میسر ہو گیا آنکھوں کو پانی کربلا سے
ہوئی آغاز آخر زندگانی کربلا سے
محرم ہے سبھی آباد ہوتے جا رہے ہیں
نہیں کرتا کوئی نقل ِ مکانی کربلا سے
سنبھالے پھر رہی ہے آل نبیوں کی وراثت
نئے تشریح ہونے ہیں معانی کربلا سے
فقط بچپن نہیں رنگین ہوتا معرکے میں
بڑھاپا کربلا سے ہے جوانی کربلا سے
اٹھائے ہیں نئے آداب ِ گریہ آدمی نے
چلی ہے اک زبان ِ بے زبانی کربلا سے
نہیں ختم ہو رہے اب تک گواہوں کے بیانات
چھڑی تھی جو شہادت کی کہانی کربلا سے
ہوئی ہیں سہل دل بھر آنے سے صبحیں ہماری
ہوئیں روشن شبیں اپنی سہانی کربلا سے
مسلسل مل رہے ہیں اور ہیں کافی و شافی
نئے پہلو ہمیں اپنی پرانی کربلا سے

حدیثوں کی بھی پائی مبرَہن سچائی ہم نے
ہوئی ہم پر ضیا قرآن خوانی کربلا سے۔۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں