روشنی اور قدموں کی چاپ سے اچانک آنکھ کھل گئی تھی۔ جرسی پہن کر باہر نکلا تو نظارہ بے حد دلفریب تھا۔ سنگلاخ پہاڑ اور چوٹیوں پر سورج کی کرنوں سے چمکتی برف۔ اردگرد پھیلے پھولوں بھرے بوٹے سے قدوں والے درخت اور سکوت۔ میجر صاحب پہلے ہی وردی ڈاٹے باہر کھڑے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ اپنا بیشتر وقت کھڑے کھڑے کاٹتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا تھا ’’ رات کیسے کٹی؟‘‘ ’’ بہت اچھی سر‘‘ میں نے ظاہر ہے کموڈ کی ڈگمگاہٹ کو رات کے بیتنے بارے بتانے میں شامل نہیں کیا تھا۔ ناشتہ لگنے تک نائب صوبیدار ولی محمد جیپ لے کر حاضر ہو گیا تھا۔ تب تک میں بھی تیار ہو چکا تھا۔
میجر صاحب کے بیٹ مین نے شب خوابی کی شلوار قمیض تہہ کر کے سوٹ کیس میں رکھ دی تھی۔ وردی وہ شاید رات کو ہی اٹھا لے گیا تھا، جو استری ہو کر تیا ر تھی جسے میں نے پہن لیا تھا۔ بوٹ بھی پالش ہو چکے تھے بلکہ چمک رہے تھے۔ میں نے آرام سے ناشتہ کر کے کوئی ساڑھے نو پونے دس بجے میجر صاحب کو خداحافظ کہا تھا۔ جیپ کھرڑ کھر ڑ کرتی شاہرا ہ ریشم پر آئی تھی پھر گلگت کی جانب مڑ گئی تھی۔ اب ڈرائیونگ کی سمت کھائیوں کی جانب تھی۔ نیچے کی جانب دیکھتے ہوئے دل اچھل کر حلق میں آٹکتا تھا۔ دو چار میل جانے کے بعد دائیں طرف ایک پتھروں والی سڑک پر نیچے کی جانب مڑ گئے تھے۔ خاصا نیچے جا کر دریا کی جانب رخ کیا تھا۔ دور سے ایک جھلنگا پل دکھائی دے رہاتھا۔
میں نے افسری اور نقلی بہادری کو دفع کرتے ہوئے گھبرا کرپوچھا تھا ،’’ صاحب کیا ہم اِس پُل سے گزریں گے؟‘‘ اُ س نے بجھے بجھے لہجے میں ’’ جی سر!‘‘ کہنے پر اکتفا کیا تھا۔ لوہے کے تاروں کے جھلنگے پر دیو دار کی لکڑی کے تختے بچھا کر بنائے گئے اِس جھولے نما پُل پر چڑھنے سے پہلے ڈرائیور نے جیپ کی رفتار خاصی حد تک کم کر لی تھی۔ چیونٹی کی چال سے چلنے والی جیپ کے پہیوں کے نیچے پہیے چرچرا رہے تھے اور پل جیپ کے تحرک سے ادھر ادھر جھول رہا تھا۔ پل کے نیچے گہرے سبز ساکت پانی سے پہاڑی دریا کے پانی کی انتہائی گہرائی کا اندازہ لگا یا جانا مشکل نہیں تھا۔ دو ہاتھیوں کی اونچائی سے کم گہرا ہرگز نہیں تھا یہ پانی۔ کیونکہ سر شور پہاڑی دریاؤں کا پانی اگر کم گہرائی کا حامل ہو تو وہ شوریدہ سری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ہلتا ہوا ، چرچرا تا پل، پل سے بیسیوں میٹر نیچے تیسویں میٹر گہرا پانی، لگتا تھا میں نے سانس بھی روکی ہوئی تھی۔ میرے خیال میں سانسوں کی ہل چل پُل کی ہل چل میں اضافے کا موجب بن سکتی تھی۔ پچاس ساٹھ میٹر لمبے پُل کوآہستگی سے پار کیے جانے کا منٹوں پر محیط عرصہ ایسے لگتا تھا جیسے قیامت کی طرح لمبا ہو گیا ہو۔
پل کے اُس بار اُتر کر میں نے اظہار کے بغیر چپکے سے ایک لمبی سانس لی تھی۔ میرا دل دھونکنی کی طرح چل رہا تھا اور میں نے فوراً ہی سگریٹ سلگا لی تھی۔ سکھ اور سکون کا یہ وقفہ زیادہ طویل نہیں تھا۔ ایک نسبتاً مسطح بنجر وادی میں مٹی اور کنکروں سے بھری سڑک کو دھول اڑاتے تیزی سے عبور کر لیا تھا۔ پھر بائیں طرف مڑ کر اِدھر اُدھر کھڑے پہاڑوں کے بیچ میں داخل ہونا تھا جہاں دن کے گیارہ بجے بھی اندھیرا سا تھا کیونکہ سورج ان کی پشت پیچھے تھا۔ جہا ں سے ہم چڑھے تھے وہیں سے نیچے بہتے ہوئے شوریدہ سر دریا کا فاصلہ پہاڑ کی ایک طرف کو کاٹ کر بنائی گئی تنگ اور پیچ دار سڑک سے ایک ڈیڑھ سو میٹر نیچے تھا جبکہ ہمیں اوپر ہی اوپر جانا تھا اور دریا کو نیچے ہی نیچے ہوتے جانا تھا۔ ہماری جیپ فراز کا رخ کر چکی تھی۔
سڑک انتہائی تنگ تھی اگرچہ بائیں جانب چلنے کی وجہ سے ہماری گاڑی پہاڑ کی طرف تھی لیکن دوسری طرف کے عمق اور دریا میں بہتے پانی کا شور بصارت اور سماعت سے دور نہیں ہو تا تھا۔ ہم اوپر ہی اوپر چڑ ھتے جا رہے تھے۔ ڈرائیور کی گھبراہٹ سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ ان راستوں پر چلنے والا نیا شخص تھا ۔ پھر اُس نے یک لخت جیپ کی ایک طرف کو سڑک کی جانب نکلے ہوئے بڑے سے پتھر سے ٹکرا دیا تھا۔ شکر ہے اُس نے یک لخت سٹیرنگ دوسری طرف موڑا تو وہ کچھ زیادہ نہیں مڑا تھا۔ ورنہ ہم دھڑام سے نیچے دریا میں ہوتے۔اب وقت آ گیا تھا کہ میں حکم کا استعمال کروں ۔ میں نے گاڑی روکنے کا خکم دیا تھا اور ڈرائیور کو کہا تھا کہ نیچے دریا پر جا کرمنہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارے۔ اوپر آنے اور خکم کی تعمیل کرنے سے اُ سکے حواس کچھ بچا ہوئے تھے۔
میرے استفسار پر اُ س نے بتایا تھا کہ وہ اس قسم کے پہاڑی راستے پر پہلی بار ہی گاڑی چلا رہا ہے۔ اسے حکم دیا تھا کہ گاڑی آہستہ اور احتیاط سے چلائے۔ پندرہ بیس منٹ چلے ہوں گے کہ سامنے سے ایک غیر فوجی جیپ آتی دکھائی دی تھی۔ اصولی طور پر تو یہ ہوتا تھا کہ چڑھائی چڑھنے والا ڈرائیور اپنی گاڑی کو پیچھے کی جانب لے جا تا ہوا جہاں بھی تھوڑا سا چوڑا مقام آتا تھا وہاں تک لے جاتا تھا تا کہ اوپر سے نیچے آتی ہوئی گاڑی گذر جائے ۔ چونکہ میں ڈرائیور کا کرتب دیکھ چکا تھا، اِس لیے میں نے سامنے سے آتی ہوئی گاڑی کو عقب میں اوپر چڑھنے کا اشارہ کیا تھا۔ وہ مقامی ماہر ڈرائیور تھا۔ خاصی تیزی سے گاڑی کو پیچھے کی جانب چڑھائی پر لے جا کر اُس نے ہمیں گذر جانے کا راستہ فراہم کیا تھا۔ وہ خود سینکڑوں میٹر گہری کھا ئی کے عین کنارے پر ٹنگا کھڑا تھا۔ اِس اذیت ناک سفر کا ایک ڈیڑھ گھنٹہ اور بیت گیا تو سڑک پر دو فوجی جیپیں اور ایک عام جیپ کھڑی دکھائی دی تھیں۔ ہمیں بھی رکنا پڑا تھا۔ نیچے اتر کر میں آگے گیا تھا۔
پہلی بار تعیناتی والے اور چھٹیوں سے لوٹنے والے سازو سامان سے لیس فوجیوں نے سیلوٹ کیا تھا اور بتایا تھا کہ لینڈ سلائیڈ کے باعث سڑک ٹوٹ کر گہرائی میں جا گری ہے۔ تین چار میٹر سڑک کا نام و نشان نہیں رہا تھا۔ اُ س کی جگہ نیچے گہرائی تک ایک خلاء منہ پھاڑے کھڑا تھا۔ جس پر ایک درخت کا کٹا ہوا تنا آر پار رکھ دیا گیا تھا۔ اِس پرچل کرکے لوگ اِدھر ادھر جا رہے تھے۔ میں اس پر چلنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ میں بچپن یا لڑکپن میں کبھی دو میٹر اونچی دیوار پر نہیں چلا تھا۔ ظاہر ہے پچاسیوں میٹر گہرائی کا حامل یہ پل صراط عبور کرنا میرے بس میں نہیں تھا۔
لگتا تھا سڑک کا یہ ٹوٹا ہوا حصہ کہیں ایک ہفتے تک تو بن ہی نہیں سکے گا۔ سبھی مخمصے میں تھے کہ کیا کیا جائے۔ وقت گذرتا چلاجا رہا تھا۔ سورج کی روشنی چوٹیوں کے اوپر ہی باقی رہ گئی تھی۔ ایک آدھ گھنٹے میں اندھیرا چھانے کو تھا۔ یک لخت ہماری طرف سے اآنے والی ایک اورجیپ کا شور سنائی دیا تھا۔ فلیگ سٹاف والی جیپ آکر رکی تھی جس میں سے ایک بریگیڈیر صاحب اترے تھے۔ ان کی نیم پلیٹ پر داؤد لکھا ہوا تھا۔ میں نے اور سب موجود فوجیوں نے سیلوٹ کیا تھا۔ میرے ساتھ کھڑے ہوئے صوبیدار نے میرے کان کے قریب منہ کر کے آہستہ سے بتا یا تھا کہ یہ بریگیڈ کمانڈر تھے۔ ہماری فیلڈ ایمبولینس یونٹ ان کی ہی زیر کمان 80 بریگیڈ میں آتی تھی۔
موصوف نے اپنے چشمے کے پیچھے سے پہلے میرے چہرے کو سرسری نگا ہ سے دیکھا تھا پھر غالباً میری نیم پلیٹ پڑھ کر چلتے چلتے کہا تھا، ’’ کیپٹین مرزا! تم باقی فوجیوں کو اس جانب لانے کی رہنمائی کرو گے۔ ادھرسے گاڑیا ں آپ لوگوں کولے جانے کے لیے پہنچ رہی ہیں‘‘۔ یہ کہہ کر وہ ٹھپ ٹھپ کرتے ہوئے اپنے ایڈی کانگ کے ہمراہ تنا پار کر گئے تھے۔ ان کے لیے دوسری جانب جیپ تیار کھڑی تھی، جس میں سوارہو کر وہ چلے گئے تھے۔ اب تو افسری اور عزت کا سوال تھا اورحکم بھی چیلنج کے مترادف تھا۔ بریگیڈیر صاحب کے جانے کے بعد میں نے سگریٹ سلگا لی تھی۔
سگریٹ ختم کر کے میں نے یک لخت دایاں بازو بلند کر کے موجود فوجیوں کو کہا تھا ’’میرے پیچھے پیچھے آؤ‘‘۔ اور میں گہرائی کی جانب دیکھے بغیر پندرہ قدم اٹھا کر پل صراط عبور کر گیا تھا۔ میرے پیچھے پیچھے باقی سب لوگ آگئے تھے۔ تھوڑی دیر میں پہلی جیپ آگئی تھی۔ کچھ فوجیوں کو اپنے ساتھ بٹھا کراور باقیوں کو نائب صوبیدار کے حوالے کرکے میں روانہ ہو گیا تھا۔ آدھے گھنٹے بعد ہم بریگیڈیر ہیڈ کوارٹر ’’ استور‘‘ پہنچے تھے۔ بلندی پر ایک نسبتاً مسطح جگہ پر بریگیڈیر کے دفاتر تھے اور ایک طرف افسروں کے رہائشی کمرے تھے۔
جیپ نے فوجیوں کو تو نیچے سڑک پر ہی اتار دیا تھا مگر مجھے یہاں لا کر اتارا تھا۔ زبردستی کی پل صراط سے گذارے جانے کی مہم جوئی اور ماحول کے سناٹے کے باعث میری طبیعت پر بہت بوجھ تھا۔ موجود افسروں کو سرسری سلام کیا تھا اور وردی پہنے پہنے بوٹ زمین پر رکھے پلنگ پر کمرکے بل لیٹ گیا تھا اور سر دیوار سے ٹکا دیا تھا۔ رات کے کھانے کا وقت ہو چکا تھا۔ ایک خوش شکل نوجوا ن گورے چٹے افسر نے مجھے کہا تھا کہ چلو میس چلتے ہیں ڈنر کے لیے ۔میں نے اسے ’’ یار ‘‘ سے مخاطب کر کے کوئی اکھڑا ہواسا جواب دیا تھا لیکن اُس نے بے حد صبر سے کام لیتے ہوئے میرا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی تھی۔ اِس کے اِس رویے سے شرمندہ ہو کر میں اس کے ساتھ چل پڑا تھا۔
برف میں سے گزرتے ہوئے میس کی طرف جانے کے دوران اِس بے حد نوجوان افسر نے جب اپنا نام میجر شاہد بتایا تو میں نے یار کی بجائے فوراً سر پہ چھلانگ لی تھی۔ یہ سنگنلز کے انچارج تھے۔ میس ایک ایسے کمرے میں تھا جہاں سے اندھیرے میں کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہاں میں نے اور میجر شاہد نے ایڑیاں جوڑ کر بریگیڈیر داؤد کو سلام کیا تھا اور انہوں نے مجھ سے بس یہی پوچھا تھا کہ صحیح سلامت پہنچ گئے سب۔ میرا جواب ’’ یس سر‘‘ تھا۔ ایک میز کے گرد سب بیٹھ گئے تھے۔ میرا تعارف ہوا اور پھر باقیوں کے نام پتہ چلے تھے۔ ڈی کیو میجر اکبر شریف، میجر عالم، اے ڈی سی کیپٹن طاہر جو معروف جزل تجمل کا بھانجا تھا اور ایجوکشن کور کا لیفٹینٹ اشفاق جسے وہ سب پڑھا لکھا گردان رہے تھے۔بعد میں گفتگو سے معلوم ہوا تھا کہ فوج والے ایم اے تک پڑھے کو پڑھا لکھا کہتے ہیں کیونکہ وہ خود سب گریجویٹ ہی ہوتے ہیں۔
کھانے کے لیے برتن رکھے گئے تھے۔ بھر پھندنے لگی گلگتی ٹوپی پہنے ہوئے ایک صاف ستھری شلوار قمیض میں ملبوس سرخ و سفید شخص نے آکر سلیوٹ کرکے بریگیڈر صاحب کو رپورٹ کی تھی،’’ سر کھانا تیار ہے ‘‘۔ بریگیڈیر صاحب نے فرمایا تھا،’’سوپ لاؤ‘‘ اور سوپ آ گیا تھا۔ سوپ نوش جان کرکے انہوں نے کہا تھا ’’ اور سوپ لاؤ ’’۔ اُس کے بعد دس منٹ کے لیے توقف تھا، جس دوران میرے سمیت سگریٹ پینے والوں نے سگریٹ سلگا لیے تھے۔ ویسے ہم دو ہی سگیریٹ نوش تھے میں اور میجر عالم۔ کھانا آ گیا تھا۔ کھانے کے دوران بریگیڈیئر صاحب کے قہقہہ لگانے پر سبھی قہقہہ لگاتے تھے۔ مجھے ہنسی کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔

جاری ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں