پائر ہو(Pyrrho)/مبشر حسن

پائر ہو کی پیدائش ہوئی 360 قبل مسیح اور وفات ہوئی 270 قبل مسیح یونان سے اس کا تعلق تھا۔

اہم کام: “فلسفہ تشکیکیت
قدیم فلسفی پائر ہو نے یونانی فلسفہ میں تشکیکیت کو متعارف کروایا۔ اسے فلسفیانہ تشکیکیت کا بانی خیال کیا جا تا ہے ۔ وہ ایلس (Elis) میں پیدا ہوا اور یونانی فلسفی انا کسارکس کے ساتھ مطالعہ کیا۔ وہ سکندر اعظم کے ہمراہ مشرقی سرزمینوں میں مہمات پر گیا اور فارسی کاہنوں اور ہندوستانی برہمنوں کی تعلیمات سے واقفیت حاصل کی۔ وہ عالم ہونے کے دعویدار افراد کے دعوؤں سے نالاں ہوا اور ایک نئے مکتبہ فکر کی بنیاد رکھی۔ اس نے تعلیم دی کہ انسانی علم کا ہر معروض غیر قطعیت کا حامل ہے۔لہذا سچائی کا علم حاصل کرنا ناممکن ہے۔ کہا جا تا ہے کہ اس نے اپنے وضع کردہ اصولوں پر عمل کیا اور اپنی تشکیکیت کو اس حد تک لے گیا کہ دوست ہر وقت اس کے ساتھ ساتھ رہنے پر مجبور ہو گئے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ گھوڑا گاڑیوں کے نیچے آ کر کچلا نہ جائے یا کسی کھائی میں نہ گر پڑے۔ قرین قیاس ہے کہ یہ باتیں اس کے مخالف بنیاد پرستوں ( علم کوقطعی نہ  ماننے والوں) نے ہی پھیلائیں ہوں گی۔

پائر ہو کی طویل زندگی کا زیادہ تر حصہ عزلت میں گزرا اور اس نے خوف مسرت یا دکھ جیسے جذبات کے اثرات سے دامن بچائے رکھا۔ وہ تکلیف بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ سہتا اور خطرہ پیش آنے پر کوئی خوف ظاہر نہ کرتا۔ ایپی قورس نے تشکیکیت کا حامی نہ ہونے کے باوجود پائر ہوکوسراہا کیونکہ وہ طمانیت کا باعث بننے والی خود ضبطی کا پرچار کرتا تھا۔ ایپی قورس کے نزدیک طمانیت طبعی اور اخلاقی سائنس کا مقصد تھی۔ ہم وطنوں نے پائر ہو کی اس قدر عزت افزائی کی کہ اسے مہا پروہت کا اعزازی عہدہ دیا اور ایک شاہی فرمان جاری کیا جس کے تحت تمام فلسفی ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہو گئے۔

پائر ہو شاعروں بالخصوص ہومر کا مداح تھا اور گاہے بگا ہے اس کی نظموں کے اقتباسات بطور حوالہ پیش کرتا رہا۔ اس کی موت کے بعد اہل ایتھنز نے اس کا ایک یادگاری مجسمہ نصب کیا۔ پائر ہو نے کوئی تحریریں نہ چھوڑیں اس کے خیالات کے بارے میں ہمارا علم اس کے شاگرد ٹیون کا مرہون منت ہے ۔ ارسطو سے پہلے کے تمام نظام ہائے فکر کی طرح پائر ہو کا فلسفہ بھی خالصتاً عملی رنگ رکھتا ہے۔ وہ تشکیکیت کو صرف فکری مقاصد کے لیے ہی استعمال نہیں کرتا بلکہ اس میں ایک راہ مسرت اور زندگی کی آفات سے نجات بھی دیکھتا ہے۔ اس نے کہا کہ رشی یا ولی کے لیے موزوں راستہ میں تین سوالات پوچھنا ہے۔ اوّل چیز میں کیا ہیں اور ان کی تشکیل کیسے ہوئی۔ دوم ہم ان چیزوں کے ساتھ تعلق کے حامل کیسے بنے۔سوم چیزوں کے متعلق ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔

پہلے سوال کا جواب تو بس یہی ہے کہ ہم کچھ نہیں جانتے ۔ ہمیں چیزوں کی صرف ظاہری صورت کا علم ہے لیکن ان کے داخلی جو ہر سے لاعلم ہیں۔ ایک ہی چیز مختلف لوگوں کو مختلف انداز میں نظر آتی ہے۔ لہذا درست رائے کا فیصلہ کرنا ناممکن ہے ۔ داناؤں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے درمیان بھی اختلاف رائے اس کا ثبوت ہے ۔ ہر دعوے کا متضاد دعویٰ کیا جا سکتا ہے ۔ دوسروں کی رائے بھی ہماری رائے کی طرح اہمیت رکھتی ہے ۔ ہم رائے تو رکھ سکتے ہیں لیکن قطعیت اور علم ممکن نہیں چنانچہ چیزوں کی جانب رویہ ( تیسرا سوال ) مشکوک ہونا چاہیے۔ ہم کسی چیز کے بارے میں قطعی رائے نہیں رکھ سکتے ۔ لہٰذا کسی بھی موضوع پر کوئی اثباتی بیانات نہیں دینے چاہئیں ۔

پائر ہو کے پیروکاروں نے اپنے روزمرہ کے نہایت معمولی معاملات میں بھی تشکیکیت کوملحوظ خاطر رکھا۔ وہ ’’ایساہے‘‘ کے بجائے ’’ایسا لگتا ہے‘‘ کہتے ۔ ہر ایک رائے سے پہلے’’ شاید‘ یا ’’ ہوسکتا ہے‘‘ کا لاحقہ لگایا جاتا ۔ قطعیت کے اس فقدان کا اطلاق نظری کے ساتھ ساتھ عملی معاملات پر بھی ہوتا ہے ۔ کچھ بھی بالذات درست یا غلط نہیں ۔ وہ تو بس ایسا لگتا ہے۔ اسی طرح کچھ بھی اپنے آپ میں خیر یا شرنہیں محض رائے دستور قانون ہی اسے اچھا یا برا بناتا ہے ۔ یہ آگہی پا لینے والا ولی ایک راہِ عمل کو کسی دوسری راہِ عمل پر ترجیح نہیں دیتا اور نتیجہ بے تعلقی (ataraxia) کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ تمام فعالیت ترجیح کا نتیجہ ہے اور ترجیح اس یقین کا نام ہے کہ ایک چیز دوسری سے بہتر ہے۔ اگر میں شمال کی طرف جاؤں تو کسی نہ کسی طرح اس کی وجہ میرا یہ یقین ہے کہ شمال کی طرف جانا جنوب کو جانے سے بہتر ہے۔ اس یقین کو کچل دیں اور جان لیں کہ ایک چیز حقیقت میں دوسری چیز سے بہتر نہیں، بلکہ وہ صرف بہتر معلوم ہوتی ہے ۔ تب آپ کسی بھی سمت میں نہیں جاتے ۔ رائے کو مکمل طور پر دبا دینے کا مطلب فعالیت کو دبانا ہے اور یہی پائر ہو کا مقصد تھا۔ کوئی رائے نہ رکھنا تشکیکی مقولہ تھا کیونکہ عمل میں اس سے بے تعلقی، مکمل غیر فعالیت مراد ہے ۔ تمام فعالیت کی بنیاد یقین پر ہے اور تمام یقین فریب نظر ہے چنانچہ تمام فعالیت کا نہ ہونا ولی کا آئیڈیل ہے۔ اس بے تعلقی میں وہ تمام خواہشات کو تیاگ دیتا ہے کیونکہ خواہش ایک چیز کے دوسری چیز سے بہتر ہونے کا نام ہے ۔ اپنی خواہش کردہ چیزوں کو حاصل نہ کر سکنا یا حاصل کر کے کھو دینا باعث دکھ ہے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

دانا شخص خواہشات سے آزاد ہونے کے باعث دکھ سے آزاد ہو جا تا ہے ۔ وہ جان لیتا ہے کہ لوگ اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے باہم لڑتے اور جد و جہد کے باوجود خوامخواہ کچھ چیزوں کو دوسری چیزوں سے بہتر تصور کر لیتے ہیں ۔ اس قسم کی جد و جہد اور کوشش بے مقصد اور لا حاصل ہے کیونکہ تمام چیز میں ایک جیسی بے تعلق اور غیر اہم ہیں ۔ تندرستی اور بیماری موت اور حیات کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔ تاہم اگر ہم عمل کر نے پر مجبور ہوں تو یقیناً امکان رائے دستور اور ضابطے کو ہی بنیاد بنائیں گے، لیکن ان کسوٹیوں کی سچائی پرکسی یقین کے بغیر۔
پائر ہو کے فلسفہ تشکیکیت کو مختصراً یوں بیان کیا جا سکتا ہے: چیزوں کی اصلیت کو جاننا ممکن نہیں، چنانچہ معروضی علم حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ولی کے لیے ضروری ہے کہ وہ چیزوں کے متعلق کوئی رائے نہ ر کھے۔ اسی طرز عمل میں خواہشات سے آزادی ذہنی طمانیت روحانی سکون جیسی اعلیٰ ترین انسانی خصوصیات مضمر ہیں۔ پائر ہو کی تعلیمات نے ’’نئی اکادمی‘‘ اور رومن تشکیکیت پر اثرات مرتب کیے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply