مرد آہن اور پاکستانی معاشرہ/فضیلہ جبیں

مرد اور عورت نسل ِ آدم کی دو اصناف ہیں اور دونوں ہی اپنی صنف میں اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن یہ معاشرتی اور انسانی رویے ایسے صنفی امتیاز پیدا کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے نا صرف عورت بلکہ مرد کو بھی بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ عموماً ہمارے معاشرے میں یہی مفروضہ عام ہے کہ مرد عورت پر غالب اور عورت حد درجہ مغلوب اور مظلوم ہے۔ بے شک مرد عورت کا ہر رشتے میں محافظ ہے۔ پہلے باپ کی صورت میں پھر بھائی اور پھر شوہر کی شکل میں ۔لیکن حالات اور حقائق دیکھتے ہوئے اکثر فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مرد محافظ ہے یا نہیں۔

وطنِ  عزیز میں ہر روز اخبار یا الیکٹرانک میڈیا پر پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے کہ فلاں مرد نے اپنی بیوی کو تشدد کر کے  قتل کر دیا۔ تو کہیں معصوم بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا جاتا ہے تو کہیں عورت تیزاب گردی کا شکار ہے ۔ کہیں عورت کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ اگر عورت شادی سے انکار کر دے تو یا تو تیزاب پھینک کر یا قتل کر کے  مردانگی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ تشدد پسندی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ مرد انسان سے جانور بنتا   نظر آتا ہے۔

جہاں عورت اتنے ظلم سہہ رہی ہے وہیں مرد بھی  ایسے مظالم کا شکار ہے۔ کچھ سال پہلے کی میڈیا رپورٹ کے مطابق ماڈل مجاہد رسول نے فوٹو گرافر عظیم ثانی پر جنسی ہراسانی کا الزام لگا دیا۔ ماڈل مجاہد رسول نے کہا کہ وہ سات آٹھ سال سے کامیابی کے لئے جدو جہد کر رہے  ہیں، جس دوران انہیں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

اگر معاشرتی اقدار بلند اور تربیت اچھی ہو تو اچھا ماحول بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح ایک بیج نرم مٹی میں بویا جاتا ہے اسے اردگرد کی مٹی سے نمی اور حدت ملتی ہے ۔ وہی چھوٹا سا بیج ایک چھوٹا سا پودا بن جاتا ہے۔ زمین سے نکل کر جب بڑھتا ہے  تو اس پر چھوٹے چھوٹے ہرے پتے نکلتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی چھوٹا سا پودا ایک مضبوط درخت بن جاتا ہے جس پر پھل لگتا ہے ۔ اور یہ درخت کتنوں کو سایہ مہیا کرتا ہے۔ ایک چھوٹے پودے کو مضبوط درخت بنتے کتنی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی موسم کی شدت تو کبھی تیز دھوپ۔ ایک مرد بھی اسی درخت کی طرح اپنوں کو تحفظ اور سایہ مہیا کرتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

پاکستانی معاشرے میں مرد کو صرف پیسہ کمانے کی مشین بنا دیا جاتا ہے۔ تعلیم مکمل ہوتے ہی کبھی روزگار کے لئے دھکے تو کبھی کاروبار کے لئے مشقت۔ مرد کی جوانی کا ایک خوب صورت حصہ اسی مشقت میں صَرف ہو جاتا ہے۔‏مرد جب کمانے نکلتا ہے تو کبھی کبھی ذلت بھی یہ سوچ کر برداشت کر لیتا ہے کہ وہ جنہیں گھر کی چار دیواری میں چھوڑ کے آیا ہے وہ عزت کی زندگی گزار سکیں۔ اس جدو جہد میں وہ کتنی قربانیاں دیتا ہے۔ وقت کی سختیاں برداشت کرتے کرتے اکثر انسان تلخ مزاج بھی ہو جاتا ہے۔جہاں اکثر مرد معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں تو وہیں مرد آہن اس معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ معاشرے میں کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوئے مرد اور عورت کا اپنا اپنا کردار ہے اور دونوں ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر ہم اس صنفی امتیاز کو طول دینے کی بجائے سمجھنا شروع کر دیں تو زندگی آسان اور معاشرہ مثبت ہو جائے گا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply