے مطابق شاید رہے بھی) لیکن ہوا یوں کہ ایک ڈولفن پولیس اہلکار آئس کے نشے کے ساتھ گرفتار ہوتا ہے۔ تفتیش کے دوران اسکے موبائل سے بہت ساری طالبات کی اس نشے کی حالت میں غیر اخلاقی ویڈیوز برآمد ہوتی ہیں جن میں طارق بشیر چیمہ کے بیٹے کی ویڈیوز بھی ہوتی ہیں۔

آپ اندازہ لگائیں اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں “عزت” کے معیار کا کہ نہ جانے کتنی تباہ حال لڑکیوں کی عصمت و عفت کے لیے یہ نظام حرکت میں نہیں آتا لیکن ایک اثرورسوخ رکھنے والے وزیر کے بیٹے کی ویڈیوز ڈیلیٹ کروانے کے لیے پورا نظام حرکت میں آجاتا ہے اور ایک ایک کر کے محض ولی داد چیمہ کی “عزت” کی رکھوالی کے لیے نیٹ ورک کے دیگر افراد کے گرد گھیرا تنگ ہونے لگتا ہے۔ اور پھر اس ناپاک مکروہ دھندے کے سرغنہ تک بات پہنچ جاتی ہے جسکے موبائل سے 5500 ایسی ویڈیوز برآمد ہو جاتی ہیں۔

آپ نے ایک بات پر غور کیا ؟ اس مجرمانہ نیٹ ورک نے اس نام نہاد انسانی معاشرے کی کس خو سے فائدہ اٹھایا؟؟؟ نہیں کیا ہو گا کیونکہ یہ ریت ہے یہاں۔ لڑکا اور لڑکی بغلگیر ہوتے ہوئے یا بوس و کنار کرتے ہوئے یا اس سے متجاوز کسی حالت میں بلیک میلروں کے کیمروں میں آئے تو لڑکی ہی کو ” بدنامی” کا خوف کیوں دلوایا گیا ؟ کیونکہ لڑکے کو غیر اعلانیہ طور پر اس بدنامی کی اجازت ہے۔ اگر آپ اسلام کی بات کرتے ہیں تو اسلام نے تو حیا سے متعلقہ تمام احکامات مردوزن کے لیے یکساں جاری کر رکھے ہیں۔

صنفی امتیاز جنابِ والا صنفی امتیاز۔ بیٹے اور بیٹی میں پیدائش کی دعا سے شروع ہونے والا فرق زندگی کے ہر شعبے سے ہوتا ہوا قبر تک پیچھا کرتا ہے۔

عدم توازن کے شکار اس معاشرے میں جہاں عورت اپنے کاندھوں پر مردوں کے ڈالے ہوئے بہت سارے دوسرے بوجھ اٹھائے ہوئے ہے وہیں ایک بار اس نام نہاد غیرت کا بھی ہے جو غیرت اسکے سامنے اپنا ایک ایسا مصنوعی قسم کا تصور قائم کیے رکھتی ہے جو بسا اوقات غیر انسانی حدوں کو چھونے لگتا ہے۔ یہی وہ مصنوعی تصور ہے جس کو قائم رکھنے کے لیے وہ ان بلیک میلر عصمت کے لٹیروں کے سامنے اپنی زندگی تو رکھ سکتی ہے لیکن ہمارے سامنے اپنا ایک کمزور لمحہ نہیں۔

آئیں۔۔۔ خود کو حادثاتی طور پر بننے والے ماں باپ کی بجائے با شعور والدین ثابت کریں اپنی بیٹیوں کو یہ اعتماد دیں کہ وہ لاابالی کی بجائے دل ، دماغ اور زبان کی تکون کے بیک وقت بروئے کار آنے پر واقع ہونے والی حقیقی محبت کرنے کے قابل ہوں۔ اس محبت کو ہمیں کھل کر بتا سکیں۔ اس تعلق میں خدا کی عائد کردہ حدود کا خیال رکھیں۔ مجھے کہنے دیجیے کہ ان حدود میں کسی خلاف ورزی کی صورت میں بھی انہیں ہم پر ویسا ہی اعتماد ہو جیسا ان حدود کو قائم کرنے والا خدا انسان پر قائم کروانا چاہتا ہے۔
“اے لوگو ! جان لو کہ جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی , اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ” (سورۃ الزمر)
خدا رحیم ورحمان ہے اگر خدا بیٹیوں کو رحمت سے مایوس نہ ہونے کا حکم دیتا ہے تو ہم بیٹیوں کو زبان سے رحمت کہنے والے خود انہی کو اپنی رحمت سے مایوس کر کے اس معاشرے میں پھیلی اعجاز شاہ جیسی زحمتوں کے حوالے کیسے کر سکتے ہیں۔
“عورت انسان ہے غیرت کا فرشتہ نہیں ”

پسِ تحریر ! میری بیٹی ابھی چھوٹی ہے عہد کر لیا کہ اسکی یونیورسٹی کے پہلے دن یہ تحریر اسے پڑھاؤں گا رحمت کے خدا یعنی بیٹی کے خدا نے چاہا تو۔۔۔۔۔

julia rana solicitors

بارِ دگر دعا ہے کہ رحیم خدا یہاں رلتی رحمت کا محافظ ہو
“آپکی صف میں کھڑا ایک بیٹی کا باپ “۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply