پہلا خلیہ ۔ زندگی (22)۔۔وہاراامباکر

زمین زندگی سے بھرا سیارہ ہے۔ اس کی زمین، فضا، سمندر اور زیرِ زمین زندگی سے اٹے پڑے ہیں۔ اور اربوں سال سے زندگی کا یہ چکر جاری ہے۔ اس کا آغاز کہاں سے ہوا؟ بغیر ارتقا کے عمل کے پیچیدگی نہیں آ سکتی۔ ۔ بغیر کاپی کے عمل کے ارتقا نہیں ہو سکتا۔ تو پھر وہ پہلی شے جو اپنی کاپی بنا سکتی تھی؟ ایسی سادہ ترین شے آخر کیا ہو سکتی ہے جس کی وضاحت بائیولوجی کے بجائے تھیوری آف کمپلیسیٹی سے کی جا سکے؟ اس کا ایک ممکنہ امید وار آر این اے کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ فطرت میں کسی بھی نوعیت کا سادہ ترین مالیکیول ہے جس کا ہمیں علم ہے جو اپنی کاپی بنا سکے۔ لیکن اس خیال کے ساتھ مسائل ہیں۔

اگرچہ سادہ بائیوکیمیکل ری ایکشن کے لئے رائبوزوم کیٹالسٹ کا کردار ادا کر سکتا ہے لیکن رائبوزوم کی سیلف ریپلی کیشن (اپنی کاپی بنانا) بہت ہی زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔ پہلی مرتبہ ایسا کرنے کے لئے رائبوزوم کو خود اپنا جینیاتی سیکونس پہچاننا پڑے گا، ماحول سے بالکل ویسے ہی کیمیکل ٹھیک ٹھیک اکٹھے کرنے پڑیں گے، ان کو صحیح ترتیب میں جوڑنا ہو گا تا کہ یہ کاپی بن سکے۔ یہ کام خلیے کے اندر بحفاظت رہنے والی پروٹین کے لئے بھی معرکہ ہے۔ ایک قدیم گاڑھے سیال میں ایسا کرنا؟ اور دوسرا یہ کہ ابھی تک رائبوزوم بنا لینے کی صلاحیت نہ ہی دریافت ہوئی ہے اور یہ اتنا پیچیدہ عمل ہے کہ نہ ہی لیبارٹری میں اس کو کیا جا سکا ہے۔

اور اس سے پیچھے جائیں تو اس سُوپ سے آر این اے کا بننا اس کاپی کے بننے سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ آر این اے کا مالیکیول تین اجزاء پر مشتمل ہے۔ آر این اے بیس جس میں جینیاتی انفارمیشن ہے۔ فاسفیٹ کا گروپ اور ایک شوگر جسے رائیبوس کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اس حد تک کامیابی ضرور ہوئی ہے کہ اس ممکنہ ری ایکشن کا اندازہ لگایا جا سکے جو آر این اے کے بیس اور فاسفیٹ کے اجزاء بنا سکے لیکن جو ری ایکشن رائبوز پیدا کرتا ہے وہ اپنے ساتھ ہی بہت سے دوسرے شوگر بھی۔ بائیولوجی سے باہر کسی میکانزم کا علم نہیں جو رائبوز خود سے پیدا کر سکے۔ اور اگر یہ تینوں اجزاء پیدا ہو جائیں تو اگلا بڑا معرکہ ان کو ترتیب سے جوڑنے کا ہے۔ کسی بھی ترتیب نہیں بلکہ ایک معنی خیز ترتیب میں۔ کیمسٹ آر این اے بیس کو سادہ کیمیکلز سے بڑی احتیاط سے کنٹرول کئے گئے بہت پیچیدہ پراسس کی سیریز سے بناتے ہیں۔ اس میں ہر ری ایکشن کے بعد کی پراڈکٹس کو لے کر الگ الگ کیا جاتا ہے۔ آئسولیٹ کر کے خالص کرنے کا عمل کیا جاتا ہے۔ سکاٹ لینڈ کے کیمسٹر گراہم کیرنز تھامس نے اندازہ لگایا ہے کہ ایک نامیاتی بیس کا قدیم سُوپ میں پائے جانے والے سادہ نامیاتی مالیکیول سے سنتھیسز کرنے کے لئے 140 سٹیپ ہیں جن کو ایک ترتیب سے ہونا ہے۔ ہر سٹیپ پر کم از کم چھ متبادل ری ایکشن ہیں جن کو ہونے سے بچنا ضروری ہے۔ اس کو ایسا سمجھ لیں کہ ایک ڈائس کے پھینکنے پر اگر مطلوبہ عدد چھ ہے۔ تو صرف ایک بیس کے بننے کا مطلب 140 بار چھ کا مسلسل آنا ہے۔

ظاہر ہے کہ کیمسٹ تو اس کام کو حالات کنٹرول کر کے کر لیتے ہیں لیکن بائیولوجی سے قبل کی دنیا میں اس کا انحصار امکان پر تھا۔ اور امکان نکالا جائے تو ہمیں جو عدد ملتا ہے وہ 10^109 میں سے ایک ہے۔ (یہ عدد قابلِ مشاہدہ کائنات میں پائے جانے والے کل بنیادی ذرات سے ایک ارب کھرب کھرب گنا زیادہ ہے)۔

اب اگر بالفرض یہ ناممکن لگنے والا یہ مرحلہ سر ہو جائے اور ایک بار نہیں بلکہ کسی طرح آر این اے کی اچھی مقدار کا سنتھیسز ہو گیا (کسی ایسے ری ایکشن کی مدد سے جس سے ہم واقف نہیں) تو اگلا معاملہ چار الگ بیس ترتیب سے جوڑ کر ایک ایسا رائبوزوم بنا لینے کے ہیں جو ریپلی کیٹ کر سکے۔ رائبوزوم کی لڑی کم از کم سو حروف پر مشتمل ہے۔ ہر پوزیشن پر چار میں سے ایک بیس فٹ ہو سکتا ہے۔ سو حروف میں اس کے بننے کے کل طریقے 10^60 ہیں۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ کوئی ایسا طریقہ تھا جس سے اس ملاپ کو سو حروف کا ہی کروایا جا سکے تو پھر اگر ہمیں ان تمام طریقوں سے آر این اے کا ایک ایک مالیکول بنانا ہو تو ان کا کل وزن 10^50 کلوگرام ہو گا جس میں سے ایک مالیکیول ہمارا مطلوبہ ہو گا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر بیس بن جانے کا مرحلہ طے کر لئے جانے کے فوری بعد ہی اتنے وزن کے آر این اے بن سکیں تو معقول امکان ہے کہ ہمارا مطلوبہ ریپلی کیٹر بھی نکل آئے گا۔ (یہ وزن ہماری کہکشاں کے وزن سے دس کروڑ گنا زیادہ ہے)۔ اور اس عمل کے درمیان تھرموڈائنامکس کا ایک بھی تھپیڑا ابھرنے والی کسی بھی تنظیم کو ڈھا دے گا۔

ممکن ہے کہ سیلف ریپلی کیشن کا صرف ایک طریقہ نہ ہو؟ سو بیس والے بہت سے دوسرے آر این اے کے کمبی نیشن ایسا کر سکتے ہوں؟ ایسے کھرب ہا کھرب ہوں؟ اور ممکن ہے کہ یہ امکان ہماری کیلکولیشن سے کہیں زیادہ ہو؟ ہمیں صرف چند ملین مالیکیول سے اپنا مطلوبہ مالیکیول مل جائے؟ یہ ایک اچھا آرگومنٹ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ صرف آرگومنٹ ہے۔ بہت سی کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی بھی اور طریقہ نہ فطرت میں ملا ہے اور نہ ہی مصنوعی طور پر بنایا جا سکا ہے۔ نہ کوئی آر این اے، نہ ڈین این اے اور نہ ہی پروٹین (اور اس کے نہ ملنے کی وجہ کوشش نہ کئے جانا نہیں)۔ آج کی دنیا میں اپنی کاپی بنانے کے لئے پورا خلیہ درکار ہوتا ہے۔ کیا اربوں سال پہلے یہ کسی آسان طریقے سے ہو گیا ہو گا؟ یقیناً۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج ہم اس بارے میں بیٹھ کر سوال نہ سوچ رہے ہوتے۔ لیکن یہ کیسے ہوا؟ ابھی ہمیں اس کا کوئی اندازہ نہیں۔

اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔ بائیولوجیکل دنیا سے باہر کسی بھی سسٹم کے لئے اپنی کاپی بنانا کتنا آسان ہے؟ تھری ڈی پرنٹر اپنے کچھ حصے بنا لیتے ہیں۔ لیکن ایک پرنٹر جو اپنے جیسا پرنٹر پرنٹ کر سکے؟ ابھی ایسا ممکن نہیں ہوا۔ یہ آسان مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن ایک اور جگہ ہے جہاں پر ہم کاپی کا عمل دیکھ سکتے ہیں۔ یہ فزیکل نہیں، انفارمیشن کی دنیا ہے۔ اس کے لئے ہمیں میٹیریل دنیا چھوڑ کر کمپیوٹنگ میں جانا ہو گا۔ ڈیجیٹل دنیا میں انفارمیشن کی کاپی بنانا آسان ہے اور عام ہے۔ چھوٹے پروگرام، کمپیوٹر وائرس، اپنی کاپیاں بنا کر ایک سے آگے پھیلتے ہیں۔ اگر ہم کمپیوٹر کی میموری کو ڈیجیٹل قدیم سُوپ سمجھیں تو وائرس قدیم سیلف ریپلی کیٹر ہیں۔

سادہ ترین کمپیوٹر وائرس، ٹنبا صرف بیس کلوبائیٹ لمبا ہے۔ ایک کمپیوٹر پروگرام کے لئے بہت چھوٹا لیکن یہ انفارمیشن کے 160000 بِٹ ہیں۔ یہ صفر یا ایک کی حالت میں ہو سکتے ہیں۔ ریاضی کے حساب سے ممکنہ حالتیں 2^120000 ہیں۔ اور یہ عدد اس قدر زیادہ بڑا ہے کہ اگر آپ بڑے اعداد کی ریاضی میں اچھی مہارت نہیں رکھتے تو یہ آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے کہ یہ عدد کتنا بڑا ہے۔ ان تمام حالتوں میں سے صرف ایک حالت سے یہ ریپلی کیٹر بنتا ہے۔ اور اس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اتفاق اس وائرس کے ہونے کی وضاحت نہیں کرتا۔

اگرچہ اس سے زیادہ سادہ کسی بھی ریپلی کیٹر کسی بھی قسم کی پراڈائم میں ہمیں نہیں ملتا۔ لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ کہیں پر کوئی سیلف ریپلی کیشن والے کوڈ کا ہونا ممکن ہے جو ٹنبا سے زیادہ سادہ ہو۔ لیکن اگر ایسا ہوتا تو انٹرنیٹ پر ہر وقت بہتے ان گنت ٹیرابائیٹ اس کو تلاش کر لیتے۔ انٹرنیٹ پر انفارمیشن کی کوئی بھی میوٹیشن (اور یہ ہر وقت جاری رہتی ہیں) ابھی تک ہمارے علم کے مطابق خود سے وائرس نہیں بنا سکی۔ اور یہاں پر نہ ہی انفارمیشن سٹور کی سادگی آڑے آتی ہے اور نہ ہی بڑے اعداد کا مسئلہ ہے۔

یہاں پر ایک تضاد ہے۔ اگر ہم سائنسی طریقے پر قابلِ قبول اعداد و شمار اور امکانات کو دیکھیں تو بہت زیادہ اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ زمین پر زندگی شروع نہیں ہوئی۔ جبکہ دوسری طرف آپ کا اور میرا موجود ہونا یہ بتاتا ہے کہ ایسا کم از کم ایک بار تو ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈیجیٹیل دنیا میں سفر ہمیں زندگی کی ابتدا کے ضروری مسائل سے آگاہ کرتا ہے اور سوال کی نیچر کو تبدیل کر دیتا ہے۔ ٹھیک کنفگریشن ضروری اجزاء کو ممکنات کی بڑی سپیس میں سے حل تلاش کرنا ہے۔ دستیاب کیمیکل سوپ میں سے ایک بڑی سرچ سپیس میں سے ٹھیک جواب ڈھونڈنا اس وقت ممکن ہے اگر تجربات کئے جانے کی دنیا بہت بڑی ہو۔ تو پھر کیا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم کلاسیکل دنیا کے قوانین سے باہر نہیں دیکھ رہے؟ کیا کوانٹم مکینکس اس گتھی کو کھولنے میں کوئی راہ فراہم کر سکتی ہے؟

یہاں پر ہم فوٹوسنتھیسز کے طریقے سے راہنمائی لیتے ہیں۔ ایک پتے میں فوٹون کی توانائی کیسے ٹھیک ٹھیک منزل پر پہنچتی ہے؟ تمام ممکنہ راستے تلاش کر کے۔ یہ کوانٹم سرچ کی حکمتِ عملی ہے جو کوانٹم واک ہے۔

اب اس چھوٹے تالاب کا تصور کریں جس کی چٹان کے مسام میں پھنسے سیال کو دھوپ، نمکیات، حرارت، بجلی وغیرہ دستیاب تھے۔ اس میں پروٹین کا ایک کمپاوٗنڈ، جو مزید پیچیدہ تبدیلیوں کے لئے تیار تھا، بن چکا تھا۔ اس پروٹین کمپاوٗنڈ سے پروٹو انزائم کی تیاری (رائبوزوم کی طرح کا) جو کسی قسم کی انزائم ایکٹیویٹی کر سکتا تھا۔ اب تصور کریں کہ اس انزائم کے کچھ پارٹیکل مختلف جگہیں لے رہے تھے جو کلاسیکل توانائی کے بیریئر نہ لینے دیں۔ الیکٹران اور پروٹون ٹنل کر رہے ہوں۔ الیکٹران اور پروٹون بیرئیر کی دونوں اطراف میں موجود ہوں۔ اور مختلف کنفگریشن بیک وقت اپنا سکتے ہوں۔

اگر اس انزائم میں کل 64 پروٹون اور الیکٹرون ہوں تو اس کو دستیاب ویری ایشنز 2^64 ہیں۔ اب فرض کریں کہ ان میں سے ایک ایسا ہے جو سیلف ریپلی کیٹنگ ہے۔ کلاسیکل ویو سے صرف یہاں تک پہنچنا ہی مسئلہ نہیں۔

تصور کریں کہ پہلا پروٹو انزائم ایک کلاسیکل مالیکیول ہے جس کو کوئی کوانٹم چالاکی نہیں آتی۔ سپرپوزیشن اور ٹنلنگ کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ یہ مالیکیول اپنی بورنگ حالت میں رہے گا۔ مالیکیول تبدیل ہوتے ہیں اور کلاسیکل دنیا میں یہ تھرموڈائنمکس کی وجہ سے شکست و ریخت کا شکار ہونے والی تبدیلی ہے اور سست رفتار ہے۔ پہلے کچھ ٹوٹتا ہے اور پھر کسی نئے طریقے سے ارینج ہو کر نیا بنتا ہے۔ مستحکم مالیکیول لاکھوں برس بھی رہ سکتے ہیں۔ کلاسیکل دنیا میں ہماری پروٹوانزائم کے لئے 2^64 حالتوں میں سے بہت قلیل سی تعداد ایکسپلور کرنے کے لئے بھی بہت بڑا وقت درکار ہے۔

لیکن یہ صورتحال اس وقت یکسر تبدیل ہو جاتی ہے اگر یہ ذرات تمام متبادل پوزیشنوں میں ٹنلنگ کے ذریعے جا سکتے ہیں۔ کوانٹم سسٹم میں پروٹوانزائم اتنی پوزیشنوں میں بیک وقت رہ سکتی ہے۔ اگر یہ کوانٹم کوہرنس کی حالت برقرار رکھنے کا گر پا لے تو پھر یہ پروٹوانزائم 64 کیوبِٹ کے کوانٹم کمپیوٹر کا کام کر رہی ہے اور یہ بہت ہی طاقتور ڈیوائس ہے۔ ایسی مشین جلد اس سوال کا جواب پا سکتی ہے کہ سیلف ریپلی کیشن کے لئے ٹھیک مالیکیولر کنفگریشن کیا ہو گی۔ اس طریقے سے حل مل سکتا ہے۔ یہ مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔

اب یہاں پر ایک مختلف الجھن ہے۔ کیوبِٹ کی دشمن کوانٹم ڈی کوہرنس ہے۔ ایک بار ڈی کوہرنس آ جائے تو پھر یہ الگ حالتیں کولپیس ہو کر ایک حالت بن جائے گی۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ یہ وہ جگہ ہے جہاں کوانٹم وضاحت کلاسیکل سے مختلف ہے۔

اگر ایک مالیکیول کوانٹم مکینیکل بیہیو نہیں کر رہا تو یہ اپنے آپ کو غلط کنفگریشن میں پائے گا اور کاپی نہیں بنا سکے گا اور جیولوجیکل ٹائم سکیل پر تبدیل ہو گا۔ لیکن ڈی کوہرنس کے فوری بعد اگر اس کے اجزاء ایک بار پھر کوانٹم ٹنل بنانے اور سپرپوزیشن میں جانے کے لئے تیار ہیں تو یہ ایک بار پھر کوانٹم سرچ سپیس میں داخل ہو جائیں گے۔ ڈی کوہرنس اسے جلد کولیپس کر دے گی لیکن ہر ڈی کوہرنس کے بعد سسٹم خود کو نئی حالت میں پائے گا اور یہ عمل چلتا جائے گا۔ کوانٹم سکے اچھال کر یہ سرچ سپیس میں ریپلی کیشن والی حالت میں پہنچ جائے گا۔ اور ریپلی کیشن کے بعد یہ سکے کیوں اچھلنا بند ہو جائیں گے؟ اس کی وجہ کوانٹم پیمائش ہے۔ کاپی کا عمل اس کو روک دے گا اور یوں یہ واپس نہ کی جا سکنے والی ٹرانزیشن کر لے گا اور کلاسیکل دنیا میں داخل ہو جائے گا۔ اور یوں پہلے سیلف ریپلی کیٹر کی پیدائش ہو گی۔ بائیومالیکیولر پراسس اور ماحول سے تعامل اس پروٹوریپلی کیٹر کے نئے ارینجمنٹ روک دیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ظاہر ہے کہ یہ سب speculative ہے۔ لیکن کم از کم کوانٹم مکینکس سرچ پرابلم کو حل کر سکتی ہے۔ کیا ہمیں معلوم ہے ایسا کونسا ایسا سٹرکچر ہے جو یہ کمال دکھا سکے؟ اس کا کچھ اندازہ ہے۔ (اس کی تفصیل نیچے دی گی کتاب میں)

اپرووا پٹیل جو بنگلور میں آئی آئی ٹی میں ہائی انرجی فزسٹ ہیں اور کوانٹم الگورتھم کے عالمی ماہرین میں شمار کئے جات ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جینیاتی کوڈ چغلی کھاتا ہے کہ اس کی ابتدا کوانٹم کوڈ سے ہوئی ہے۔ (اس کی تفصیل کوانٹم انفارمیشن تھیوری کی ریاضی میں ہے)۔ اور یہ ایسا آئیڈیا نہیں جو حیران کن ہو۔ ہمیں معلوم ہے کہ زندگی کوانٹم الگورتھم جگہ جگہ پر استعمال کرتی ہے۔ اگرچہ زندگی کی ابتدا کا یہ خیال قیاس آرائی ہے لیکن ایسی جو موجودہ خیالات کی ہی ایکسٹینشن ہے۔ کوانٹم کوہرنس بائیولوجی میں اہم کردار ادا کرتی ہے تو بائیولوجی کی شروعات میں بھی ممنوعہ علاقہ نہیں۔

ظاہر ہے کہ کوانٹم مکینکس سے زندگی کی ابتدا کی وضاحت کو آوارہ خیالی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن کلاسیکل وضاحت کسی بھی چیز کی وضاحت نہیں کرتی۔ ظاہر ہے کہ زندگی نے کوانٹم کوہرنس رکھنے کے حربے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے طریقے تاریخ میں کبھی نہ کبھی تو دریافت کئے ہیں (ان کی تفصیلات بعد میں)۔ اگر یہ دریافت پہلے خلیے سے پہلے کی ہے تو قدیم تالابوں سے زندگی کا ابھرنا اتنا ناقابلِ یقین نہیں رہتا۔

(جاری ہے)

اسکے بارے میں تفصیل سے پڑھنے کے لئے یہ کتاب
https://en.wikipedia.org/wiki/Quantum_Aspects_of_Life

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *