لبرلز۔

دوستوں کی منڈلی میں ہمارے ایک مولوی اور لبرل دوست ( جنکو میں مذاق میں دیسی لبرل کہتا ہوں) موجود تھے اور بعد از تعارف ،،
دونوں ایک دوسرے سے نجانے کیوں نظریں چُراتے رہے، لیکن محفل کیونکہ بے تکلف دوستوں کی تھی اس لئے تھوڑی دیر بعد دونوں نارمل ہو گئے۔
اسی اثنا میں ہمارے ایک دوست جوکہ “تیلی سُٹ”پروگرام کے ماہر ہیں نے ایک شرلی چھوڑی اور خود آرام سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔
اب آدھے دوست مولوی کے ہمنوا اور چند ایک لبرل کے ساتھ ۔ اور دونوں تقریبا ًگتھم گتھا، کان سرخ منہ سے کف۔
اس موقعہ پر ہم نے اپنے تئیں حالات قابو کرنے کی کوشش کی جو بے سود رہی ۔
صورتحال دیکھ کر میں نے ایک تجویز دی کہ یارو کیوں نہ ان دونوں کو تھوڑی دیر کے لیے علیحدہ چھوڑ دیا جاۓ تاکہ یہ کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں۔
کم و بیش پون گھنٹہ بعد ہم ان سے ملے تو دونوں پرسکون تھے۔ اس طرح باتیں کر رہے تھے کے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا کوئی لڑائی ہی نہ تھی۔ محفل چاۓ کے دور کے بعد برخاست ہو گی۔
آج صبح ہی اسی لبرل دوست کا فون آیا اور بولے یار تیرے پاس اسلامی تاریخ اور چند اسلامی کتب دیکھی تھیں کیا وہ پڑھنے کے لیے مل سکتی ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ حیرانی اس بات پر ہوئی کے جیسے ہی فیس بک کھولی اس میں مولوی صاحب کی طرف سے دوستی کی درخواست جلی حروف میں نظر آئی۔

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *