ماضی میں برصغیر پاک و ہند کے ہندو غلبے والے معاشرے میں ایک بیوہ کی کوئی قدروقیمت نہ تھی‘ کہا جاتا ہے کہ شوہر کی وفات کے وقت بیوی بھی شوہر کے ساتھ ہی جل (ستّی ہو) جاتی۔ تیمور لنگ کی سوانح حیات ”تیمور ہوں میں از کامران امجد خان“ میں ستّی ہو جانے کے مشاہدہ کا ذکر کچھ یوں ہے۔ 1398میں ہندوستان کی مہم میں ملتان سے دہلی کے سفر کے دوران رستے میں ایک صبح جب تیمور فجر کی نماز ادا کر کے فارغ ہوا تو تیمور کو ڈھول اور نفیری کی آواز سنائی دی اور پھر اسے کسی گروہ کے گانے بجانے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ تیمور اپنے خیمے سے باہر نکلا تو اسے نزدیکی گاؤں سے لوگوں کا ایک گروہ آتا دکھائی دیا۔ ان میں سے کچھ لوگ ایک تابوت اٹھائے ہوئے تھے اور وہ سب دریا کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ان لوگوں نے جنازے کے اوپر سرخ رنگ کا کپڑا ڈالا ہوا تھا تاہم مردے کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ تیمور نے دیکھا کہ وہ کسی مرد کا جنازہ تھا۔ ایک عورت سرخ لباس پہنے جنازے کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ وہ کبھی رونے لگتی اور کبھی دوسروں کی طرح گانا گانے لگتی۔ اس روز تو تیمور کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ لوگ کیا گانا گا رہے تھے تاہم بعد ازاں جب اس کی ایک ہندو پروہت سے بات چیت ہوئی تو اسے پتہ چلا کہ وہ لوگ نغمہ صبح گا رہے تھے جسے کہ سورج نکلنے کے بعد گایا جاتا ہے اور اس کا ذکر ہندوؤں کی ایک مقدس کتاب میں آیا ہے۔ بہر حال وہ لوگ جو گانا گا رہے تھے‘ جنازے کو دریا کنارے لے آئے اور تب تیمور نے دیکھا کہ ان لوگوں نے پہلے ہی وہاں لکڑیوں کے ذریعے ایندھن جمع کر رکھا تھا۔ یہاں پہنچ کر ان لوگوں نے مردے کے بدن کو لکڑیوں کے اوپر رکھ دیا اور پھر انہوں نے اس نوجوان عورت کے ہاتھ پاؤں زنجیر سے باندھ دیئے جو رو رہی تھی۔ اب مجمع میں موجود سب لوگ خاموش ہو گئے اور ڈھول پیٹنا گانا بھی بند کر دیاتاہم نفیری کی آواز جاری رہی۔ مجمع میں شامل مرد اور عورتیں اب گریہ و زاری کررہے تھے اور تیمور نے اندازہ لگایا کہ وہ لوگ دراصل مرنے والے کے لیے نہیں بلکہ اس نوجوان عورت کے لیے گریہ کر رہے تھے جو سرخ لباس پہنے ہوئے تھی اور جسے اپنے شوہر کی لاش کے ساتھ ہی جل (ستّی ہو)جانا تھا۔عورت کے ہاتھ پاؤں زنجیر سے باندھنے کے بعد انہوں نے اسے مردے کے ساتھ ہی لکڑیوں پر لٹا دیا‘ پھر انہوں نے آگ دکھا دی اور لکڑیوں نے فوراََ ہی آگ پکڑ لی۔ عورت کے چیخنے کی آوازیں صحرا میں گونجنے لگیں اور فضا میں گوشت جلنے کی بُو پھیل گئی۔ اس روز مردہ اور زندہ کو ایک ساتھ جلائے جانے کا عمل دیکھ کر تیمور اس قدر متنفر ہوا کہ جب تک ہندوستان میں رہا‘ اس نے دوبارہ یہ منظر کبھی نہ دیکھا۔
برسوں ہندوؤں کے ساتھ رہنے کی بدولت آج ہمارے معاشرے میں بھی ایک بیوہ یا مطلقہ کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی وہ حقدار ہے۔ بیوہ یا مطلقہ کی دوسری شادی ایک نہایت کٹھن مرحلہ ہے‘ کوئی بھی کنوارہ مرد‘ اس کے ساتھ شادی کے لیے تیار نہیں ہوتا حالانکہ ہمارے پیارے رہنماکاملﷺ کی ایک کے سوا تمام بیویاں بیوہ یا مطلقہ تھیں۔ مذہب نے بیوہ یا مطلقہ کی جلد از جلد شادی کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے لیکن مناسب رشتہ کا حصول انتہائی مشکل کام ہے حتّٰی کہ ایک پچاس سالہ شخص بھی کنواری و کم سن دلہن کا متلاشی ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اگر بیوہ یا مطلقہ دوسری شادی کے لیے رضامند ہو تو اس بے چاری کے حصّہ میں اپنی عمر سے بہت زیادہ عمر کا رنڈوا ہی آتا ہے۔

(جاری ہے)
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں