جماعت اسلامی ایک بڑی سیاسی جماعت/چوہدری عامر عباس

گزشتہ روز مینار ِپاکستان گراؤنڈ میں جماعت اسلامی کا یوتھ کنونشن منعقد ہوا جس میں ورکرز کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ زیادہ تر کالج و یونیورسٹی طلبہ تھے۔ دوست بتاتے ہیں کہ پنڈال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اس قدر منظم پروگرام بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بلاشبہ ہر سیاسی جماعت کیساتھ ہر طرح کے ورکرز منسلک ہوتے ہیں مگر جماعت اسلامی کے ساتھ بہت بڑا پڑھا لکھا اور مہذب طبقہ بھی بڑی تعداد میں وابستہ ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تعلیمی اداروں میں سیاسی لیڈر شپ پیدا کرنے میں جماعت اسلامی کا جو کردار ہے وہ کسی دیگر سیاسی جماعت کو حاصل نہیں ہے۔ فلاحی کاموں میں جماعت اسلامی اپنا ثانی نہیں رکھتی زیادہ نہیں گزشتہ پانچ سال کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔

جماعتِ  اسلامی سب سے پرانی اور سب سے منظم تنظیم سازی رکھنے والی سیاسی جماعت ہے مگر وجہ سمجھ سے باہر ہے کہ یہ ملک بھر میں ایک بڑی سیاسی قوت بن کر نہیں اُبھر سکی ،جیسے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن ہیں۔ جماعت اسلامی کے اندر جو جمہوریت ہے کسی دیگر سیاسی جماعت میں نہیں ملے گی۔ جماعت اسلامی بہت بڑی سیاسی حقیقت ہے اس جماعت کا دائرہ کار ملک کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ منظم اور شفاف انٹراپارٹی انتخابات ہوتے ہیں جس میں ایک معمولی ورکر بھی اراکین کے ووٹوں سے منتخب ہو کر امیر جماعت بن سکتا ہے جبکہ دیگر جماعتوں میں انٹراپارٹی انتخابات برائے نام ہی سننے کو ملتے ہیں۔

جماعت اسلامی کے سیاسی فیصلوں پر سب سے بڑا اعتراض کیا جاتا ہے۔ دیکھیں جمہوری جماعتوں میں دیگر جماعتوں کیساتھ ڈائیلاگ کا سلسلہ ہمیشہ جاری و ساری رہتا ہے۔ جماعت اسلامی اگر سیاسی فیصلے غلط لیتی ہے تو دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی ماضی قریب میں بہت سے غلط فیصلے کئے۔ ایک دوسرے کا پیٹ پھاڑنے والے ایک پیج پر بیٹھ گئے۔ کسی کو چپڑاسی نہ رکھنے والے کو وزیر بنا دیا گیا۔ اسی طرح پرویز الہی پر تنقید کے بعد اسے وزیر اعلیٰ بنایا گیا یہ بھی ایک سیاسی فیصلہ ہی تھا۔ جماعت اسلامی کا جھکاؤ اگرچہ پی ڈی ایم کی طرف ہے مگر سینیٹر مشتاق سمیت جماعت اسلامی کے کئی رہنما کھلے لفظوں میں پی ڈی ایم پر کڑی تنقید کر چکے ہیں اسی کا نام جمہوریت ہے۔ اب تھوڑا سا مارجن تو جماعت اسلامی کو دینا بنتا ہے۔ سیاسی فیصلوں کا عمل چلتا رہتا ہے جماعت اسلامی کے سیاسی فیصلوں میں اگر کہیں پر جھول ہے تو وہ درست کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی جماعتوں میں کرپشن کا موازنہ کریں تو جماعت اسلامی ایک بہترین سیاسی جماعت نظر آئے گی۔
جماعت اسلامی پر تنقید کی جاتی ہے کہ اس میں اقربا پروری بہت زیادہ ہے۔ مجھے یہ بتائیں کہ اقربا پروری آج کہاں پر نہیں ہے؟ کیا دیگر سیاسی جماعتوں میں نہیں ہے؟ کسی سرکاری دفتر میں چلے جائیں وہاں اپنے قریبی ملازمین کو نوازا جاتا ہے اور پوچھ گچھ کا نام و نشان تک نہیں ہے جبکہ تمام قوانین دیگر لوگوں کیلئے ہیں۔ پرائیویٹ دفاتر میں بھی منظور نظر اور کاسہ لیسی کرنے والے موج میں رہتے ہیں جبکہ دیگر ملازمین زیرعتاب رہتے ہیں۔

چلیں اس کو چھوڑیں اپنے خاندان کی مثال لے لیجیے۔ میں ایک وکیل ہوں اور پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ نوے فیصد خاندانی جھگڑوں کے مقدمات کی جڑ یہ اقرباء پروری ہی ہے۔ اقرباء پروری ایک معاشرتی برائی ہے آپ اسے اپنے دس افراد پر مشتمل چھوٹے سے کنبے سے ختم نہیں کر سکتے وہ پھر بھی لاکھوں کارکنان پر مشتمل ایک سیاسی جماعت ہے۔ اقرباء پروری ہماری ہڈیوں میں رچ چکی ہے۔ انسانوں کے معاشرے میں فرشتے ڈھونڈنا چھوڑ دیجئے۔ پاکستان جیسے معاشرے سے اقرباء پروری کو کم تو کیا جا سکتا ہے مگر اسے جڑ سے ختم کرنا ناممکن ہے۔ سچ پوچھیں تو اقرباء پروری کے معاملے میں جماعت اسلامی دیگر تمام جماعتوں سے پھر بھی بہت بہتر ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

فی الوقت جماعت اسلامی اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ کسی بھی صوبے میں اکیلے حکومت بنا سکے۔ 2013 سے لیکر 2018 تک جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے خیبر پختون خوا  میں مل کر کام کیا اور بہترین ڈیلیور کیا۔ پختون خوا  میں بہت اصلاحات ہوئیں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان پہلے سے مزاج آشنائی اور ورکنگ ریلیشن شپ رہا ہے۔ اس وقت اگر تحریک انصاف اچھی تھی تو آج بُری کیوں ہو گئی یا اس وقت اگر جماعت اسلامی اچھی تھی تو آج بُری کیوں ہو گئی؟ اب بھی دونوں جماعتوں کو پاکستان کی خاطر مل کر کام کرنا چاہیے۔ جمہوریت میں ڈائیلاگ بہترین طرز عمل ہے۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کو ڈائیلاگ کا عمل شروع کرنا ہو گا یہی وقت کی ضرورت ہے۔ میں ان دو جماعتوں کے اتحاد کو ایک فطری اتحاد مانتا ہوں۔ یہ دونوں جماعتیں مل کر کچھ بولڈ فیصلے لیتے ہوئے ملک کو بحرانوں کے بھنور سے بآسانی نکال سکتی ہیں۔

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply