عمران خان کا سیاسی مستقبل (2)-سعید ابراہیم

یہ اسٹیبلشمنٹ تھی جس نے ضیاءالحق کے زمانے سے ہی خان کو اپنے مقاصد کیلئےچن لیا تھا۔ اس کا حقیقی حریف پیپلز پارٹی تھی جو ایک پروگریسو، لبرل اور سیکولر مؤقف رکھتی تھی اور مزید یہ کہ بھٹو کے قتل کی وجہ سے فوج اور اس کے حمائتیوں کے لیے کافی خطرناک سمجھی جانے لگی تھی۔ اگرچہ فوج نے پیپلز پارٹی کے خلاف نواز شریف اور الطاف حسین کو بطور مہرہ میدان میں اتار دیا تھا مگر عمران خان کو آگے آنے وانے وقت کیلئے چنا گیا تھا۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کواس بات کا تجربہ تھا کہ ان کے بنائے ہوئے مہروں کو جب سچ مچ کی عوامی حمائت مل جائے تو وہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے ہی مسئلہ بن جایا کرتے ہیں۔ (الطاف اور نواز شریف کے معاملے میں ان کا یہ خدشہ درست ثابت بھی ہوا۔)

julia rana solicitors

عمران خان کا امیج ایک ایسے فرد کے طور پر ابھارا گیا جو سمارٹ بھی ہے، ماڈرن بھی، بہادر بھی اور ایمان دار بھی۔ بطور پلے بوائے اس کی بدنام شہرت کو یہ کہہ کر استعمال کیا گیا کہ وہ ایک ایسا شخص ہے جو اپنی جنسی سرگرمیوں سے تائب ہوکر صوفی بن چکا ہے۔ایک نام نہاد صوفی خاتون سے اس کی شادی بھی غالباً اسی منصوبے کا حصہ تھی۔ یہ ایک نفسیاتی حربہ تھا جو پاکستانی عوام پر خوب کارگر ثابت ہوا۔ عوام کو یہ باور کروایا گیا کہ عمران کا ظاہر بھلے کیسا ہی کیوں نہ ہو مگر اس کا باطن اسلام کے نور سے لبریز ہے۔اس بات کو راسخ کرنے کے لیے اسے اپنی تقریروں میں تواتر سے اسلامی ٹچ دینے کا سبق پڑھایا گیا۔
خان کی پاپولیریٹی کے تصور کو راسخ کرنے کیلئے ایک تربیت یافتہ سوشل میڈیا گروپ بنایا گیا جو ہزاروں افراد پر مشتمل تھا۔ وہ سب کے سب جب ایک ہی وقت میں کوئی ٹویٹ کرتے تو یہی لگتا کہ خان ملک کا مقبول ترین لیڈر ہے۔۔۔۔ (جاری ہے)

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply