دورِ حاضر میں تھنک ٹینکس کی اہمیت و مؤثریت۔۔لئیق احمد

جب ہم تاریخ اقوام عالم کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات ہمیں اظہر من الشمس نظر آتی ہے  کہ دنیا میں ہمیشہ ان ہی اقوام نے ترقی کی منازل کو طے کیا جہاں علم کو اہمیت دی گئی اور اہلِ علم کو معاشرہ میں قدر و منزلت سے نوازا گیا۔ اسی لیے گزشتہ وقتوں میں دانا بادشاہ اپنے اُمور سلطنت کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے ہمیشہ اہلِ علم و دانش کی ایک جماعت اپنے ساتھ رکھتے تھے تاکہ مسائل کی صورت میں یہ اپنے تجربے اور مہارت کی بنیاد پر بہترین حل تجویز کریں اور ریاست ان تجاویز پر عمل کرکے ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرسکے۔ پبلک پالیسی کے سلسلے میں کی جانے والی مشاورت کا یہ سفر منازل طے کرتا ہواآج کی جدید دنیا میں تھنک ٹینکس کی صورت اختیار کرچکا ہے جس سے نہ صرف حکومتیں بلکہ افراد اور کاروباری ادارے بھی مستفیذ ہورہے ہیں۔
عالمگیریت کے اس دور میں بقا ترقی اور اختیار صرف انہی کو حاصل ہے جو علم تجربے اور مہارت کی بنیاد پر مرتب کردہ مشوروں کو اپنی قلیل اور طویل المدتی پالیسیوں کا حصہ بناتے ہیں اور ان کے تسلسل کے ساتھ جاری رہنے کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔

تھنک ٹینکس کی تعریف!
ماہرین کی اصطلاح میں تھنک ٹینک اس تحقیقی اور تصنیفی ادارے کو کہا جاتا ہے جو عوامی پالیسی کے متعلق تحقیق تجزیہ اور مشورے کا کام کرتا ہے اور اپنی تحقیقات اور مشوروں کے ذریعے پالیسی سازی کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے UNDP کے مطابق ایسی آرگنائزیشن جو پبلک پالیسی سے متعلقہ کسی بھی موضوع پر باقاعدگی سے تحقیق کے کام میں مصروف ہو تھنک ٹینک کہلاتی ہے ۔اس کی ایک تعریف یوں بھی کی جاتی ہیں:
’’افراد کا ایسا گروہ جس کو پیسے دیے جاتے ہیں کچھ نہ کرنے کے، سوائے اس کے کہ وہ اپنے موضوع سے متعلقہ معلومات زیادہ سے زیادہ حاصل کرے اور اس کو زیرِ بحث لاتے ہوئے اس سے متعلق کوئی لائحہ عمل اختیار کریں۔‘‘
یعنی تھنک ٹینک ایک ایسی ریسرچ یونیورسٹی ہوتی ہے جس کا بنیادی مقصد صرف اور صرف ریسرچ ہوتا ہے اور یہ اپنے موضوع سے متعلق ایسے خیالات کو پیش کرتے ہیں جو خاص تحقیق پر مبنی ہوتے ہیں۔

تھنک ٹینکس کی اہمیت!
دنیا میں اپنی مرضی کی سیاسی اور جغرافیائی تبدیلی لانی ہو یا پوری دنیا کے معاشی اور اقتصادی معاملات کو ایک دائرے میں جکڑنا ہو تہذیبوں کا ٹکراؤ کرانا ہو یا مخالف نظریہ رکھنے والوں کو خانہ جنگی میں اُلجھا کر اپنے عزائم پورے کرنے کی جستجو ہو، ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے دنیا بھر کی طاقتور اقوام جس قوت کی محتاج ہیں ، اس کا نام تھنک ٹینک ہے۔

وہ دن چلے گئے جب دوسری اقوام کو فتح کرنے کے لیے ان پر جنگ مسلّط کرنا ضروری ہوتی تھی۔ آج کے جدید دور میں صرف ذہنی جدوجہد سے پوری پوری قوموں کو فتح کرلیا جاتا ہے وہ قومیں اپنے آپ کو بظاہر تو آزاد سمجھتی ہیں لیکن ان دیکھے غلامی کے طوق ان کے گلے میں ہوتے ہیں۔ آج جہاں اپنے دفاع کے لیے فوج کی ضرورت ناگزیر ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک کے استحصال سے بچنے کے لیے ترقی پذیر ممالک میں بھی تھنک ٹینکس کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے اور کئی ممالک اپنی سالمیت اور اپنے ملک کے مستقبل کی بہترین پالیسی سازی کے لیے کثیر بجٹ بھی مختص کررہے ہیں۔ دنیا کے 197 ممالک میں تھنک ٹینکس کا ہونا اس کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

تھنک ٹینکس کی اقسام
تھنک ٹینکس کا کام عمومیت سے ہٹ کر ایک خاص سطح  کا ہوتا ہے۔ ان کا تعلق بعض اوقات حکومت سے براہِ راست ہوتا ہے اور بعض اوقات پرائیویٹ سیکٹر سے اس حوالے سے تھنک ٹینکس کو عمومی طور پر 7 اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
1۔ پہلی قسم خودمختار اور آزاد نوعیت کے تھنک ٹینکس پر مشتمل ہے اس قسم کے ادارے کسی بھی گروپ یا ڈونر کے اثر سے آزاد اور اپنے کام میں خودمختار ہوتے ہیں۔
2۔ دوسری قسم بظاہر آزاد تھنک ٹینکس کی ہے یہ حکومت کے اثر سے تو آزاد ہوتے ہیں لیکن کسی ایک گروپ یا ڈونر کے زیر اثر ہوتے ہیں جو ان کو زیادہ تر فنڈنگ فراہم کرتے ہیں۔
3۔ تیسری قسم کے تھنک ٹینکس حکومت سے الحاق شدہ ہیں ،یہ حکومتی ڈھانچے کے ایک باقاعدہ حصے کے طور پر ہوتے ہیں۔
4۔ چوتھی قسم بظاہر سرکاری تھنک ٹینکس پر مبنی ہے یہ ادارے خاص طور پر حکومت سے فنڈنگ حاصل کرتے ہیں لیکن یہ حکومتی ڈھانچے کا باقاعدہ حصہ نہیں ہوتے۔
5۔ پانچویں قسم جامعات سے الحاق شدہ تھنک ٹینکس پر مشتمل ہے جو جامعات کی پالیسی تحقیق کے سینٹرز کی صورت میں کام کرتے ہیں۔
6۔ چھٹی قسم سیاسی جماعتوں کے الحاق شدہ تھنک ٹینکس ہے یہ ادارے کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ باقاعدہ طور پر وابستہ ہوتے ہیں۔
7۔ آخری قسم کے تھنک ٹینکس کارپوریٹ (برائے منافع ہوتے ہیں یہ پبلک پالیسی کی تحقیق کے ایسے ادارے ہیں جو کسی کارپوریشن کے ساتھ الحاق شدہ ہوتے ہیں اور آمدن اور منافع کے لیے کام کرتے ہیں۔ تھنک ٹینکس مختلف نوعیت کی ریسرچ کے لیے ہوسکتے ہیں جس میں تعلیم معیشت، دفاع، صحت اور بہت سے اہم موضوعات ہوسکتے ہیں۔ امریکہ میں توبہت سی یونیورسٹیز میں تھنک ٹینک بنے ہوتے ہیں بلکہ کچھ فیکلٹیز میں یہ بات عام ہے کہ پروفیسر ایک دو سال چھٹی لے کر گورنمنٹ کے ساتھ کام بھی کرتے ہیں۔

تھنک ٹینکس کی تاریخ!
دنیا کے پہلے تھنک ٹینک کا قیام 1824 میں امریکہ میں لایا گیا جس کا نام فرینکلین انسٹیٹیوٹ تھا جس کا بنیادی مقصد فرینکلین کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا اس کے بعد 1831 میں برطانیہ میں ایک تھنک ٹینک کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا نام The Royal United in stitute تھا جو دفاع اور سکیورٹی کی تحقیق میں کام کرتا تھا دنیا کا سب سے پہلا سیاسی تھنک ٹینک The Fabian Society کو مانا جاتا ہے جس کا قیام 1884 میں برطانیہ میں ہوا۔
تھنک ٹینک کی باقاعدہ اصطلاح رانڈ کارپوریشن (Rand Corporation) سے نکلی ہے جس نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ کے لیے اسٹریٹجک سوچ و بچار کا محفوظ ماحول فراہم کیا۔ جنگِ عظیم دوم سے قبل تھنک ٹینک کا رجحان صرف برطانیہ اور امریکہ میں تھا جب کہ آج کے دور میں اس طرح کے تحقیقی ادارے پوری دنیا میں پھیل چکے ہیں۔

عالمی مؤثر تھنک ٹینکس
1۔ دنیا بھر کے تھنک ٹینکس:
ہر سال یونیورسٹی آف پنسلوانیا کےتحت دنیا بھر میں ہزاروں تھنک ٹینکس کے حوالے سے ممالک کی درجہ بندی کی جاتی ہے اس ادارہ کی 2015 کی رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں 6846 تھنک ٹینکس موجود ہیں جن میں سے 27 فیصد تھنک ٹینک صرف امریکہ کے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے 197 ممالک میں تھنک ٹینکس  موجود ہیں جن کی کم سے کم تعداد فی ملک ایک سے لے کر زیادہ سے زیادہ 1835 ہے۔
درجہ بندی کے مطابق امریکہ 1835 تھنک ٹینکس کی تعداد کے ساتھ سب سے پہلے نمبر پر ہے۔ 435 تھنک ٹینکس کے ساتھ چین دوسرے نمبر پر ہے اور 288 تھنک ٹینکس کے ساتھ برطانیہ تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔ بھارت 280 تھنک ٹینکس کے ساتھ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا اور دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔
درجہ بندی کے مطابق دنیا کا سب سے بہتر تھنک ٹینک امریکہ کے Brooking instituteکو قرار دیا گیا۔

2۔ اسلامی ممالک کے تھنک ٹینکس:
GGTTI کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 11 فیصد تھنک ٹینکس مسلم ممالک میں موجود ہے جس میں ایران 59 تھنک ٹینکس کے ساتھ پہلے نمبر پر موجود ہے جب کہ پوری دنیا میں اس کا نمبر 19 واں ہے۔ نائیجیریا 48 تھنک ٹینکس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں جب کہ پوری دنیا میں اس کا نمبر 27 واں ہے۔ بنگلہ دیش 35 تھنک ٹینکس کے ساتھ تیسرے نمبر موجود ہے جب کہ پوری دنیا میں اس کا   نمبر 37 واں ہے۔ ٹاپ 100 کی فہرست میں اسلامی تعاون کونسل (OIC) کے 57 ممالک میں سے 5 ممالک کے 6 تھنک ٹینکس نے ہی جگہ بنائی ہے جس میں ترکی کے دو لبنان، مصر، انڈویشیا اور ملائیشیا کا ایک ایک تھنک ٹینکس اس فہرست میں شامل ہے۔

3۔ پاکستان کے تھنک ٹینکس
پاکستان میں عالمی طرز کے تھنک ٹینکس کی شدید کمی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے اکثر سروے باہر کی کمپنیاں بیٹھ کر کراتی ہیں۔
GGTTI کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 20 تھنک ٹینکس کام کررہے اس حساب سے عالمی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا 63 واں نمبر ہے لیکن ان 20 تھنک ٹینکس میں سے بھی عملی طور پر 3 سے 4 ہی مؤثر انداز میں کام کررہے ہیں جس کی بنیادی وجہ پاکستان میں ارباب اختیار کی عدم دلچسپی ہے۔ پاکستان کے دو بڑے تھنک ٹینک جن کا شمار ساؤتھ ایشیا کے 20 بڑے تھنک ٹینکس میں ہوتا ہے ان میں ایک کراچی میں ہے جس کا نام Pakistan Institute of International Affairs ہے اور ایک Sustainable Development Policy Institute ہے پورے ساؤتھ ایشیا میں PIIA کا 18 واں نمبر ہے اور SDPI کا 15 واں نمبر ہے جب کہ عالمی اعداد و شمار کے مطابق SDPI دنیا کا 60 واں موثر بڑا تھنک ٹینک ہے۔

اس طرح گزشتہ کچھ سال قبل پاکستان میں ایک اہم تحقیقی ادارہ کا اضافہ ہوا جس کا نام   مسلم انسٹیٹیوٹ ہے جس کا مقصد اُمتِ مسلمہ کے مسائل کو سمجھنا اس پر تحقیق کرنا اور اس کا حل تلاش کرنا ہے یہ ادارہ اب تک کئی انٹرنیشنل کانفرنسز اور سینکڑوں راؤنڈ ٹیبل ڈسکشنز کراچکا ہے یہ ادارہ کس قدر مؤثر انداز میں کام کررہا ہے اس حوالے سے صرف ایک مثال دینا چاہوں گا اس ادارہ نے گزشتہ مہینے علامہ اقبال صاحب پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ یہ تاریخ میں اپنی نوعیت کی سب سے منفرد کانفرنس تھی جس میں دنیا کے چار براعظموں کے اٹھارہ مختلف ممالک کے وفود نے شرکت کی جن میں سوڈان کے سابق وزیراعظم کئی ممالک کے سابقہ و موجودہ وفاقی وزراء صوبوں کے گورنر، سابق سفیروں اور اعلیٰ سطحی علمی و ادبی شخصیات اور دانشوروں نے شرکت کی۔

پاکستان سے بھی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، یونیورسٹیوں کے ڈین صاحبان اور مختلف شعبہ جات کے صدور صاحبان سمیت علمی و تحقیقی اداروں کے سربراہان نے اپنے مقالات پیش کیے۔ کانفرنس کل 9 مختلف سیشنز میں تقسیم کی گئی تھی جس میں سات اکیڈمک سیشن تھے ،ایک اختتامی سیشن تھا اور ایک پیام اقبال کے عنوان سے کلام کا سیشن تھا جس میں استاد حامد علی خان نے کلام اقبال پیش کیا۔
مثال دینے اور اس کی تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں کئی ایسے ادارے موجود ہیں  جو پاکستان اور اُمتِ مسلمہ کا درد رکھتے ہیں اور اپنے محدود بجٹ میں اپنی مدد آپ کام کررہے ہیں اگر ان کو حکومتی سرپرستی فراہم کی جائے   تو یہ یقیناًپاکستان اور اُمتِ مسلمہ کے لیے نمایاں کارنامے سر  انجام دے سکتے ہیں۔

لیئق احمد
لیئق احمد
ریسرچ سکالر شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی ، ٹیچنگ اسسٹنٹ شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دورِ حاضر میں تھنک ٹینکس کی اہمیت و مؤثریت۔۔لئیق احمد

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *