مجذوب۔۔راجہ محمد احسان

SHOPPING

میں مجذوب ابنِ مجذوب ابنِ مجذوب ، کیا میں واقعی مجذوب ہوں یا یہ دل کی لگی کے لئے مجذوب کا ناٹک رچا رکھا ہے، یا یوں کہیے کہ ناٹک رچا رکھا تھا۔ جب میں نے یہ ناٹک رچایا تھا تو کیا جانتا تھا کہ ایک دن یہ جذب و مستی میرے دَر پہ دستک دیدے گی۔ ایسے کہ جیسے وہ میری ہی گھات میں ہو۔

ایک بہت ہی گنہگار شرابی قاتل ، مہاتما کے پاس حاضر ہوا اور کہا “حضور آپ کو مجھ میں کیا دِکھتا ہے”۔ مہاتما مسکرائے اور کہنے لگے “بیٹا روشنی” ۔ وہ شخص پریشان ہو گیا، کہنے لگا حضور میں تو ایک قاتل پَرلے درجے کا شرابی ہوں ،آپ کو غلطی لگ گئی ، آپ مجھے دوبارہ دیکھیں اور بتائیں کہ مجھ میں آپ کو کیا دِکھ رہا ہے ۔ مہاتما اور زیادہ مسکرائے اور کہا ” بیٹا مجھے تو صرف اور صرف روشنی نظر آ رہی ہے اور کچھ نہیں”۔۔

مہاتما مجذوب تھے ۔۔۔اور وہ سچے تھے۔۔اور وہ خاموش تھے ۔۔۔۔ اور وہ بولتے بھی تھے۔۔۔اُن کا بولنا سچ تھا۔۔۔اور اُن کی خاموشی بھی سچ تھی۔۔۔ لیکن میں۔۔۔میں مجذوب ابنِ مجذوب ابنِ مجذوب۔۔۔میں نوٹنگی ۔۔۔میرے سچ میں بھی جھوٹ۔۔۔۔میری خاموشی میں بھی ریاکاری۔۔۔مجھے روشنی نہیں دِکھتی۔۔۔مجھے جھوٹ دکھتا ہے۔۔۔مجھے لگتا ہے لوگوں کے پاس جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔۔۔لوگ بولتے ہیں اور بلاوجہ بولتے ہیں۔۔۔ان کا سچ، سچ نہیں ہے۔۔۔ان کا سچ بھی جھوٹ ہے۔۔۔۔کیونکہ میں مجذوب ابن مجذوب ابن مجذوب۔۔

مجذوب ، جذب سے نکلا ہے۔ اسی سے لفظ جذبہ اختراع ہوا ہے۔ جذبہ ہے تو انسان ہے ۔ جذبہ روح ہے۔ روح ہے تو انسان ہے ۔ انسان جذبہ، انسان روح، انسان مجذوب ۔ جو جذبہ نہیں تو روح نہیں ۔ جو روح نہیں تو انسان نہیں ۔ جب انسان جذبے کے ساتھ سچ کی تلاش میں نکلتا ہے تو روح سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ انسان پھیل جاتا ہے۔ اتنا پھیل جاتا ہے کہ پوری کائینات اس میں سما جاتی ہے ۔ ایسے میں مجذوب پہ محبت کا جذب اترتا ہے پھر مجذوب بولے تو خدا بولتا ہے مجذوب چُپ تو پوری کائنات چُپ۔ پھر مجذوب کی زبان خدا کی زبان ہوتی ہے۔ مجذوب کی خاموشی خدا کی خاموشی ہوتی ہے۔ پھر “میں ” نکل جاتی ہے صرف انسانیت رہ جاتی ہے ۔ پھر خوف دور نکل جاتا ہے۔ پھر سولی بھی سیج بن جاتی ہے ۔ لیکن میں نوٹنگی تو چپ کا ناٹک رچا رہا تھا مجھے کیا خبر تھی کہ مجذوب کو ن ہوتا ہے ؟ کیا ہوتا ہے؟ کیسے ہوتا ہے؟ پھر میرے ساتھ یہ کیا ہوا؟ کیوں ہوا ؟کیسے ہوا ؟

ایک بہروپیے نے بادشاہ سے شرط لگائی کہ حضور میں ایسا کلاکار ہوں کہ آپ میرے فن سے مات کھا جائیں گے۔ اگر آپ میرا بہروپ نہ پہچان سکے تو میں پانچ سو اشرفیوں کا انعام چاہوں گا۔ بادشاہ نے شرط قبول کر لی۔ بہروپیے  نے ایک مجذوب کا بہروپ بھرا اور اتنا مشہور ہوا کہ پوری سلطنت کے کونے کونے میں یہ صدا گونج اٹھی کہ یہاں ایک اللہ والا مجذوب ہے۔ یہ خبر ایسی عام ہوئی کہ بادشاہ بھی مجذوب کے در پہ حاضر ہونے کے لئے مجبور ہو گیا۔ خدمت میں حاضر ہو کے بادشاہ نے اپنے لئے دعا کروائی اور ساتھ میں سونے کی اشرفیاں دینی چاہیں لیکن مجذوب نے انکار کر دیا۔ اگلے دن بہروپیا حاضر ہوا اور کہا بادشاہ سلامت میرا پانچ سو والا انعام دیں میں وہی مجذوب ہوں۔ بادشاہ نے حیران ہو کے کہا میں تو تمھیں سونے کی پوری بوری دے رہا تھا وہ کیوں نہیں لی۔ بہروپیا کہنے لگا، حضور نہ۔۔۔ جن کے بہروپ میں تھا اس میں سونا لے نہیں سکتا تھا۔

مجذوب کا ناٹک رچاتے ہوئے میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی مجذوب مجھے بھی ٹکر جائے گا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سچ میرے دروازے پہ ایسی دستک دے گا کہ جانے کا نام ہی نہیں لے گا۔اب میں کروں تو کیا کروں۔ کیا سچ کو سچ مان لوں؟ ۔ وہ بھی عمر کے اس حصے میں ۔ ۔۔ جو نام کمایا تھا اس کا کیا ہو گا۔ جو عزت بنائی تھی وہ کہاں جائے گی ۔ جو آگے پیچھے واہ واہ کی تان اٹھتی تھی صرف ایک سچ کو سچ مان لینے سے سب مٹی۔ سچ اچھا ہے پر اس کے لئے کوئی اور مجذوب بنے تو اور بھی اچھا ہے ۔ اب میں ہوں اور سچ ہے۔ سچ آگے آگے میں پیچھے پیچھے ۔ میں آگے آگے سچ پیچھے پیچھے۔۔۔۔

SHOPPING

اوہ میرے خدایا۔۔۔۔۔ہیں۔۔۔۔یہ مجھے کیا ہو رہا ہے۔۔۔ میں تو خدا کو مانتا ہی نہیں ۔۔۔ پھر میں خدایا کیوں کہہ رہا ہوں۔۔۔
کیا مجذوب میرے دماغ پہ سوار ہو گیا ہے۔۔۔۔یا میرے اندر اُتر گیا ہے۔۔۔۔میرے دماغ کو کیا ہو رہا ہے۔۔۔میرا دماغ کیوں چیخیں مار رہا ہے۔۔۔ لب ڈھب ۔۔۔ لب ڈھب ۔۔۔ لب ڈھب۔۔۔سچ سچ سچ سچ۔۔۔ لب ڈھب ۔۔۔ لب ڈھب ۔۔۔لب ڈھب۔۔۔میں مجذوب ابنِ مجذوب ابنِ مجذوب۔۔۔ میں ہار نہیں مانوں گا۔۔۔۔میں نے حل نکال لیا ہے۔۔۔میں چپ رہوں گا۔۔۔ایک چُپ۔۔۔ سو سُکھ۔۔۔ہاں میں چپ رہوں گا۔۔۔میں چُپ رہا تو میرا بھرم رہ جائے گا۔۔۔میرا پردہ رہ جائے گا۔۔۔عزت بچی رہے گی۔۔ اور لوگ بھی یہی سمجھیں گے کہ میں جو مجذوب کے سچ سے بچنے کے لئے چُپ ہوں تو اصل میں میں خود مجذوب ہوں ۔۔۔ ہاں یہی حل ہے۔۔۔ لیکن جو مجذوب پھر بھی بولتا رہا تو؟ ۔۔۔جو مجذوب پھر بھی نہ گیا تو؟…. لب ڈھب۔۔۔ لب ڈھب۔۔ ۔ لب ڈھب ۔۔۔سچ سچ سچ سچ ۔۔۔

SHOPPING

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *