• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • گلگت بلتستان کے لوگوں کا آخر مسئلہ کیا ہے/سخاوت حسین

گلگت بلتستان کے لوگوں کا آخر مسئلہ کیا ہے/سخاوت حسین

پچھلے کچھ دنوں سے گلگت بلتستان کی عوام شدید سردی میں سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے۔ منفی 10 سے بھی کم درجہ حرارت میں یہ لوگ اس سرد موسم میں اپنے حقوق کی باتیں کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کا مسئلہ کیا ہے؟

1948 کو اپنی مدد آپ کے تحت آزاد ہونے والا یہ خطّہ اس سرزمین کے خوب صورت ترین خطوں میں سے ایک ہے۔ ثقافتی، سماجی لحاظ سے اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔ یہاں موسم زیادہ تر سرد رہتا ہے لیکن لوگوں کی مہمان نوازی اور سادگی ہنوز برقرار ہے۔ بلند ترین پہاڑی سلسلے اور خوب صورت وادیوں سے ڈھکا یہ خطہ دفاعی، معاشی اور خوب صورتی  کے لحاط سے اپنی مثال آپ ہے۔ لوگ خلوص کا پیالہ ہاتھوں میں تھامے آنے جانے والوں سے ہمیشہ پُرتپاک طریقے سے ملتے ہیں۔ دفاعی لحاظ سے اس کے بارڈرز دونوں بڑے ملک جیسے انڈیا اور چائنہ سے جڑتے ہیں۔ یہاں مفقود تعلیمی انفراسٹرکچر کے باوجود معیاری تعلیم کی شرح دیگر علاقوں سے زیادہ ہے۔ آباد خطّہ کم ہے اور پہاڑی خطہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے پاس کاشتکاری سمیت دیگر ذرائع کم ہیں لہذا یہاں کے افراد گزربسر کرنے کے لیے ملک کے دیگر خِطّوں میں چلے جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے جو لوگ احتجاج کررہے ہیں۔ وہ مندرجہ ذیل بنیادی نکات کو سامنے رکھتے ہوئے احتجاج کررہے ہیں۔

خالصہ سرکار نما قانون کا خاتمہ :
اٹھارہویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی لاہور میں قائم ہونے والی حکومت کو خالصہ کہا جاتا تھا ،جس کی حکومت انیسویں صدی میں انکے گورنر گلاب سنگھ کے ذریعے جموں کشمیر سے لداخ اور گلگت بلتستان تک پھیل گئی۔سکھا شاہی دور حکومت میں تمام زیرِ کاشت اراضی کو بندوبستی کاغذات میں درج کیا گیا۔ خالصہ سرکار سے مراد وہ بنجر زمین یا قابل کاشت زمین ہے جو خالی پڑی ہو۔ لیکن کسی فرد واحد کی ملکیت کے نام پر نہیں بلکہ خالصہ سرکار کے نام پر قدیم بندوبستی کاغذات میں رجسٹرڈ ہے۔ اگرچہ کئی دفعہ حکومتی حلقوں کی طرف سے لینڈ ریفارمز کے اعلانات کئے گئے مگر وہ معاملہ بھی تہہ خانے کی نذر ہوگیا۔ گلگت بلتستان کے باسیوں کے مطابق کسی بھی عوامی زمین کو خالصہ سرکار کہہ کر اسے حکومتی تحویل میں لینا دانش مندی نہیں۔ اس کی مثالیں آپ کو گلگت بلتستان میں جابجا ملیں گی جہاں ایکڑوں کے حساب سے زمینوں پر گورنمنٹ کی تعمیرات نظر آئیں گی۔ یہاں کے عوام اسی قانون کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ عوام کے مطابق زمین عوامی ہے تو کیسے اسے زمانہ قدیم کے قانون کے تحت حکومت کسی بھی وقت تحویل میں لے سکتی ہے اور اس کے مقابلے میں ایک دوسرا قانون سٹیٹ سبجیکٹ رول بھی نافذ کیا گیا تھا جسے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ختم کیا گیا اور اس سلسلے میں کوئی قانون سازی بھی نہیں کی گئی۔

بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل :
حالیہ دنوں میں  بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے بعد بھی بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں بجلی کا محکمہ پی ڈبلیو ڈی کے پاس ہے اور سب سے زیادہ سرکاری ملازم بھی اسی محکمے میں ملیں گے۔ چونکہ گلگت بلتستان میں آبشاروں اور جھیلوں کی کمی نہیں لہذا زیادہ تر ہائیڈرو پروجیکٹ سے سستی بجلی حاصل کی جاتی ہے۔ لیکن حکومتی دیکھ ریکھ اور منصوبہ سازی نہ ہونے کی وجہ سے  بجلی کی پروجیکشن میں بالکل اضافہ نہیں کیا گیا اور بہت سے ایسے پروجیکٹ جو پہلے سے چل رہے تھے حکومت کی مناسب توجہ نہ ہونے کی وجہ سے یا تو التوا ء کا شکار ہوئے یا خراب مشینری کی وجہ سے وہ ڈسٹ بن کا حصہ بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہر سال بجلی کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے اور اس بارے میں کوئی منصوبہ بنانے کی بجائے بجلی کی قیمتوں میں من چاہا اضافہ کیا جارہا ہے۔

گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی :
سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بنیادی طور پر گلگت بلتستان کے تحفظ کا ایکٹ کہہ سکتے ہیں۔ یہ وہی رول ہے جسے 2019 میں مودی کی حکومت میں ختم کیا گیا اور اس پر پاکستان میں شدید احتجاج ہوا کہ اس رول کے ختم ہونے سے کشمیر کی سرزمین دیگر لوگوں کے پاس چلی جائے  گی۔ جب کہ گلگت بلتستان کے باسی اسے بحال کرنے کے لیے کافی عرصے سے کوشش کررہے ہیں۔
مہاراجہ ہری سنگھ نے یہ قانون گلگت بلتستان کے لوگوں کے لیے بنایا تاکہ ان کا بنیادی تحفظ کیاجاسکے۔ یہ قانون ابھی بھی آزاد کشمیر میں نافذ العمل ہے جب کہ گلگت بلتستان میں اسے 1974 میں ختم کیا گیا۔ اسے مندرجہ ذیل چار درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
درجہ اول کے شہری :
جموں و کشمیر، گلگت بلتستان کے ایسے تمام باسی جو راجہ گلاب سنگھ کی آمد سے پہلے(1842) میں پیدا ہوئے انہیں مستقل شہری سمجھا جائے گا اور انہیں درجہ اول کے حقوق حاصل ہوں گے۔

درجہ دوم کے شہری:
ایسے تمام باسی جو سموٹ سال کے ختم ہونے تک گلگت بلتستان کے باسی تھے اور یہاں منقول غیر منقولہ جائیدادیں حاصل کرچکے تھے۔ انہیں درجہ دوم کا شہری سمجھا جائے گا۔

درجہ سوم کے شہری:
ایسے تمام افراد جو درجہ اول ، دوم کے علاوہ ریاست کے مسقل باشندے ہیں اور انہوں نے حکومت سے خصوصی رعایت نامہ کے ذریعے یہاں کی شہریت حاصل کی اور کم از کم گزشتہ دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہوں۔ انہیں درجہ سوم کا شہری سمجھا جائے گا۔

درجہ چہارم کے شہری :
ایسی کمپنیز یا ادارے جو گلگت بلتستان یا کشمیر کے اندر رجسڑڈ ہوں اور جنہیں حکومت نے یہاں کے باسیوں مالی اور معاشی مفادات کا تحفظ کے لیے قائم کیا ہو اور مہاراجہ/حکومت کے خاص حکم سے انہیں اسٹیٹ سبجیکٹ قرار دیا گیا ہو۔ وہ درجہ چہارم میں شمار ہوں گے۔
یہ چار بنیادی درجے ہیں ان درجوں کی افادیت کو سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل پہلوؤں کو سمجھنا ہوگا۔

پہلا نکتہ:
ریاست کی اسکالر شپ ، مکانات کی خریدو فروخت، تعمیراتی مقاصد، ریاستی ملامتوں میں حصہ سمیت تمام بنیادی حقوق میں درجہ اول کو باقی درجوں پر فوقیت حاصل ہوگی۔

دوسرا نکتہ:
ایسے تمام افراد ان کی اولادیں، پوتے ، پڑپوتوں کو بھی درجہ دوم سمجھا جائے گا۔ انہیں درجہ اول کے حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔ مکان کی تعمیر ہو یا خرید و فروخت، یا پھر گورنمنٹ ملازمتوں کے حصول سمیت کسی بھی امکانی فائدوں کے لیے درجہ اول پر کبھی فوقیت نہیں دی جائے گی۔

تیسرا نکتہ:
بیوہ اور بیوی کو وہی درجہ ملے گا جو اس کے شوہر کا ہوگا لیکن اس کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ریاست میں لمبے عرصے کے لیے رہے۔

چوتھا نکتہ:
اس قانون کے تحت غیر مقامی افراد یہاں زمینیں نہیں خرید سکتے۔ مقامی افراد کی طرح خود کو ملازمتوں کا اہل نہیں سمجھ سکتے۔ انہیں گلگت بلتستان کا شہری تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ نہ ہی وہ یہاں کے قدرتی وسائل کے مالک بن سکتے ہیں۔

پانچواں نکتہ:
یہ قانون آزاد کشمیر میں ابھی بھی موجود ہے چوں کہ گلگت بلستان کی حثیت متنازعہ ہے اور گورنمنٹ آف پاکستان کے مطابق اس کا مستقبل کشمیر سے جڑا ہے تو اس قانون کو دوبارہ یہاں نافذ ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دئے جانے چاہئیں۔
اسٹیٹ سبجیکٹ رول یہاں کے لوگوں کی متوقع آواز اور درد ہے جسے ہر طور سنا جانا چاہیے۔

اسٹیٹ سبجیکٹ رول کے تحت تمام مقامی ملازمتوں، تعمیرات، مکانات کی تعمیر سمیت دیگر تمام مواقع کے لیے درجہ اول کے لوگوں کے لوگوں کے ترجیح دی جائے گی اس کے بعد باقی درجات کے ساتھ ایسا ہوگا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت نے 1974 میں سٹیٹ سجیکٹ رول کو بغیر کسی مربوط قانون سازی کے گلگت بلتستان سے ختم کیا اور جب کسی قانون کا خاتمہ ہوتا ہے تو اس کے مقابلے میں ایک دوسرا قانون لایا جاتا ہے مگر اس ضمن میں ایسا بھی نہیں کیا گیا۔ لہذا اسے بے شک کاغذات میں ڈیڈ قانون کہا جاسکتا ہے مگر عملی لحاط سے یہ کبھی ڈیڈ نہیں ہوا۔

دوسری طرف خالصہ سرکار جو پرانے زمانے کا قانون ہے اسے ابھی تک بحال رکھا جس کی وجہ سے یہاں کی آدھی سے زیادہ اراضی مقامی لوگوں کے ہاتھوں سے چلی گئی ۔یہاں کے باشندوں کے مطابق یہاں کی زمین کسی غیر مقامی فرد کو نہیں بیچی جاسکتی اور سٹیٹ سبجیکٹ رول اس امر کو یقینی بناتا ہے مگر یہاں کی زمین ہر کوئی نہ صرف خرید رہا ہے بلکہ اس پر تعمیرات سمیت یہاں کا ڈومیسائل بھی بنوارہا ہے اس سے یہ خدشہ بری طرح پیدا ہورہا ہے کہ یہاں کے لوگ عنقریب یہاں اقلیت بن جائیں گے۔ جب کہ دوسری طرف خالصہ قانون ختم ہونے کی بجائے اسی طرح بحال ہے۔ سٹیٹ سبجیکٹ رول کے تحت اگر لوگوں کے ڈومیسائل بنتے تب انہیں درجہ بندی میں تقسیم کیا جاتا جس سے نہ صرف یہاں کے لوگوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع بہتر ہوتے بلکہ ان کی زمینوں کا تحفظ بھی ہر صورت یقینی ہوتا۔

ٹیکسز کا خاتمہ
یہاں کے لوگ ہر قسم کا ٹیکس دیتے ہیں۔ خواہ وہ سیلز ٹیکس ہو یا دوسرے ان ڈائریکٹ ٹیکسز، قانون کی شق کے مطابق چوں کہ گلگت بلتستان کی حیثیت متنازع  علاقہ کی ہے اور ابھی تک آئین میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی جس کی بنا پر اسے ریاست پاکستان کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا ہو صرف ایک ایگزیکٹو آرڈر کی بنا پر یہاں فیصلے ہوتے ہیں۔ لہذا یہاں کے باسیوں کا مطالبہ ہے کہ یہاں سے ہر قسم کے ٹیکسز کا خاتمہ کیا جائے۔ خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو۔ کیوں کہ قانون یہی کہتا ہے کہ متنازع  علاقے کے افراد ان ٹیکسز سے مستثنیٰ  ہیں اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر اس علاقے کو مکمل آئینی حقوق دئے جائیں۔

سبسڈائزڈ گندم کوٹہ کی بحالی
وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں گندم کی 16 لاکھ بوریوں کی فراہمی پر سبسڈی دیتی ہے۔ البتہ اب وفاق نے اس میں کمی کر دی ہے جس کی وجہ سے یہاں گندم کا مسئلہ بحران میں تبدیل ہوچکا ہے اور بقول یہاں کے لوگوں کے انہیں گندم بھی اب میسر نہیں ہے۔

دیگر مسائل

یہ چند بنیادی مسائل ہیں اس کے علاوہ یہاں کے افراد مندرجہ ذیل مسائل کا حل چاہتے ہیں:
1: یہاں کے لوگوں کے مطابق انہیں نہ تو چائنہ سے ہونے والی ٹریڈ اور کنٹینرز کی آمدنی میں سے کوئی حصہ ملتا ہے ہے نہ سی پیک میں سے کسی قسم کا کوئی حصہ دیا گیا۔
2: دریائے سندھ سمیت دیگر پانی کے ذرائع پربھی کسی قسم کی رائلٹی نہیں ملتی ہے۔ جنگلات اور سیاحت کی آمدنی میں حصہ شاید خام خیالی شمار کی جائے گی۔
3:گلگت بلتستان میں اعلیٰ  تعلیم کے مواقع ہیں نہ روزگار سمیت دیگر امور پر کسی بھی قسم کا کوئی ہوم ورک کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ گزشتہ ستر سالوں میں یہاں ایک میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹی تک نہیں بنائی گئی۔
4: یہاں کے لوگ کارگل روڈ کو کھولنےکی بات کرتے ہیں۔ مقامی باسیوں کے زیادہ تر رشتے دار انڈیا کے زیر انتظام کارگل اور کچھ لداخ میں ہیں۔ یہاں کے باسی سکردو کارگل ٹریڈ کی بات کرتے ہیں جو کہ ان کے نزدیک ایک منفعت بخش امر ہے کیوں کہ یہاں معاشی لحاظ سے کوئی انفراسٹرکچرموجود نہیں جس کی وجہ سے یہاں کا ہر فرد مجبور ہے کہ وہ دوسرے علاقوں میں جاکر روزگار ڈھونڈے
5: زلزلہ/سیلاب متاثرین کی مدد

گزشتہ کچھ عرصے سے آنے والے قدرتی آفات جیسے زلزلہ اور سیلاب متاثرین ابھی تک بے یارومدگار کھلے آسمانوں کے نیچے بہتر قسمت کا انتظار کررہے ہیں۔ نہ نہیں کسی دوسری جگہ آباد کیا گیا ہے نہ ہی انہیں کسی بھی قسم کا معاوضہ دیا گیا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی اور دن بدن بڑھتے عالمی درجہ حرارت کی وجہ سے ہر سال یہاں سیلاب آنا معمول ہوگیا ہے ۔ جس کے بارے میں کسی قسم کی طویل مدتی پلان بنایا جارہا ہے اور نہ ہی متاثرین کے لیے کوئی مناسب منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ لہذا اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

یہاں کے لوگ دنیا کے پرامن ترین لوگ ہیں۔ وہ محبت بانٹتے ہیں۔ یہاں کے لوگ دہشت گرد نہیں۔ وہ ہتھیار نہیں اٹھاتے صرف محبت کا پیغام عام کرتے ہیں۔ وہ اپنے حسن سلوک اور اخلاق کے ہتھیار سے اگلوں کو متاثر کرتے ہیں۔ محبتیں تقسیم کرتے ہیں۔ وہ محبت چاہتے ہیں۔ وہ تقسیم کی بات نہیں کرتے۔ وہ آئین میں اپنے لیے حصہ مانگتے ہیں جب کہ انڈیا اسی خطے کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے۔ لہذا اب حکومت کو بھی چاہیے کہ اس معاملے کو سنجیدہ لے اور یہاں کے محبت کرنے والے لوگوں کے مطالبات  پر صدق دل سے غور کرے

Advertisements
julia rana solicitors

(اس تحریر کی تیاری میں گوگل اور مختلف ویب سائیٹ سے مدد لی گئی ہے  )

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply