• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اکتوبر انقلاب کی صد سالہ سالگرہ پر منعقدہ سیمینار ،NTUFمیں مقررین کا خطاب۔۔مشتاق علی شان

اکتوبر انقلاب کی صد سالہ سالگرہ پر منعقدہ سیمینار ،NTUFمیں مقررین کا خطاب۔۔مشتاق علی شان

محنت کشوں کے انقلاب نے روس کو دنیا کی عظیم معاشی وسیاسی قوت بنا کر سرمایہ دارانہ نظام پر اپنی برتری ثابت کی
سرمایہ دارانہ،جاگیردارانہ ومذہبی سیاسی جماعتوں کے خلاف محنت کش عوام کی متبادل سیاسی قوت وقت کی اہم ضرورت ہے
(نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن (NTUF)کے زیر اہتمام عظیم اکتوبر انقلاب کی صد سالہ سالگرہ پر منعقدہ سیمینار میں مقررین کا خطاب)

کراچی ( پ ر) 1917میں روس میں بپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب معلوم انسانی تاریخ کے بڑے واقعات میں سے ایک ہے جس نے صدیوں پر محیط جبر پر مبنی روسی زار شاہی کا تختہ الٹ کر اقتدار مزدوروں ،کسانوں اور عوام الناس کے سپرد کر دیا ۔اس انقلاب نے کسانوں کو زمینوں ،مزدوروں کو فیکٹریوں کارخانوں اور مظلوم قوموں کو اپنے وسائل کا مالک بنا یا اور عورتوں کی غلامی کی تما م بنیادوں کو اکھاڑ کر انھیں سماج میں برابری کا درجہ دیا ۔آج سرمایہ داری کے بڑھتے ہوئے بحران نے جہاں سماجی ومعاشی ناہمواری ،وسائل پر قبضے اور جنگوں کو بڑھاوا دیا ہے وہاں منافع کی لالچ میں ماحول کو اس خطرناک حد تک آلودہ کر دیا ہے کہ نوعِ انسانی کی بقا کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے ۔اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کا واحد راستہ عظیم اکتوبر سوشلسٹ انقلاب سے استفادہ کر نے میں ہی پنہاں ہے ۔

ان خیالات کاا ظہارآج ’’نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن ‘‘(NTUF)کے زیر اہتمام ’’پاکستان آرٹس کونسل‘‘ کے تعاون سے ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا ۔ اس سیمینار میں 8تحقیقی مقالے پیش کیے گئے جن کی کتابی شکل ’’بالشویک انقلاب کے سو سال‘‘کی تقریبِ رونمائی بزرگ مزدور رہنما عثمان بلوچ نے کی ۔بائیں بازو کے سیاسی کارکنوں ، مزدور تنظیموں کے رہنماؤں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ تقریب کی صدارت ’’نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن‘‘(NTUF) کے مرکزی صدر رفیق بلوچ نے کی ۔جب کہ محنت کش خواتین کے ’’اپنا تھیٹر ‘‘ کی جانب سے انقلابی خاکے اور گیت پیش کیے گئے ۔
اس موقع پر مقررین نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قدیم اشتراکی نظام کے بعد غلامانہ ،جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے ہزاروں سال سے فرد کے ہاتھوں فرد کے استحصال اور پدر سری پر مبنی نظام کے جبر کے خاتمے کے خلاف انسان مسلسل جدوجہد کرتا رہا ہے۔اس طبقاتی جدوجہد کا ایک بڑا منطقی نتیجہ 1917میں مزدوروں،کسانوں کی پارٹی اور لینن کی قیادت میں ہونے والے انقلاب کا متشکل ہونا تھاجس نے طبقاتی نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے ذرائعِ پیداوار کی نجی ملکیت کو ختم کرتے ہوئے اس کی سماجی ملکیت کو یقینی بنایا۔ اس انقلاب نے روس جیسے پچھڑئے ہوئے ملک کو چند دہائیوں میں دنیا کی ایک عظیم معاشی وسماجی قوت میں تبدیل کر دیا جہاں کوئی شخص بے روزگار، بے گھر اور ناخواندہ نہیں رہا ۔کیوں کہ انقلاب نے ہر شخص کو روزگار، رہائش ،صحت اور تعلیم کی مفت فراہمی کونہ صرف آئینی طور پریقینی بنایا بلکہ اس پر عمل درآمد بھی کر دکھایا ۔

انقلاب سے قبل روس قوموں کا قید خانہ کہلاتا تھا اور صدیوں سے بہت سی قومیں روسی زار شاہی کی غلامی میں سسک رہی تھیں لیکن محنت کشوں کے اس انقلاب نے تمام قوموں کو برابری کے حقوق دیے ، ان کی زبان و ثقافت کی ترقی کے لیے پہلی بار عملی اقدامات کیے اور انھیں اپنے وسائل کا آپ مالک بنایا ،یہاں تک کہ انھیں آئینی طور پر حقِ خودارادیت بشمول حقِ علیحدگی دیا گیا ۔قوموں کو اپنی پارلیمنٹ، جھنڈا اور آزادانہ سفارتی تعلقات رکھنے کا حق بھی دیا گیا جسے استعمال کرتے ہوئے فن لینڈ نے الگ ہونے کا فیصلہ کیا جب کہ بیلا روس قازقستان براہِ راست اقوامِ متحدہ کے ممبر بنے ۔اس انقلاب کے نتیجے میں وسطی ایشیا کی ریاستیں جہاں دو فیصد سے بھی کم شرح خواندگی تھی وہ اس انقلاب کے نتیجے میں مسلم دنیا کی واحد ریاستیں بن کر ابھریں جہاں صد فی صد تعلیم تک رسائی حاصل کر لی گئی تھی ۔یہی انقلاب تھا جس نے دنیا بھر میں نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والی آزادی کی تحریکوں بشمول ہندوستان کو ہر طرح کی امداد فراہم کی۔
مقررین نے مزید کہا کہ اکتوبر انقلاب ایک ایسے وقت میں رونما ہوا جب پہلی عالمی جنگ جاری تھی اور اس میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے تھے ،انقلاب نے امن کا نعرہ بلند کیا اور سامراجی جنگ سے خود کو باہر نکالا اور اپنے انقلابی اہدافات کی جانب پیشرفت کی ۔لیکن یہ انقلاب سرمایہ دار دنیااور خود روس میں سرمایہ داروں ، جاگیرداروں اور مذہبی پیشواؤں کے لیے ایک خطرہ بن کر نمودار ہواجس کے خلاف ان تمام عوام دشمن قوتوں نے اتحاد کر لیا اور انقلاب کے خلاف نہ صرف اندرونی بغاوتوں کا آغاز کیا بلکہ تیرہ سے زائد یورپی سامراجی ممالک اور جاپان نے براہِ راست جارحیت کی جسے انقلاب نے زبردست شکست سے دوچار کیا ۔
مزید بر آں جب فاشزم نے ہٹلر کی قیادت میں دوسری عالمی جنگ کا آغاز کرتے ہوئے کروڑوں انسانوں کو نسل پرستی کی آگ میں جھونکتے ہوئے جمہوری اقدار کو تاراج کیا تو اس عفریت کومارشل اسٹالین کی قیادت میں ناقابل فراموش کر دا ر اد سوویت سرخ فوج نے اس کی اپنی کمیں گاہ میں شکست سے دوچار کیا اور یورپ سمیت دنیا بھر کو فسطائیت سے نجات دلائی۔ اس کے لیے دو کروڑ سے زائد سوویت باشندوں نے جانوں کی قربانیاں دیں ۔

اس انقلاب نے عورتوں کوروس میں پہلی مرتبہ ووٹ ،طلاق ،مرضی سے شادی کا حق دیا اور تمام امتیازی قوانین،دقیانوسی رسم ورواج کا خاتمہ کرتے ہوئے انھیں برابر کا درجہ دیا۔ اسی انقلاب کے نتیجے میں دنیا کی پہلی سفیر اور خلاباز عورت سامنے آئی جب کہ منتخب نمائندوں میں سوویت یونین ہی وہ ملک تھا جہاں عورتوں کا تناسب سب سے زیادہ تھا ۔
مقررین نے کہا کہ چوہتر سال بعد سوویت یونین کا انہدام محنت کار انسانوں کی طبقاتی جدوجہد کے خاتمے کا اعلان نہیں بلکہ یہ بہت سارے تجربات اور اسباق اپنے دامن میں لیے ہوئے تحریک کو نئے راستے دکھاتا ہے اورسرمایہ داری اور سامراجیت کے خلاف نئی صف بندیوں کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ظلم،زیادتی،جبر ،جنگ ،ماحولیاتی آلودگی ،مذہبی جنونیت ، مذہبی،لسانی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے خلاف نئی تحریکوں کے لیے مشعلِ راہ ہے ۔خود جنوبی ایشیا میں نیپال میں کمیونسٹوں کی ملک گیر انتخابی کامیابی اس کی ایک بڑی مثال ہے ۔جب کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی مذہبی انتہا پسندی ،غیر جمہوری قوتوں کی سازشوں ،وفاقی اکائیوں سے روا رکھے جانے والے ظالمانہ سلوک اور سرمایہ دارں ،جاگیرداروں کے محنت کشوں کے خلاف مسلسل وحشیانہ اقدامات کے خلاف محنت کش عوام کی متبادل سیاسی قوت وقت کی اہم ضرورت بن کر ابھر رہی ہے۔ ان حالات میں عظیم اکتوبر انقلاب کے سوسال اور اس کی حاصلات سے تقویت پاتے ہوئے ظلم کے نظام کو شکست سے دوچار کرنے کی حکمت عملی آج کا آوازہ ہے۔
سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں ناصر منصور (ڈپٹی جنرل سیکریٹری ،نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن )،عذرا طلعت سعید ( ریسرچ اسکالر) ،ڈاکٹرعمار علی جان
( اسسٹنٹ پروفیسر سوشیالوجی ،پنجاب یونیورسٹی،لاہور)،زہر اخان ( گھر مزدور عورت رہنما )،مشتاق علی شان (شاعر ،ادیب،مترجم)،ایاز ملک (محقق، استاد،سوشل تھیوری اینڈپولیٹکس،حبیب یونیورسٹی ،کراچی)،سہیل احمد( چیئرمین ، لائبریری کمیٹی ،پاکستان آرٹس کونسل،کراچی)،زبیر رحمن ( معروف کالم نگار ) ،مسرور شاہ (نوجوان مارکسی دانشور )اورشاداب مرتضیٰ ( نوجوان مارکسی دانشور ) شامل تھے ۔

Save

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *