پریاں وجود رکھتی ہیں: ایک عظیم ادیب کا دعویٰ

SHOPPING

سر آرتھر کونن ڈوئل کو دنیائے ادب کے سب سے سنسنی خیز کردار شرلاک ہومز کو تخلیق کرنے کا اعزازا حاصل ہے۔ البتہ یہ امر حیران کن ہے کہ سائنسی موضوعات کا احاطہ کرنے والا یہ عظیم قلم کار غیرمرئی قوتوں اور پریوں پر کامل یقین رکھتا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق غیرمرئی قوتوں میں اس کی دل چسپی کا سبب اس کے بیٹے اور بھائی کی انفلوینزا کے ہاتھوں موت تھی۔ اس کے ذہن میں اُن کی ارواح سے رابطہ کا بھوت سما گیا۔ وہ ایسے لوگوں سے وابستہ ہوگیا، جو اُن ارواح سے رابطے کے دعوے دار تھے۔

البتہ سب سے زیادہ پریشان کن آرتھر کونن کا یہ اصرار تھا کہ پریاں واقعی وجود رکھتی ہیں۔ اس معاملے میں ڈرامائی موڑ 1917 میں آیا، جب انگلینڈ کے علاقہ ویسٹ یارک شائر کے مضافات میں مقیم دو لڑکیوں الیسیا وائٹ اورفرانسسز گرفتس کی بنائی ہوئی پانچ تصویر منظر عام پر آئیں۔

یہ تصاویر بہت مشہور ہوئیں۔ ان میں دونوں بہنیں اپنے گھر کے پاس پریوں کے ساتھ دکھائی دے رہی تھیں۔ ان تصویروں کو Cottingley Fairies کا نام دیا تھا۔

یہ تصاویر جب سر آرتھر کوئن ڈوئل کی نظر سے گزریں، تو وہ تجسس سے بھر گیا۔

یہ عظیم مصنف ان دنوں اسی موضوع پر ایک طویل مضمون لکھ رہا تھا۔ اس نے ماورائی قوتوں سے متعلق اپنے نظریات کے ثبوت میں اُن تصویر کو پیش کرتے ہوئے پریوں کے وجود پر اپنے تئیں تصدیق کی مہر ثبت کر دی۔

گو بہت سے افراد کو ان تصاویر پر اعتراض تھا، مگر سر آرتھر کونن نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں ان کا تواتر سے ذکر اور زور شور سے دفاع کیا۔ بیش تر لوگ اس کی عظمت اور بڑھتی عمر کے احترام میں چپ ہوجاتے۔ عام خیال تھا، سر آرتھر کا ذہنی توازن بگڑتا جارہا ہے۔

SHOPPING

1983 میں یہ تصاویر اتارنے والی بچی الیسیا نے، جو اب بوڑھی ہوچکی تھی، اعتراف کر لیا کہ یہ تصاویر فراڈ تھیں، مگر اس وقت تک سر آرتھر کونن ڈوئل اس یقین کے ساتھ کہ پریاں واقعی وجود رکھتی ہیں، دنیا سے رخصت ہوچکے تھے

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *