سنتِ محمدی اور سنتِ نبوی میں فرق۔۔حافظ صفوان محمد

د رکھنا چاہیے کہ نبیِ آخر الزماں حضرت محمد علیہ السلام نے باوجویکہ یتیمی اور نہایت غربت و عسرت میں آنکھ کھولی اور معاشی طور پر ساری زندگی نچلے طبقے کا حصہ رہے اور حیاتِ مستعار کے محض آخری چند سال میں کچھ آسودگی دیکھی، لیکن خدا نے آپ کو ایسی صفات عطا فرمائی تھیں کہ آپ اپنے علاقے کی وقت کی اشرافیہ میں نہ صرف اٹھ بیٹھ رکھتے تھے بلکہ جب لوگوں کی معتدبہٖ تعداد نے آپ کے دعوائے نبوت کو عام طور سے قبول کر لیا اور بعدِ ہجرت مدینہ منورہ میں سیاسی اور معاشی طور پر آپ کے قدم جم گئے تو اشرافیہ نے سیاسی وجوہ سے آپ سے خود میل جول بڑھانا شروع کیا۔ آپ کے حینِ حیات ایمان لانے والوں کی تعداد بہت زیادہ نہ تھی اور حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ و مدینہ اور ملحق علاقہ جات کے باسیوں کے علاوہ حجاز کے لوگوں کی بڑی تعداد نے آپ کو پہلی اور آخری مرتبہ دیکھا۔ اس حج میں ساری دنیا سے کتنے علاقوں کے لوگ تشریف لائے تھے، اس کا کوئی قابلِ اعتماد ڈیٹا موجود نہیں ہے بلکہ کچھ تاریخیں تو اس واقعہ کے ذکر سے بھی خالی ہیں۔ کچھ مسلم مورخین نے تبوک کے ایک قافلے اور چند شامی و یمنی باشندوں کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا ہے اور بس۔ چنانچہ اس حج میں حجاز اور چند قریبی علاقوں کے لوگ موجود تھے۔ اور یہ دعویٰ کسی ثبوت کا محتاج نہیں کہ ان تمام حاضرین میں عجمی ایک بھی نہ تھا۔ لیکن آپ رحمۃ للعالمین تھے اور آپ نے جو خطبہ ارشاد فرمایا وہ تمام انسانیت کے لیے تھا۔ خدا نے قرآن میں آپ کا تعارف بھی اِنی رسول اللہ الیکم جمیعًا کے الفاظ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ فرما دیا ہے۔

علاقے کے لوگوں نے آپ کو ہر حال میں دیکھا: ایک یتیم بچے کے روپ میں جو جلد ہی یسیر ہوگیا، دادا فوت ہوئے تو تایاؤں ساتھ یہ اکیلی جان بچہ جس کا کوئی بھائی نہ بہن، کبھی ادھر بیٹھ گئے تو کبھی ادھر، لیکن اس تنہائی اور سر پر کسی بڑے کی نگرانی نہ ہونے کے باوجود خدا نے آپ کی حفاظت فرمائی اور آپ ایک مناسب کیریر منتخب کرنے میں کامیاب رہے۔ کچھ عرصہ ہوائی رزق کمانے کے بعد علاقے کی ایک معزز متمول خاتون کے نجی کاروبار میں ملازمت سے آپ نے عملی زندگی میں قدم رکھا۔ اب لوگوں نے آپ کو ایک کاروباری ایجنٹ، ایک تاجر، ایک باپ اور ایک شوہر کی حیثیت میں دیکھا۔ سماج کا ایک بڑا حصہ آپ کو لوگوں کے کام آتے اور جھگڑے چکاتے بھی دیکھتا رہا۔ جس کا بھی آپ سے معاملہ ہوا اس نے آپ کے لین دین کی صفائی کی تعریف کی۔ آپ صادق و امین مشہور ہوگئے۔

پھر خدا نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ نبی کا عمل اس کے پیروکاروں کے لیے حجت اور وجہِ اجر ہوا کرتا ہے۔ آپ کے عمل کے مطابق اپنے عمل کو کرنا نیکی ٹھہرا۔ اس کو اصطلاح میں سنت کہتے ہیں۔

خوب سمجھنے کی بات ہے کہ آپ علیہ السلام کی زندگی دو طرح کی ہے: دعوائے نبوت سے قبل کی اور بعد کی، اور آپ سے دو طرح کے افعال سرزد ہوئے ہیں: بطورِ انسان اور بطورِ نبی۔ نبوت کے بعد بھی آپ بعض کام بطورِ انسان (بطورِ باپ/ شوہر/ دوست/ فردِ معاشرہ وغیرہ) کرتے رہے اور بعض کام بطورِ نبی اور بطورِ نبیِ آخر الزماں۔ مثلًا اشاعتِ دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کا کام بطورِ نبی اور بطورِ نبیِ آخر الزماں آپ کی مستقل سنت ہے اور ہر امتی کو اس کام میں لگنا چاہیے۔ یہ ایسی سنت ہے جس پر سفر حضر میں اور سوتے جاگتے ہر حال میں عمل کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے جو کام بطورِ انسان کیے اور نبوت سے پہلے کی چالیس سالہ زندگی میں کرتے رہے مثلًا کھانا پینا سونا جاگنا اٹھنا بیٹھنا میل ملاقات وغیرہ، یہ سب سنتِ محمدیہ ہیں۔ ان سب کاموں کو جو بھی انسان حضرت محمد والے طریقے سے کرے گا وہ اگر مسلمان نہ بھی ہو تو اسے دنیاوی فائدہ ضرور ملے گا، اور جو مسلمان یہ کام حضرت محمد والے طریقے سے کرے گا اسے دنیوی فائدے کے ساتھ ساتھ اخروی اجر بھی ملے گا۔ چنانچہ سنتِ محمدی پر عمل کا فائدہ خدا کے سارے کنبے کے لیے ہے جب کہ سنتِ نبوی پر عمل کا اجر صرف کلمہ گو کے لیے خاص ہے۔ مکرر عرض ہے کہ سونے جاگنے، کھانے پینے اور کپڑا پہننے اتارنے وغیرہ وغیرہ کے طریقے سنتِ محمدی ہیں جن کا نفع ساری انسانیت کے لیے عام ہے اور جن پر اگر مسلمان بھی عمل کرلے تو اجر پائے گا۔

اس بات کو ذرا مزید وضاحت سے لکھتا ہوں کہ مثلًا روٹی کتنی کھانی ہے اور کھانی بھی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ آپ بحیثیت انسان کرتے ہیں نہ کہ بحیثیت مسلمان۔ روٹی کھانا نہ کھانا ایک انسانی فعل ہے جو شعائرِ اسلام میں شامل نہیں ہے۔ روٹی کتنی کھانی ہے، سالن کے ساتھ کھانی ہے یا شوربے میں ڈبو کر کھانی ہے، توے پر پکی کھانی ہے یا تنور میں لگی ہوئی کھانی ہے، چنگیر میں رکھ کر ہاتھ سے توڑ کر کھانی ہے یا شوارمے کی شکل میں لپیٹ کر دانتوں سے کاٹ کر کھانی ہے یا برگر کی صورت میں ڈبل روٹی کھانی ہے، ان سب باتوں سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام نے نہ روٹی کی کوئی شکل متعین کی ہے نہ مقدار، کیونکہ روٹی انسانی مسئلہ ہے نہ کہ اسلام کا۔ اسلام نے بھوک لگنے پر کھانا کھانے کو کہا ہے اور بس۔ جو مسلمان اس کھانے میں نبی کا طریقہ (سنتِ محمدی) ڈھونڈ کر اس پر عمل کرتے ہوئے کھا لے گا اسے یقینًا اجر بھی ملے گا ورنہ بھوک تو اس کی بھی مٹ جائے گی جو اس طریقے پر عمل نہیں کرتا۔

انسانی زندگی کے لازمی افعال کی دیگر مثالیں بھی اسی طرح ہیں۔ آپ کشتی پر بیٹھتے ہیں یا ہوائی جہاز پر، اور چاند گاڑی پر بیٹھتے ہیں یا لیموزین پر، یہ آپ کا خالص انسانی فیصلہ ہے جس سے اسلام کو فائدہ پہنچتا ہے نہ گزند۔ آپ کون سا کپڑا پہنتے ہیں اور کس تراش خراش کا پہنتے ہیں، یہ آپ کا اپنا مسئلہ ہے نہ کہ اسلام کا۔ جو مسلمان لباس پہننے میں نبی کا طریقہ (سنتِ محمدی) ڈھونڈ کر اس پر عمل کرتے ہوئے پہن لے گا اسے یقینًا اس کا اجر ملے گا ورنہ کپڑے سے زینت تو غیر مسلم کو بھی مل ہی جائے گی۔ خوب یاد رکھنے کی بات ہے کہ کسی خاص تراش خراش کا کپڑا پہننا اگر کفار کی مشابہت ہے تو اونٹنی، گدھے اور گھوڑے کے علاوہ کسی سواری پر بیٹھنا بھی کفار کی مشابہت ہے۔ لباس، سواری اور دیگر افعالِ انسانی میں سنتِ محمدی تلاش کی جانی چاہیے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہیے لیکن یاد رہے کہ یہ سب افعال سنتِ نبوی نہیں، سنتِ محمدی ہیں۔

اب ذرا شادی کو سنتِ نبوی اور سنتِ محمدی کے فرق کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ شادی وہ اہم ترین سماجی معاہدہ ہے جس سے تقریبًا ہر انسان کو واسطہ پڑتا ہے۔ شادی چونکہ زمانہ قبل از تاریخ سے چلی آ رہی ہے اور مسلمان اور غیر مسلم دونوں کرتے ہیں چنانچہ یہ بھی ایک انسانی فعل ہے نہ کہ اسلامی عبادت۔ حضرت محمد علیہ السلام نے بھی تفویضِ نبوت سے بہت عرصہ قبل شادی کی چنانچہ شادی سنتِ محمدی ہے نہ کہ سنتِ نبوی۔ جو مسلمان شادی کرنے میں نبی کا طریقہ (سنتِ محمدی) ڈھونڈ کر اس پر عمل کرتے ہوئے شادی کرے گا اسے یقینًا اس کا اجر ملے گا ورنہ شادی سے جسمی و جنسی راحت اور بچے تو غیر مسلم بلکہ دہریے کو بھی مل ہی جاتے ہیں۔ شادی کب کرنی ہے اور کرنی بھی ہے یا نہیں؟ بچے کتنے پیدا کرنے ہیں اور کتنے وقفے سے کرنے ہیں، اور کرنے بھی ہیں یا نہیں؟ شادی کس عمر میں کرنی ہے؟ وغیرہ وغیرہ وہ باتیں ہیں جن کے بارے میں کوئی حتمی حکم یا نص نہیں ہے ورنہ نبی کریم اور سب صحابہ کی شادیاں ایک ہی عمر میں اور ایک ہی عمر کی عورتوں سے ہوتیں، سب کی بیویوں کی تعداد برابر ہوتی اور بچوں کی تعداد بھی برابر ہوتی، کسی جوڑے کے بچے نہ ہوتے تو ریاست اسے زبردستی مطلوبہ تعداد میں لے پالک بچے رکھنے پر مجبور کرتی، نیز بچوں کو دودھ پلانے کی عمر کی قانونًا پابندی کرائی جاتی۔ بیوی سے نزدیکی رات دن میں کس وقت کرنی ہے، کس طریقے سے کرنی ہے اور کتنی مرتبہ کرنی ہے، اس کے بارے میں کوئی نص ضرور شاملِ وحی ہوتی ورنہ نبی کریم سے پورا پورا مہینہ ناغہ کرنا بھی ثابت ہے اور رات دن میں ایک بیوی سے چار پانچ مرتبہ قربت کرنا بھی اور ایک ہی رات میں 9 بیویوں سے قربت کرنا بھی۔ شادی اگر اسلامی فرائض میں شامل ہوتی یا سنتِ نبوی ہوتی تو اسلامی ریاست سب باشندوں کی شادی کراتی اور شادی نہ کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کے احکامات خدا کی کتاب میں نازل ہوتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن چونکہ صدرِ اسلام کی تاریخ ایسے کوئی شواہد پیش کرنے سے قاصر ہے اس لیے معلوم ہوا کہ شادی، شادیوں کی تعداد، بیوی سے نزدیکی کا تعدد اور طریقہ، بچوں کی تعداد اور پیدائش میں وقفہ وغیرہ افعال کو انسانی سماجی افعال گردانتے ہوئے سنتِ محمدی ہی رہنے دیا گیا تھا نہ کہ انھیں دین کا حصہ بنایا گیا تھا (یعنی ان سب افعال کو لوگوں کی سہولت، جسمانی صحت، نیز سیاسی، سماجی، جغرافیائی اور معاشی حالات، وغیرہ، پر چھوڑ دیا گیا)۔ القصہ شادی سنتِ محمدی ہے، یہ سنتِ نبوی تب بنتی اگر مندرجہ بالا افعال اور تعداد کو مثلًا نماز کی رکعات کی تعداد کی طرح متعین کیا جاتا اور صحابہ کرام سے اس کی پابندی کرائی جاتی اور پابندی نہ کرنے والوں پر خطاب و عتاب کیا جاتا اور اخروی عذاب کی تنذیر کی جاتی۔

یہ بات بھی خاطر نشان رہے کہ کوئی فرض عبادت ادا ہو ہی نہیں سکتی جب تک کہ اس میں سنت طریقہ شامل نہ ہو۔ مثلًا نماز فرض ہے؛ نماز کے اندر ہر ہر رکن میں نبی کی سنت موجود ہے؛ جب تک ہر ہر رکن میں یہ سنت ادا نہیں ہوگی، نماز کا فرض (پورے طور سے) ادا ہی نہیں ہوسکتا۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ نبوت سے قبل بھی حضرت محمد علیہ السلام عبادت فرماتے تھے جس میں روزے سمیت کئی طرح کے ذکر اذکار شامل تھے۔ عبادت کے یہ سب طریقے سنتِ محمدی ہیں۔ عبادت کے صرف وہ طریقے سنتِ نبوی بنے جو آپ علیہ السلام نے امت کو ازاں بعدِ بعثت تعلیم فرمائے۔ مثلًا رات دن کے کس حصے میں کب اور کتنی نماز پڑھنی ہے، یہ آپ علیہ السلام نے بحیثیتِ نبی امت کو تعلیم فرمایا۔ اسی طرح مثلًا روزے اور حج میں کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے، یہ آپ علیہ السلام نے بحیثیتِ نبی امت کو تعلیم فرمایا۔ فرض عبادات کے یہ سب طریقے سنتِ نبوی ہیں۔ جو مسلمان ان عبادات کو سنت طریقے پر ادا نہیں کرتا، اس سے فرض تو ادا ہوسکتا ہے تاہم سنت کا اجر نہیں ملے گا۔ مثلًا نماز کو ٹال کر پڑھنے سے فرض ادا ہو جاتا ہے، وقت پر پڑھنے کی سنت ادا نہ ہونے کی وجہ سے اتباعِ سنت کا اجر نہیں ملتا (جو بے شک بڑی محرومی ہے۔)

اگر ہم اوپر کی مثالوں سے خلاصہ نکالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز سنتِ محمدی سے سنتِ نبوی تب بنی جب اس کا وقت، رکعتوں کی تعداد، بنیادی ڈھانچہ اور شرائط (وضو، رخ، وغیرہ) حتمی طور پر تعلیم فرما دیے گئے۔ نماز کی طرح روزہ، زکوٰۃ اور حج بھی پہلی امتوں سے چلتی آتی عبادتیں تھیں جو اس امت پر تب فرض ہوئیں جب ان میں حضرت محمد علیہ السلام نے بحیثیتِ نبی اپنی سنت جاری کی۔ یہ سب عبادتیں نبی کریم نے خود ادا کرکے یا کرواکے دکھائیں اور یہ سنتِ نبوی بنیں۔

القصہ کھانا پینا، سونا جاگنا، پہننا برتنا، شادی بیاہ، وغیرہ، سب انسانی افعال ہیں اور یہ تمام افعال حضرت محمد علیہ السلام نبوت سے قبل بھی انجام دیتے آ رہے تھے۔ امت کے لیے ان سب افعال کا کرنا سنتِ محمدی ہے، جو مسلمان اور غیر مسلم دونوں کرسکتے ہیں۔ یعنی کھانے پینے، سونے جاگنے، پہننے برتنے اور شادی بیاہ وغیرہ کے لیے مسلمان ہونے کی شرط نہیں ہے۔ اِنی رسول اللہ الیکم جمیعًا کے اعلان کی وجہ سے یہ سب انسانی افعال سنتِ محمدی ہوگئے اور ان کا نفع ساری اولادِ آدم کے لیے عام فرما دیا گیا۔ غیر مسلم بھی یہ افعال کرکے سنتِ محمدی پر عمل کرسکتے اور ان کا دنیوی فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اور خدا توفیق دے تو کلمہ پڑھ کر اخروی اجر میں شامل ہو سکتے ہیں۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *