علامہ اقبالؒ کی کتاب جاوید نامہ کا مختصر مطالعہ۔۔لئیق احمد

علامہ اقبالؒ کا تمام تر شعری سرمایہ فارسی اور اُردو میں ہے اور ان دونوں زبانوں میں ان کے شعری مجموعے الگ الگ شائع ہوتے رہے ہیں لیکن علامہ اقبالؒ خود اپنے فارسی اشعار میں فرماتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ میں نے دونوں زبانوں میں شاعری کی ہے  لیکن اُردو زبان میں وہ پختگی نہیں ہے کہ وہ فارسی زبان کی شیرینی اور وسعت کا مقابلہ کرسکیں۔ محمد جان شکوری بخارائی کی کتاب ’’خراسان است اینجا پر‘‘ تقریظ میں معروف تاجک شاعر شیر علی لکھتے ہیں۔
’’علامہ اقبالؒ کے ایک ہم عصر دانشمند نے ان سے کہا آپ کے اشعار ہمارے لیے زندگی بخش و آزادی بخش ہیں۔ آپ ہمارے رہنما ہیں ہم فارسی نہیں جانتے آپ اُردو میں شعر کہیے اقبال نے انگریزی میں یوں جواب دیا یہ اشعار مجھ پر فارسی زبان میں الہام ہوتے ہیں میری رُوح کی زبان فارسی ہے۔‘‘
لیکن عوام میں علامہ اقبالؒ کی اُردو شاعری ہی مقبول ہیں جس کی اہم وجہ فارسی زبان سے ناآشنائی ہیں گو کہ بہت سے محققین نے علامہ اقبالؒ کی فارسی شاعری کی کتب کے تراجم اور تشریح کی ہیں لیکن اس حوالے سے اور بہت سی کاوشیں کرنے کی ضرورت ہیں۔

جاوید نامہ کی اہمیت و عظمت!
جاوید نامہ علامہ اقبالؒ کی فارسی شاعری کی وہ کتاب ہے جو انہوں نے مثنوی کی شکل میں لکھی یہ تقریباً 2,000 اشعار پر مشتمل ہے اور یہ سب سے پہلے 1932 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا شمار علامہ کی بہترین کتب میں ہوتا ہے اور اسے وہ اپنی زندگی کا حاصل سمجھتے تھے۔ یہ کتاب دراصل علامہ اقبالؒ کا خیالی سفرنامہ ہے جس میں ان کے راہبر مولانا روم انہیں مختلف سیاروں کی سیر کرواتے ہیں جہاں علامہ اقبالؒ تاریخ کی کئی نامور ہستیوں کی ارواح سے ملاقات کرتے ہیں۔ اس مثنوی میں قسم قسم کے علمی و فکری، دینی و سیاسی اور اجتماعی حقائق کو پیش کیا گیا ہیں۔ اسی بات کہ پیش نظر علامہ اقبالؒ کو بجاطور پر اپنی اس مثنوی کی بے مثل حیثیت کا احساس تھا۔ چنانچہ ایک خط میں لکھتے ہیں۔
’’جہاں تک میرا علم ہے کسی زبان میں اس قسم کی کتاب اس سے پہلے نہیں لکھی گئی۔
اس بات کو اپنے ایک شعر میں یوں کہا:
آنچہ گفتم از جہانے دیگر است
این کتاب از آسمانے دیگر است
(ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی، ’’شرح جاوید نامہ‘‘ سنگ میل پبلیکیشنز لاہور،2005، ص 3)

ایک ایرانی شاعر کاظم رجوی نے علامہ اقبالؒ کی اس کتاب کی تعریف اس انداز میں کی:
’’یوں تو حضرت علامہ کی جملہ تصانیف نقوش دوام کا حکم رکھتی ہیں مگر یہ کتاب سب سے ممتاز ہیں یہ وہ تصنیف ہے جس کی تکمیل  پر مصنف نے اپنے دل و دماغ کے نچڑ جانے کا ذکر کیا۔ اس افلاکی ڈرامائی نظم کو دلکھنے سے قبل مفکر شاعر نے اس نہج پر لکھی جانے والی تمام دستیاب کتابوں کا مطالعہ کیا کیوں کہ اس کتاب کا ایک حصہ حقائق معراج کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ حضرت علامہ کا یہ تخیلی سفر فارسی کی نادر اور منفرد کتاب ہے۔‘‘(ڈاکٹر محمد اقبال، جاوید نامہ، اقبال اکادمی، 1982)
ڈاکٹر عبدالشکور احسن اس کتاب کے متعلق فرماتے ہیں:
’’حقیقت یہ ہے کہ اس میں حقیقت و تخیل کو جس انداز میں ہم آہنگ کیا گیا ہے اور اس میں افکار کے عمق، تخیل کی توانائی و فسوں کاری اور قوتِ بیانیہ کے سحر و اعجاز کے ساتھ ساتھ جرأتِ اظہار کا جو انداز ملتا ہے، اس نے علامہ کے اس شاہکار کو یکتائے روزگار ادبی اور فکری تخلیق بنا دیا ہے۔ علامہ کی آرزو تھی کہ اس کتاب کو بہ طریق احسن ترجمہ کیا جائے اور اگر ہوسکے تو اس کے مطالب کو مصوّر بھی کیا جائے انہیں یقین تھا کہ یہ کوشش مترجم اور مصوّر کی شہرت کا باعث ہوگی۔‘‘(اقبال کی فارسی شاعری کا تنقیدی جائزہ، ص42)

ڈاکٹر غلام محی الدین صوفی نے اقبال کو ایک خط بتایا کہ ان کا ایک دوست ’شکوہ‘ اور ’جواب شکوہ‘ کا انگریزی منظوم ترجمہ کررہا ہے اس کے جواب میں 30 مارچ 1933 کو اقبال نے لکھا:
’’بانگ درا کی بیشتر نظمیں میری طالبِ علمی کے زمانے کی ہیں زیاہ پختہ کلام افسوس کہ فارسی میں ہوا۔ بانگ درا سے زیادہ اہم کام یہ ہے کہ جاوید نامہ کا ترجمہ کیا جائے۔ یہ نظم ایک قسم کی ’ڈیوائن کامیڈی‘ ہے مترجم کا اس سے یورپ میں شہرت حاصل کرلینا یقینی امر ہے اگر وہ ترجمے میں کامیاب ہوجائے اور اگر اس ترجمہ کا کوئی عمدہ مصوّر (السٹریٹ) بھی کردے تو یورپ اور ایشیا میں مقبول تر ہوگا اس کتاب میں بعض بالکل نئے تخیلات ہیں اور مصوّر کے لیے بہت عمدہ مسالا ہے۔‘‘
(ڈاکٹر محمد اقبال، جاوید نامہ، اقبال اکادمی، 1982)

تعارف جاوید نامہ
دوسری گول میز کانفرنس کے موقع پر لندن میں انڈیا سوسائٹی کی طرف سے 4نومبر 1931 کو ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں علامہ نے تقریر کرتے ہوئے اپنی فارسی کتب کا تعارف حاضرین سے کروایا۔ آخر میں جاوید نامہ کی متعلق فرماتے ہیں:
’’میری تازہ تصنیف جاوید نامہ مطبع ہوچکی ہے اور غالباً ایک دو مہینے میں چھپ جائے گی یہ حقیقت میں ایشیا کی ڈیوائن کامیڈی ہے۔ اس کا اسلوب یہ ہے کہ شاعر مختلف ستاروں کی سیر کرتا ہے مختلف مشاہیر کی روحوں سے مل کر باتیں کرتا ہے پھر جنت میں جاتا ہے اور آخر میں خدا کے سامنے پہنچتا ہے اس تصنیف میں دورِ حاضر کے تمام جماعتی اقتصادی سیاسی مذہبی اخلاقی اور اصلاحی مسائل زیر بحث آگئے ہیں اس میں صرف دو شخصیات یورپ کی آئی ہیں اوّل کچنر، دوم نٹشے باقی تمام شخصیتیں ایشیا کی ہیں دانتے کے اپنا رفیق سفر ’ورجل‘ کو بنایا تھا میرے رفیق سفر یا خضر طریق مولائے روم ہیں آپ حیران ہوں گے کہ کچنر اس ضمن میں کیسے آگیا۔
جاوید نامہ میں کچنر اور فرعون آپس میں باتیں کرتے ہیں فرعون کچنر کو طعنہ دینا ہے کہ یورپ کے لوگ بڑے بے رحم ہیں اور بے درد ہیں انہوں نے ہماری قبریں تک کھود ڈالیں کچنر جواب دیتا ہے کہ ہمارا مقصد سائنس کی خدمت اور علم آلاثار کی خدمت ہے۔ قبریں اس لیے کھودی ہیں کہ معلوم ہو آج سے تین چار ہزار قبل دنیا کی حالت کیا تھی فرعون اس تشریح کے جواب میں کہتا ہے:

قبر ما علم و حکمت پر کشود
لیکن اندر تربتِ مہدی چہ بود؟
(یعنی ہماری قبر تو تم لوگوں نے علم و حکمت کے لیے کھودیں لیکن مہدی کی قبر میں کیا تھا اشارہ ہے مشہور سوڈانی مجاہد مہدی سوڈانی کی طرف جس کی قبر جنرل کچنر کے کھودی اور اس کی لاش کی ہڈیاں تک جلا دی تھیں)۔

ایک مقام پر میں نے چار الواح لکھے ہیں لوحِ بدھ، لوحِ مسیح لوحِ زرطشت اور لوح محمدﷺ لوحِ مسیح میں ٹالسٹائی کا ایک خواب ہے لوحِ زرطشت میں اسلامی تصوف کے مشہور مسئلے فضیلت نبوت بر ولایت یا ولایت برنبوت کے متعلق بحث ہے۔ لوح محمدﷺ کا مضمون یہ ہے کہ کعبہ میں بت ٹوٹے پڑے ہیں ابوجہل کی رُوح گریہ و زاری کررہی ہے اور رسول اکرمﷺ سے کہہ رہی ہے کہ انہوں نے ہمارے دین کو برباد کردیا ہماری خاندانی بلند پائگی زائل کرڈالی اور مساوات کی تعلیم دینی شروع کردی جو مزد کیوں سے حاصل کی گئی ہے۔
(گفتارِ اقبال، انقلاب 22 نومبر 1931 بحوالہ جاوید نامہ، مقدمہ، حواشی و تعلیقات از پروفیسر ارشاد احمد شاکر، پی ایچ ڈی مقالہ برائے سال 1999 علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد)
جاوید نامہ کا مختصر خلاصہ
کتاب کا آغاز مناجات سے ہوتا ہے مگر اصل مطالب تب آتے ہیں جب شاعر (یعنی علامہ اقبالؒ ) شام کے وقت دریا کنارے مولانا روم کے بعض اشعار پڑھ رہا ہوتا ہے کہ مولانا رومی کی رُوح وہاں حاضر ہوجاتیں ہیں شاعر رومی کی رُوح سے چند سوال کرتا ہے جس کا جواب رومیؒ کی رُوح دیتی ہے پھر رومی اور شاعر کی رُوح فضا کا سفر کرتی ہے راستے میں وہ ستاروں کا نغمہ سنتے ہیں جو ان کو خوش آمدید کہتا ہے۔ چاند پر رومی اور شاعر توقف کرتے ہیں فلک قمر پر ان کی ملاقات ایک جہاں دوست سے ہوئی ہے جہاں دوست دراصل ایک قدیم ہندو رشی و شوامتر ہے۔ وشوامتر علامہ اقبالؒ سے چند سوالات کرتا ہے جس کا وہ جواب دیتے ہیں اس گفتگو کا خلاصہ درج ذیل ہیں:
وہ پوچھتے ہیں عقل کی مدت کیا ہے؟ ترک فکر عقل کی موت ہے۔
دل کی موت کیا ہے؟ فرمایا اللہ کا ذکر چھوڑ ناول کی موت ہے۔
پوچھا تن کیا ہے؟ فرمایا گرد راہ سے پیدا ہونے والی چیز۔
پوچھا رُوح کیا ہے؟ فرمایا لا الٰہ کی رمز روح ہے۔
کہا کہ آدم کیا ہے؟ فرمایا اللہ کے رازوں میں سے ایک راز۔
پوچھا عالم کیا ہے؟ فرمایا اللہ کا سامنے ہونا یعنی اللہ سامنے ہے۔
پوچھا علم و ہنر کیا ہے؟ فرمایا پوست ہے چھلکا ہیں۔
پھر پوچھا آخری دلیل کیا ہے؟ فرمایا محبوب کا چہرہ۔

پھر پوچھا عام لوگوں کا مذہب کیا ہے؟ فرمایا سنی سنائی پر بھروسے کا نام۔
پھر پوچھا عارفین کا دین کیا ہے؟ فرمایا دیکھنا۔
(شرح جاوید نامہ، ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی، سنگ میل پبلیکیشنز لاہور، 2005، ص62)

وشوامتر سے باتیں کرکے وہ چاند کی ایک وادی پر غمید کی طرف جاتے ہیں جسے فرشتوں نے وادی طواسین کا نام دے رکھا تھا۔ طواسین دراصل طاسین کی جمع ہے اور منصور حلاج کی کتاب کا نام ہے۔ منصور نے طواسین سے مراد تجلیات لیا ہے جب کہ علامہ نے یہاں اس سے مراد تعلیمات لیا ہے وادی طواسین میں علامہ نے گوتم بدھ، زرطشت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور نبی کریمﷺ کی تعلیمات بیان کی ہیں۔ فلک قمر سے رومی و علامہ فلک عطارد پر پہنچتے ہیں اور وہاں سیّد جمال الدین افغانی اور سیّد علیم پاشا کی ارواح کی زیارت کرتے ہیں۔ علامہ ان دونوں مصلحان سے اہم اسلامی اور عالمی اُمور پر گفتگو کرتے ہیں پھر وہ فلک مریخ پر ایک نام نہاد پیغمبر عورت کو دیکھتے ہیں جس کی اصل یورپ سے ہے اور جسے بچپن میں شیطان اغوا کرکے لے گیا تھا وہ عورتوں کو ترقی اور آزادی کے نئے اُصول بتاتی ہیں اور اس کا پیغام یہ ہے کہ آخر کار عورت کی ہی حکمرانی قائم ہونی ہے اس عورت کی باتوں پر مولانا رومؒ تہذیب حاضر کے بعض پہلوؤں کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔
پھر وہ ایک فلک پر ابن حلاج، غالب اور قرۃ العین کی روحوں سے ملتے ہیں مرزا غالب سے ادبی اور مذہبی سوالات پوچھے جاتے ہیں ابن حلاج مسلمان صوفی کے طور پر اپنا مقام واضح کرتا ہے پھر اقبال اور رومی ایک اور فلک پر جاتے ہیں جس کو منحوس سمجھا جاتا ہے جہاں وہ روحیں ملتی ہیں کہ جنہیں دوزخ نے بھی قبول نہیں کیا اور وہ میر جعفر اور میر صادق کی روحیں ہوتی ہیں پھر ایک فلک پر فرعون اور لارڈ کچنر کی روحیں نظر آتی ہیں اور ان کا ایک دلچسپ مکالمہ ہوتا ہے پھر شاعر اور رومی سیاروں سے گزرتے ہوئے جنت میں داخل ہوتے ہیں وہاں وہ اولیاء اور اچھے بادشاہوں سے ملتے ہیں جن میں نادر شاہ، احمد شاہ ابدالی اور ٹیپو سلطان سے ملاقات ہوتی ہیں پھر شاعر اور رومی آگے بڑھ جاتے ہیں اور رومی ایک مقام پر انہیں تنہا چھوڑ دیتا ہے کیوں کہ اللہ کے حضورسب کو تنہا جانا ہوتا ہے وہاں شاعر خدا کے صفت و جمال و تجلی سے بعض سوالات پوچھتا ہے آخری حصے میں کتاب کے شاعر اپنے بیٹے سے خطاب کرتا ہے جو دراصل آنے والی نسل سے ایک خطاب ہے۔

حرفِ آخر
اس کتاب کا مختصر خلاصہ پیش کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ اہل علم حضرات جن کی نظر سے اقبال کا فارسی کلام نہیں گزرا ان میں اقبال کے فارسی کلام کو پڑھنے کی طلب اور تڑپ پیدا ہو۔ اور دوسرا جاوید نامہ کے حوالے سے ایک گزارش بھی کرنی تھی اس کتاب کے حوالے سے علامہ اقبالؒ کی ہمیشہ یہ خواہش رہی تھی کہ اس پورے اخلاقی سفر کو کوئی مصوری کی شکل میں پیش کریں اگر آج کے دُور میں کوئی اس پورے افلاکی سفر کو ڈرامے کی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کریں تو علامہ اقبالؒ کے پیغام کو پھیلانے میں یہ یقیناًبہت بڑی کاوش ہوگی۔

لیئق احمد
لیئق احمد
ریسرچ سکالر شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی ، ٹیچنگ اسسٹنٹ شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *