میسر ہو گیا آنکھوں کو پانی کربلا سے/اقتدارجاوید

میسر ہو گیا آنکھوں کو پانی کربلا سے

 

 

 

 

ہوئی آغاز آخر زندگانی کربلا سے

محرم ہے سبھی آباد ہوتے جا رہے ہیں
نہیں کرتا کوئی نقل ِ مکانی کربلا سے

سنبھالے پھر رہی ہے آل نبیوں کی وراثت
نئے تشریح ہونے ہیں معانی کربلا سے

فقط بچپن نہیں رنگین ہوتا معرکے میں
بڑھاپا کربلا سے ہے جوانی کربلا سے

اٹھائے ہیں نئے آداب ِ گریہ آدمی نے
چلی ہے اک زبان ِ بے زبانی کربلا سے

نہیں ختم ہو رہے اب تک گواہوں کے بیانات
چھڑی تھی جو شہادت کی کہانی کربلا سے

ہوئی ہیں سہل دل بھر آنے سے صبحیں ہماری
ہوئیں روشن شبیں اپنی سہانی کربلا سے

مسلسل مل رہے ہیں اور ہیں کافی و شافی
نئے پہلو ہمیں اپنی پرانی کربلا سے

julia rana solicitors london

حدیثوں کی بھی پائی مبرَہن سچائی ہم نے
ہوئی ہم پر ضیا قرآن خوانی کربلا سے۔۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply