جن کی آنکھوں میں خدا مسکراتا ہے۔۔۔علی محمد فرشی

علینہ !
گلابی پری مائرن
جس نے میری دلہن کو
نئی زندگی کی عروسی عطا کی
مری ساری نظموں سے بڑھ کر حسیں ہے

وہ نرسیں
جو بیمار جسموں کا دکھ
ابنِ مریم کی پوروں سے محسوس کرتی ہیں
آنکھوں میں اُن کی خدا مسکراتا ہے
خود زندگی اُن کے ملبوس پہنے
کرسمس مناتی ہے
دکھ بھول جاتی ہے
عیسیٰ کی سولی سے رِستے لہو کا
شفایاب آدم کے ہونٹوں پہ
ایسی دعا کے پرندے اُترتے ہیں
جن کو رسولوں سے پہلے
زمیں پر اُتارا گیا

کن پرندوں کے بیمار دکھ میں
زمیں دق زدہ لڑکیوں کی طرح
زندگی کی طرف دیکھتی ہے
مسیحا کی آمد کے سب منتظرہیں
الٰہی ! الٰہی ! کی تکرار میں
خلق اپنے لہو کی
صداقت کی پہچان سے منحرف
آسماں کی طرف دیکھتی ہے
جہاں ایک چپ کی
گھٹا میں
کسی حرفِ کُن کا
نشاں تک نہیں
کان سنتے رہیں گے ’’نہیں‘‘
اپنے ہاتھوں پہ
جب تک
ریاضت کا اعجاز کُھلتا نہیں

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”جن کی آنکھوں میں خدا مسکراتا ہے۔۔۔علی محمد فرشی

  1. اسلامد علیکم ۔
    مکالمہ تخلیق و تخلیقیت سے بھرپور ہے ۔
    ہنر اور سلیقہ سلامت رہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *