بدن (96) ۔ سکاٹز کی دریافت/وہاراامباکر

 “پاکستان ڈینٹل ریویو” میں ایک مضمون شائع ہوا۔ یہ مضمون بیسویں صدی کی ایک اہم ترین دریافت کی کہانی تھی جو اس دریافت کرنے والے نے لکھی تھی۔ دنیا کے کسی بھی اور جریدے نے اسے شائع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

۔۔۔۔۔
ادویات کی سائنس میں البرٹ سکاٹز ایسے شخص ہیں جو کم از کم کچھ دیر کی توجہ کے مستحق ہیں اور ہم ان کے کام پر ان کے شکرگزار ہو سکتے ہیں۔
سکاٹز ایک غریب دیہی خاندان سے تھے۔ انہوں نے مٹی کی بائیولوجی کی تعلیم لی۔ انہیں مٹی کا جنون تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ مٹی کے بارے میں سیکھ کر اپنی خاندانی زمین پر اس علم کو استعمال کریں گے۔
اور سکاٹز کے شعبہ کے انتخاب نے بہت سی زندگیاں بچائیں۔ پنسلین دریافت ہو جانے کے بعد 1943 کو انہیں بس ایک خیال آیا کہ مٹی میں پائے جانے والے جراثیم میں سے بھی کچھ ایسا مل سکتا ہے جو اینٹی بائیوٹک ہو۔ پنسلین گرام نیگیٹو بیکٹیریا کے خلاف کام نہیں کرتی تھی۔
سکاٹز نے بڑے صبر اور محنت کے ساتھ سینکڑوں سیمپل ٹیسٹ کئے اور سٹریپٹومائسین دریافت کی۔ یہ دنیا کی پہلی دوا تھی جو گرام نیگیٹو بیکٹیریا کا صفایا کرتی تھی۔ یہ مائیکروبائیولوجی کی دنیا میں ہونے والا ایک بہت بڑی پیشرفت تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکاٹز کے سپروائزر سلمان واکسمین تھے۔ انہوں نے اس کی اہمیت کو فوری طور پر بھانپ لیا۔ اس کے کلینل ٹرائل کا چارج سنبھال لیا۔ اس دوران انہوں نے ایک معاہدے پر دستخط لئے جس میں اس کے پیٹنٹ کے حقوق یونیورسٹی کو دئے گئے تھے۔ سکاٹز کو بعد میں معلوم ہوا کہ واکسمین اس دریافت کا مکمل کریڈٹ لے رہے ہیں اور سکاٹز کو کسی بھی کانفرنس یا میٹنگ میں مدعو کئے جانے سے روک رہے ہیں۔ جبکہ اس پر توجہ اور تعریف خود سنبھال رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ واکسمین کو یہ بھی پتا لگا کہ پیٹنٹ کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوئے تھے۔ اور اس سے ہونے والے منافع سے حصہ کما رہے تھے جو سالانہ کئی ملین ڈالر تھا۔
سکاٹز نے یونیورسٹی اور واکسمین پر ہرجانے کا مقدمہ کر دیا۔ مقدمہ جیت لیا، لیکن اس نے انہیں تباہ کر دیا۔
اپنے سپروائزر اور یونیورسٹی پر مقدمہ کرنا سائنسی اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں بڑا جرم تھا۔ سکاٹز پر بہت سے دروازے بند ہو گئے۔ کئی برسوں تک واحد ملازمت جو انہیں مل سکی، وہ ایک چھوٹے سے زرعی کالج میں استاد کی تھی۔ سائنسی جرائد ان کے لکھے پیپر مسترد کرتے رہے۔
ان کا لکھا ہوا پیپر، جو سٹرپٹومائسین کی دریافت کی تاریخ پر تھا، تمام ہی جرائد نے مسترد کر دیا۔ اور یہ وہ مضمون تھا جس کی اشاعت صرف پاکستان ڈینٹل ریویو نے کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائنس کی دنیا میں ہونے والی ایک بڑی ناانصافی 1952 میں میڈیسن کا نوبل انعام تھا جو واکسمین کو دیا گیا۔
واکسمین اس کا تمام کریڈٹ تمام عمر خود ہی لیتے رہے۔ نہ ہی اپنی نوبل انعام لینے کی تقریر میں، اور نہ ہی اپنی 1958 میں لکھی آپ بیتی میں سکاٹز کا ذکر کیا۔ صرف اتنا لکھا کہ ان کے ایک شاگرد نے اس میں مدد کی تھی۔ واکسمین کا انتقال 1973 میں ہوا تو انہیں “بابائے اینٹی بائیوٹک” کے نام سے یاد کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واکسمین کی وفات سے بیس سال بعد، مائیکروبائیولوجی کی سوسائٹی نے اس ناانصافی کی تلافی کی کوشش کی۔ اس وقت اس دریافت کو پچاس سال گزر چکے تھے۔
اس سوسائٹی نے سکاٹز کی خدمات کے اعتراف میں انہیں اپنا اعلیٰ ترین اعزاز دیا۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ اس اعزاز کا نام سلمان واکسمین میڈل تھا۔
زندگی کئی بار بڑی ناانصافی کر جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر اس کہانی میں پرامید اخلاقی سبق ہے تو وہ یہ کہ سائنسدان خود جیسے بھی ہوں، سائنس پھر بھی ترقی کرتی رہتی ہے۔ البرٹ سکاٹز جیسے ہزارہا ہیرو ہیں جن کی مدد سے ہر اگلی نسل کے ساتھ ساتھ ہم خود کو زیادہ باعلم بھی ہو رہے ہیں اور قدرت کے حملوں سے نپٹنے کیلئے بہتر ہتھیاروں سے لیس بھی ہو رہے ہیں۔ اور اپنی اس ترقی کا واضح ثبوت ہمیں دنیا بھر میں بڑھتی اوسط عمر میں بھی ملتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساتھ لگی تصویر البرٹ سکاٹز کی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

البرٹ سکاٹز کی دریافت
http://www.bioline.org.br/request?ac93005

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply