یہ تیرے پراسرار بندے۔ محمود آباد والے راجہ صاحب/شکور پٹھان

 

بڑے لوگوں کو پہچاننے اور یاد رکھنے کامیرا اپنا ہی طریقہ ہے۔ لوگ باگ ان کے بارے میں پڑھتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں۔ لیکن مجھے ایسی باتوں کا دماغ ہی نہیں۔
بچپن سے اخباروں ، رسالوں اور کتابوں میں کچھ نام پڑھتے اور شخصیت کا ایک ہیولہ  دل میں نقش ہوجاتا اور میں دماغ سے نہیں بلکہ دل سے، جیسے جانور سونگھ کر کسی کے اچھے برے ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں، انہیں اچھے ، برے خانوں میں فٹ کرتا چلا جاتا۔
جب کچھ بڑا ہوا اور بہت سے بڑے لوگوں کی کچھ ایسی ویسی باتیں سننے میں آتیں تو اوّل تو دل انہیں مانتا ہی نہیں، یا مان لیتا تو نظر انداز کردیتا، یا پھر کوئی دلیل تراش لیتا کہ ٹھیک ہے،وہ ایسے تھے، لیکن ایسے بھی تو تھے۔ اب جب تھوڑی بہت جانکاری ہونے لگی ہے تو بہت سی شخصیتوں کے بت ٹوٹنے لگے ہیں

‘تھے’ کواکب کچھ نظر آتے تھے کچھ۔

لیکن کچھ بڑے لوگ ایسے تھے کہ ان سے عقیدت اور محبت میں آج تک کمی نہیں آئی۔ وجہ اس کی ایک یہ بھی ہے کہ ان کے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں، اور جسے بھی جاننے کی کوشش کرو، یار لوگ اس کے بارے میں ایسی ایسی باتیں نکال لاتے ہیں کہ ہر وہ شکل ایسی نظر آتی ہے جیسے ٹوٹے ہوئے آئینے میں چہرہ دکھائی دیتا ہے۔

چند دن پہلے میں نے حسرت موہانی کا ذکر کیا تھا۔ ان کا جب بھی ذکر سنا، ذکر خیر ہی سنا۔ ایسا ہی ایک نام ، نواب بہادر یار جنگ ‘ کا بھی ہے۔ ایک تو ان کی تصویریں دیکھیں ، ان میں اقبال کے مرد مومن اور میر کاروان کا عکس نظر آتا ہے

نگاہ بلند ، سخن دلنواز، جان پرسوز

 

اور نواب صاحب کی جاں تو تھی ہی پرسوز لیکن دلنواز سخن کے چرچے بچپن سے سنتے آئے تھے۔ ایک بار سید ہاشم رضا نے بتایا کہ مسلم لیگ کے جلسوں میں قائداعظم اپنے سامنے گھنٹی رکھتے تھے اور اگر کوئی مقرر اپنے وقت سے زیادہ بولتا تو ڈسپلن ( تنظیم) کے سخت پابند، میرے قائد گھنٹی بجا دیتے۔ لیکن جب نواب بہادر یار جنگ بولنے کھڑے ہوتے تو قائد گھنٹی کو ایک طرف کردیتے۔
ایک اور شخصیت جن کے بارے میں ہمیشہ اچھا ہی اچھا سنا، سردار عبدالرب نشتر تھے۔ سردار صاحب کی شخصیت کا اپنا ہی رعب تھا، شاعر بھی تھے اور ان کی شعلہ بیانی، غیرت وحمیت کے بڑے قصے سنے۔ ان کی بار رعب مونچھیں بھی ان کی شخصیت سے محبت کرنے میں آڑ نہ بنتیں۔ حالانکہ ایک اور بڑی اور شاندار مونچھوں والی شخصیت ، نواب امیر محمد خان کالا باغ ‘ کی بھی تھی۔ لیکن ان کے بارے اچھی ، بری ہر طرح کی باتیں سنیں چنانچہ ان کے لئے ویسی عزت واحترام دل میں نہیں پیدا ہوئے جیسے سردار نشتر کے لئے تھے۔

ایسی ہی ایک شخصیت ، راجہ صاحب محمود آباد ، ہیں جن کے بارے میں جب بھی سنا اور پڑھا اچھا اور مثبت ہی سنا اور پڑھا۔ لیکن راجہ صاحب کے بارے میں مجھے بہت ہی بعد میں جاکر پتہ چلا کہ وہ کون تھے اور ہماری تاریخ میں ان کا کیا مرتبہ ومقام ہے، یا کیا مرتبہ ہونا چاہیے  تھا۔

اب میں آپ کو بتاؤں کہ مجھ جیسا ان پڑھ اور کم علم جو عقل اور علم کے بجائے صرف دل سے سوچتا ہے اور جانوروں کی طرح سونگھ کر اچھے برے کا فیصلہ کرتا ہے، کبھی کبھار کیسی ٹھوکریں بھی کھاتا ہے۔

راجے مہاراجوں، نوابوں، خانوں اور میروں کے نام بچپن سے ہی سنتے آئے تھے، کچھ کی تصویریں بھی دیکھیں۔ ان کے نام کے ساتھ ہی بڑے بڑے محلات، جاگیریں، خدام، نوکر چاکر، رعب داب وغیرہ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتے۔
ہمارے ایک پڑوسی جام صاحب لسبیلہ کے پرسنل سیکرٹری تھے۔ کئی کئی دن گھر نہیں آتے کہ جام صاحب کے سفر اور سیر وشکار میں مصاحبی کے فرائض انجام دیتے۔ وہ جام صاحب اور لسبیلہ اسٹیٹ کے بارے میں بہت کچھ بتاتے لیکن میں جب بھی تین ہٹی اور لسبیلہ جہاں سوسائٹی سنیما ہوا کرتا تھا سے گذرتا تو شش و پنج میں پڑ جاتا کہ جام صاحب کی اس ریاست میں ان کا گھر کہاں ہے۔
پھر کبھی بلوچستان کے سرداروں ، اکبر بگٹی وغیرہ کی تصویریں دیکھتے، خان آف قلات کا ذکر آتا، نواب جونا گڈھ کا بھی ذکر ہوتا، ایک بار نواب بہاولپور اور ان کے خوبصورت محل کی تصویر دیکھی تو ان نوابوں کی کروفر کا نقش دل میں اور گہرا ہوتا گیا۔

ایک اور نواب جن کا نام بہت سنتے نظام حیدرآباد تھے، جن کی دولت کے قصے تو دیو مالا کی کہانی معلوم ہوتے۔ نواب کالا باغ کو بھی دیکھتے۔ایسے میں کبھی کبھار راجہ صاحب محمود آباد کا نام بھی سنائی دیتا۔ مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کی بھی بات ہوتی، لیکن مجھے یاد نہیں کہ میں نے ان کی کوئی تصویر اس وقت کبھی دیکھی ہو۔

اب کچھ چیزیں عجیب طرح سے گڈ مڈ ہوکر سامنے آتیں ۔ مجھے اکثر نرسری ( پی ای سی ایچ ایس) سے محمودآباد ہوکر کالا پل جانا ہوتا۔ محمود آباد میں بنے سلور کوارٹرز کے پاس سے گذرتے ہوئے ہمیشہ ایک ناخوشگواری کا احساس ہوتا ۔ یہیں کہیں مسیحی بھائیوں کی بستی بھی تھی جن میں سے اکثر خاکروب یا مہتر ہوتے۔ اور میں سوچتا کہ ان راجہ صاحب نے اپنی ریاست میں یہ سلور کوارٹر بنا کر کیا احسان کیا، غریبوں کے لئے گھر بنوانے تھے تو جنرل اعظم نے جیسے کورنگی کے کوارٹر بنوائے تھے ایسے ہی کوارٹر محمود آباد میں بھی بنوا دیتے۔ لسبیلہ اور محمود آباد صرف یہ دو ریاستیں تھیں جنہیں میں نے دیکھا تھا۔ ایک تین ہٹّی کے پاس اور دوسری نرسری کے پیچھے۔ اسی جہالت میں کئی سال گذر گئے۔

پھر ایک دن سرسری سی خبر پڑھی کہ راجہ صاحب محمودآباد لندن میں انتقال کر گئے۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ وہ وہاں اکیلے رہتے تھے، اسلامک ریسرچ سنٹر میں ڈائریکٹر کی نوکری کرتے تھے۔ اپنے فلیٹ میں اکیلے رہتے، کھانا خود پکاتے، برتن اور کپڑے خود دھوتے۔ ان کی درویش صفتی کا ذکر تھا، تحریک پاکستان میں ان کی خدمات اور ایثار کا بھی ذکر تھا، جسے میں نے زیادہ غور سے نہیں پڑھا۔ لندن میں ان کی بے سروسامانی کا سبب یہی سمجھ میں آیا کہ ‘ سلور کوارٹر’ بنانے والے راجہ صاحب کے پاس اگر اتنی دولت ہوتی تو سمنٹ کے ہی کوارٹر بنوا دیتے۔

اور ایک دن قرت العین حیدر کی ‘ کار جہاں درازہے’ پڑھتے ہوئے راجہ صاحب کی بات سامنے آئی تو آنکھوں سے بہت سے پردے ہٹ گئے۔ پہلی بات تو یہ سمجھ آگئی کہ سلور کوارٹر والے محمود آباد کی ریاست سے راجہ صاحب کا کوئی لینا دینا نہیں، ان کی ریاست یوپی میں ضلع سیتا پور کے پاس کہیں تھی اور جس کی آمدنی آج سے ایک صدی سے پہلے اٹھارہ لاکھ سالانہ تھی۔ اور یہ وہ دن تھے جب تیس چالیس روپے ایک عام گھرانے کے مہینے بھر کے خرچ کے لئے بہت ہوتے تھے۔

راجہ صاحب محمود آباد کے والد راجہ محمد علی خان بھی دوسرے راجوں اور نوابوں سے مختلف اور منفرد تھے اور نوابوں جیسی حرکتوں کے بجائے صحیح معنوں میں اپنی رعیّت کے ہمدرد تھے۔ اپنی دولت بجائے عیاشی میں لٹانے کے، غریبوں اور ضرورتمندوں پر خرچ کرتے۔
سر محمد علی ، پنڈت نہرو کے والد موتی لعل نہرو کے دوستوں میں سے تھے۔ موتی لعل انہیں بھائی صاحب کہہ کر بلاتے تھے۔جواہر لال کی شادی پر انہوں نے پورے ، جی ہاں پورے الہ آباد شہر کی دعوت کی تھی۔راجہ صاحب محمود آباد نے لیکن اپنے بیٹے امیر محمد خان کی شادی پر ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ شادی میں خرچ ہونیوالے پیسوں سے بارہ سو کے قریب موتیا کے مریضوں کا آپریشن کروا دیا۔
راجہ صاحب کی کوٹھی ‘ قیصر باغ’ اس وقت کے زعماء، مولانا محمد علی جوہر، گاندھی جی، مولانا آزاد اور محمد علی جناح کا مسکن بنتی۔ تحریک آزادی جو اس وقت ہندوؤں اور مسلمانوں کی سانجھی تحریک تھی، کے اجلاس ہوتے،بڑے راجہ صاحب کو جناح صاحب سے خاص انسیت تھی۔ قائد اعظم اور رتی بائی کا نکاح بھی راجہ علی محمد خان نے پڑھایا تھا۔

راجہ صاحب نے اپنے بیٹے امیر محمد خان کا ہاتھ اپنے دوست محمد علی جناح کے ہاتھ میں دے دیا جو ان کے منہ بولے بیٹے بن گئے۔ جناح صاحب سے محبت اور احترام کا رشتہ امیر محمد خان نے ساری عمر نبھایا ۔ علیگڑھ کے طلبہ کو قائد اعظم مسلم لیگ کا اسلحہ خانہ قرار دیتے تھے۔ تحریک کی اس قوت کی شیرازہ بندی کے لئے قائد نے مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشن قائم کی اور راجہ صاحب محمودآباد کو اس کا صدر مقرر کیا۔


تحریک پاکستان راجہ صاحب کا اوڑھنا بچھونا تھی ۔ وہ ایک تخیل پسند ، جوشیلے نوجوان تھے۔،ان کے پردادا نے 1857 میں ملکہ حضرت محل کا ساتھ دیا تھا۔ ان کی ‘انّا’ ان سے بچپن میں کہا کرتیں” بیٹا کبھی مت بھولنا انگریز نے ہمارے ساتھ کیا کیا”. انگریز کی مخالفت ان گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ وہ اسی سامراج دشمنی کے ساتھ جوان ہوئے لیکن یہ بھی کیا ستم ظریفی تھی کہ بالآخر اسی برطانیہ میں انہوں نے پناہ لی اور یہیں آخری سانسیں لیں۔

راجہ صاحب محمود آباد برطانیہ کیوں چلے گئے اس داستان کو سننے کے لئے لوہے کا دل چاہیے۔
جب خواب ٹوٹتے ہیں تو دل میں ایسی دیواریں گرتی ہیں کہ خانہ دل میں بپا ہوا شور جینے نہیں دیتا۔
پاکستان راجہ صاحب کا خواب تھا۔ لیکن مسلمانوں کے لئے الگ ملک ان کا مقصد نہیں تھا۔ ان کا نصب العین ایک ‘ اسلامی مملکت’ تھی۔ وہ ایک آئیڈیلسٹ اور دردمند مسلمان تھے۔ پاکستان ان کے نزدیک اللہ کی نشانیوں میں سے ایک تھا جہاں اسلام کی نشاہ ثانیہ کی داغ بیل پڑنے والی تھی۔ جس اسلامی ملک میں وہ اسلامی طرز زندگی اور اسلامی آئین نافذ ہونا دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ نظام حکومت جس میں ملّت کا سب سے زیادہ دیندار، متقی، عالم باعمل اور صالح ترین شخص ہمیشہ ملک کا سربراہ بنایا جائے۔
اب یہاں سو طرح کی باتیں کی جاسکتی ہیں۔ُتحریک کے اکابرین کی سوچ شاید مختلف تھی۔ راجہ صاحب کو بتایا گیا کہ پاکستان میں ایک سیکولر جمہوریت قائم ہوگی۔ راجہ صاحب جو تصّور کئے بیٹھے ہیں وہ محض بیسویں صدی میں قرون وسطٰی کا خواب دیکھنے جیسی بات ہے۔
مجھے نہیں پتہ کہ کون درست تھا اور کون غلط ، یا شاید دونوں ہی درست تھے۔ اس پر بہت باتیں ہوچکی ہیں اور اب بھی ہورہی ہیں۔ ہم نے پاکستان بنا تو لیا لیکن اب تک فیصلہ ہی نہ کرسکے کہ کس لئے بنایا ؟ اور شاید یہ بھی قدرت کا راجہ صاحب پر کرم ہی تھی کہ وہ یہ وقت دیکھنے سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے کہ جس ریاست کے لئے وہ نیک، پاکباز ، صالح اور صادق وامین سربراہ کا تصور لئے بیٹھے تھے وہاں آج اس بات کی دوڑ لگی ہے کہ تمام تر خیانت، بے ایمانی، بدعنوانی، نااہلی کے باوجود کس میں اتنی ہوشیاری ہے کہ اقتدار پر قبضہ کرسکے۔

یہ وہ سحر نہیں تھی جس کے انتظار میں راجہ صاحب جیسے رومان پسندوں نے اپنی آنکھیں سجا لی تھیں۔ اس سے تو کہیں بہتر غلامی کے وہ اندھیرے تھے جہاں کم ازکم راجہ صاحبہ جیسے فرشتہ صفت لوگ اپنی رعایا کے دکھ درد میں شامل ہوتے، جہاں حقدار کو اس کا حق ملتا۔ جہاں ریاست کے سربراہ کے لئے بدمعاش، خائن اور بدقماش ہونا ، خوبی نہ سمجھی جاتی ہو۔

راجہ صاحب کی جدوجہد، قربانیاں جس پاکستان کے لئے تھیں۔ جس پاکستان کے قیام کے لئے انہوں نے ” ڈان” “ہمدم” “حق” اور دوسرے اخبارات کے لئے اپنا پیسہ لٹایا، جس پاکستان کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس کا قیام قائد اعظم کی قیادت، مسلم لیگ کی سیاست، علیگڑھ کے لڑکوں کے جوش وخروش اور راجہ صاحب محمودآباد کی دولت کی بدولت ممکن ہوا ۔ اسی پاکستان میں ان کے آدرشوں کے لئے کوئی جگہ نہیں تھیں۔

راجہ صاحب نے رانی صاحبہ اور راجکمار کو لکھنؤ میں ہی چھوڑا۔ پاکستان میں انہیں طرح طرح کے عہدے پیش کئے گئے، وہ سب کچھ چھوڑ چھوڑ کر عراق جا بسے، جہاں کر بلائے معلّٰی میں جا کر آنسو بہاتے اور دل کا بوجھ ہلکا کرتے۔ سن ستاون میں پاکستان آئے، اٹھاون میں ایوب خان کا انقلاب آیا۔ اس نے راجہ صاحب کو کنونشن مسلم لیگ کی صدارت پیش کی ، راجہ صاحبہ بھلا جمہوریت پر شبخون مارنے والے کا ساتھ دیتے؟۔ ایوب کو شاید راجہ صاحب کی عظمت اور جدوجہد کا علم ہی نہیں تھا۔ یوں بھی ہم نے اپنے اکابرین کی کون سی قدر کی ہے۔

وہ کچھ دن کے لئے ہندوستان گئے۔ نئی دلی میں ‘ تین مورتی ہاؤس’ تشریف لے گئے۔ اب نہرو کو کچھ بھی کہہ لیں لیکن اگلے وقتوں کی وضع داری بہرحال ان میں تھی۔ انہیں یاد تھا کہ راجہ صاحب کے والد اور موتی لال نہرو میں کتنی گہری یاری تھی۔
پنڈت جی ایک اہم میٹنگ میں تھے۔ راجہ صاحب کی آمد کی اطلاع دی گئی تو فورا یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے” معلوم ہے کون آیا ہے؟ راجہ صاحب محمود آباد۔!!. فوراً  ڈرائنگ روم میں پہنچے، بڑی تپاک اور خلوص سے ملے۔ پرانی باتیں فراموش کرکے انہیں ہندوستان واپس آنے کی پیشکش کی۔ راجہ صاحب نے بھی اسی اخلاص سے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
ان کی سابق ہندو رعایا نے انہیں دیکھ کر انکھیں زمین پر بچھا دیں بڑی عقیدت سے کہا کہ ‘ سرکار واپس آجائیے۔

اور یہ راجہ صاحب جو کبھی لاکھوں کی جائیداد کے مالک تھے ، نوعمری ہی سے فقیر منش تھے، اور لڑکپن سے ہی فرش پر کمبل بچھا کر سو جاتے تھے۔ اب لندن میں اکیلا رہنا، سودا سلف لانا، کھانا پکانا ان کے لئے کوئی عجیب بات نہیں تھی۔ اور اسی سادگی کے عالم میں دنیا سے چلے گئے جہاں آج مشہد مقدس میں مٹی کی چادر اوڑھے سو رہے ہیں۔
راجہ صاحب کی زندگی کے بارے میں آپ بھی بہت کچھ جان سکتے ہیں۔ لیکن مجھے ان کے حالات زندگی نہیں بیان کرنے ہیں مجھے تو اللہ کے اس پراسرار بندے کا ذکر کرنا ہے کہ ارض خدا پر کیسے کیسے لوگ آباد تھے۔
اور آج کی دنیا کتنی خالی اور کتنی غریب ہے۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *