ون ونڈو آپریشن

ون ونڈو آپریشن
نصیر اللہ خان
پاکستان میں ون ونڈو آپریشن ایک درینہ خواب سے کم نہیں ہے ۔ ون ونڈو آپریشن کیا ہے ؟ ون ونڈو آپریشن کا مطلب سادہ سا ہے کہ جہاں کہیں کوئی ریکارڈ اور معلومات ملاحظہ کرنا ہوں،اسے ایک جست میں یعنی ایک کھڑکی میں سامنے لایا جاسکے ۔کمپیوٹر کی ایجاد سے ون ونڈو آپریشن اب کوئی مشکل کام نہیں رہا ۔یعنی صرف ایک’’ سافٹ وئیر انسٹال ‘‘کرنے کی ضرورت ہے اور باقی کام سیکنڈ وں کا ہے ۔ ایسا سافٹ وئیر کوئی بھی محکمہ اپنے مقاصد کے حصول اور ضروریات کودیکھتے ہوئے انسٹال کرسکتاہے۔ وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت اور محکموں کے ساتھ کوآرڈی نیشن کی غرض سے دوگنا فائدے لےسکتی ہے۔ مثال کے طور پر امیگریشن اور نادرا ریکارڈ سے کسی کا بھی ماضی ،حال کا ریکارڈ میسر ہوگا اور کسی فرد اور ڈیٹا کی جان پہچان منٹوں کا کام ہوگا۔صوبائی سطح پرسافٹ وئیر مذکورہ کی افادیت اور ضرورت اپنی جگہ پر موجود رہے گی ۔
الیکشن کوہینڈل کرنے اور فئير اینڈ ٹرانسپیر ینٹ یعنی صاف اور شفاف الیکشن کرانے میں آسانی ہوجائے گی ۔ دہشت گردی اوردہشت گرد کالعدم تنظیموں کے ساتھ نمٹا جاسکے گا ۔اس سےمحکمہ تعلیم میں طالب العلموں کے تعلیمی ریکارڈمیں مدد دلی جاسکتی ہے۔ ہر وقت کی بے جا اٹیسٹیشن سے نجات مل جائے گی۔ہسپتال میں ڈاکٹروں ، سٹاف اور مریضوں کا ٹریک ریکارڈ میسر ہوگا ۔عدالتوں میں فائل اور فیصلوں کے کھوج سے آرام لگایا جائے گا اور تھانوں میں سالوں اورملزموں کے ماضی حال کا محکمانہ طور پر ریکارڈ موجود رہے گا۔ بعض حکومتی ریکاڑد جو خفیہ رکھنا مقصود ہو، اس کی حصہ الگ سے رکھا جاسکے گا ۔
دراصل مذکورہ وزارت اور سافٹ وئیر مذکورہ تمام وزارتوں کو ایک ہی کڑی میں پروئے جا نے کا پروگرام ہے۔اس کی مدد سے سٹاک ایکسچینج کی لمحہ بہ لمحہ اتا چڑھاؤ کی خبر رکھی جا سکتی ہے، خام مال کی ترسیل اور معلومات کو یقینی بنایاجاسکتا ہے ۔ کمپنیوں اور صنعتوں ، معیشت اور جی ڈی پی کی روزانہ بنیادوں پر اعدادو شمار کا عمل ممکن ہوسکے گا۔ سو ل ایوی ایشن، ریلوے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ٹکٹوں وغیرہ کی بکنگ کو خود کار طریقہ سے ممکن بنا کر سامنے لایا جاسکے گا۔ جدید بینکنگ کانظام ٹھیک ہوکرترقی یافتہ شکل میں برآمد ہوگا ۔ یوٹیلیٹی سٹورز میں خرید و فروخت وغیرہ اور بلنگ کا نظام بہتر ہوگا ۔اس کی مدد سے محکمہ تعلیم ، سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز ،سی اینڈ ڈبلیو ، ٹی ایم اے ، واپڈا ، سوئی گیس ، ایری گیشن ، موٹر ویز ،ٹریفک ،اعداد و شمار ،ڈویلپمنٹ پراجیکٹ ، پی آئی اے ، پی ٹی سی ایل ، بہبود آبادی ،محکمہ صحت،اقوام متحدہ ، ایمبیسی امیگریشن ، سڑکوں وغیرہ کے نظام میں بہتری کے آثار نمودار ہوسکتے ہیں۔
پاکستان میں ون ونڈو آپریشن نہ ہونے کےوجہ سے جہاں بھی جایا جائے ،وہاں پر نا قابل بیان ذہنی پریشانی اور کوفت اُٹھانا پڑتی ہے۔ ا ب کیا کیا جائے، کون سا حل پیش کیا جائے تاکہ ان مسائل سے نبرد آزما ہوا جاسکے ؟ یہ یاد رہے کہ حکومت نے بعض امور پر ون ونڈو سسٹم آپریٹ کیا ہے، لیکن اس میں سقم اورخامیاں شروع ہی دن سے موجود ہیں ۔ لینڈ ریونیو ریکارڈ ابھی تک مکمل نہیں کیا جاسکا ہے۔ عدالتی نظائر اور فائلیں خراب ہو چکی ہیں اور اب تک کمپیوٹر میں فیڈ کرانے کے پراسس کے عمل سے گزاری جا رہی ہیں۔ نادرا کا نظام ون ونڈو آپریشن کیا گیا ہے ۔ بینک بھی کسی نہ کسی حد تک ون ونڈو آپریشن کی اہلیت رکھتے ہیں۔اس طرح بائیو میٹرک کے جدید نظام کوسافٹ وئیر مذکورہ کی مدد سے جوڑا جاسکتا ہے اور اس سے بہت سے چیزوں میں مد د لی جاسکتی ہے ۔
میرے خیال کے مطابق وفاقی حکومت کو اعلی ٰسطح پر ایک ادارہ اوروزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسا سافٹ وئیر بنانا چاہئے ، جس سے تمام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کےاعلیٰ اور زیریں محکمے کی بنیادی ضروریات اور مسائل کو سمجھ کراور محکمہ کے وسائل اور سروسزکو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جدا گانہ محکمہ بنایا جانا از حد ضروری ہے ، جس میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ہر ایک محکمے کا جدید بنیادوں پر”اپ ٹو ڈیٹ ” ریکارڈ دیکھنے کی سہولت میسر ہو۔ مذکورہ سافٹ وئیر میں محکمہ کے بنیادی اغراض ومقاصدکے لئے جداگانہ آپشنز ڈالی جا سکتی ہیں۔
وفاقی حکومت اس مقصد کے حصول کے لئے وفاقی سطح پر آئین میں ترمیم کرکے صوبوں کے لئے ضابطہ اخلاق اور دائرہ کار متعین کرے گی ۔صوبے اپنی صوابدید قانون کے تابع ذیلی محکمہ تخلیق کرکے اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے تمام اضلاع میں اپنے آپریشن کو تکمیل تک پہنچانے کا ٹائم فریم مقرر کرکے ،مختلف محکموں کے ٹریک ریکارڈ، ٹیکسٹ اور جو فائلیں سکیننگ کے قابل ہوں کمپیوٹر سافٹ وئیر میں فیڈ کر سکیں گے ۔ محکمہ میں سروسز کی مد میں نئی کنٹریکٹ بھرتیوں کی ضرورت ہوگی ۔بعد ازاں کام کی تکمیل میں سروسز کو مستقل کیا جاسکتا ہے ۔ صوبائی حکومت ایک ادارے کو عمل میں لائےاور اس کو باضابطہ طور انفارمیشن منسٹری کے توسط سے پہلے سافٹ وئیر بنانے اور بعد ازاں سروسز کی مد میں بھرتیاں کرنے اور ون ونڈو آپریشن کی خاطر ترقی یافتہ اقوام کے جدید طرز پر ٹریننگ فراہم کرنے کے لئے اقدامات کرے ۔
قارئین ،اس ساری بحث کا مقصد یہ ہے کہ حکومت اور عوام الناس کو پتا چل سکےکہ کون سے محکمے میں کیا ہو رہا ہےاور آئندہ کیا ہونے جارہا ہے ؟ کو ن سی سروسز وفاقی اور صوبائی حکومت دے رہی ہیں ۔ عدالت میں بہتر نظام انصاف کے کیا پیمانے مقرر کئےجاتے ہیں ۔ انٹر نیٹ پر تابع قاعدہ وقانون اور سیکریسی کو ملحوظ خاطر رکھ کرپبلک دستاویزات مشتہر کرنے میں آسانی ہوجائے گی ۔ حکومت کو کسی عمل کو نافذ کرنے کے لئے صرف مجاز محکمہ سے اجازت لینا درکار ہوگی ۔
باقی ڈویلپمنٹ ورکس کی نگرانی کا موثر نظام وجود میں آتا جائے گا۔شائد پاکستان میں وہ وقت نہیں آیا ہے کہ اس طرح کی کوئی حکمت عملی بنائی جا سکے۔ جہاں لوگوں کو ایک کھڑکی ،ایک کمپیوٹر کے ذریعے سب سہولیات میسر ہوجائیں ۔ حکومت ویسے تو ہر سال اربوں روپے کے قرضے لے رہی ہے اور اس طرح تادم تحریر عوام الناس کو لاکھوں روپے کا مقروض بنا چکی ہے ۔ اس لحاظ سے عوامی آگاہی صفر ہے اورہم من حیث القوم نہیں چاہتےہیں کہ ہماری یہ محکومی ختم ہوجائے ۔حکمران اپنی شاہ خرچیوں سے باز نہیں آنے والے ۔چہ جائیکہ کوئی دیگرضروری اورمؤثر منصوبے شروع کئے جائیں ۔لیکن پاکستانی عوام کوپُر امید رہنا چاہئے کیونکہ ہمیں باقی دنیاوالوں کے ساتھ رہنا ہے ۔اتنی بھیڑ اور ہجوم میں ہماری زندگی کسی قیامت خیز اذیت اور جہنم سے کم نہیں ۔اس صورتحال میں ،میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ایک نہ ایک دن لامحالہ ہمیں یہ کام کرنا ہوگا ۔ تو چلیں دیکھتے ہیں کہ کب حکومت ون ونڈو آپریشن شروع کرتی ہے اور عوام کو آسانیوں سے روشناس کراتی ہے ۔

نصیر اللہ خان
نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *