پشتون سپرنگ (Pushtoon Spring )اور منظور پشتون/تحریر-رشید یوسفزئی

تیونس کے ایک پھیری والے کی خود سوزی سے شروع ہونے والا احتجاجی مظاہرہ، جسے بعد میں عرب سپرنگ کا نام دیا گیا۔ کون جانتا تھا کہ ہفتوں کے اندر اندر ساری عرب دنیا میں حکومت خلاف مظاہروں ،مزاحمت اور مسلح حملوں کی شکل   اختیار کرکے پھیل جائے گا۔ ابتداء میں دنیا بھر کے اخبارات میڈیا اور وہاں کی حکومتوں نے اس صورت حال کو علاقائی ناراضی اور وقتی انتشار سمجھ کر درخور اعتنا ء نہیں سمجھا۔ کیونکہ عموماً ہر تحریک کا کوئی مرکزی رہنما ہوتا ہے اور یہ مزاحمتی اور احتجاجی تحریک بغیر کسی سیاسی اور مزاحمتی لیڈر کے شروع ہوئی تھی اس لیے سماجیات اور سیاسیات کے تجزیہ نگار بھی اسے ایک معمولی انتشار سمجھ بیٹھے۔ لیکن یہ عوامی احتجاج جس طرح پرانی احتجاجی تحاریک جیسی نہیں نکلی، ویسے ہی ان کی لیڈر شپ بھی سٹیریو ٹائپ نہیں تھی۔

سوشل میڈیا نے  عرب دنیا میں پھیلی ہوئی بے چینی، سرکاری کرپشن، خاندانی حکمرانی اور انکی بے حسی، خوف اور اس کی وجہ سے ظہور پذیر ہونے والے سماجی محرکات سے بےخبری نے اس احتجاج کو منظم کیا تھا۔ اس احتجاجی تحریک کی لیڈرشپ کے  ناپید ہونے  کی وجہ سے یہ اپنی نوعیت کی انوکھی تحریک تھی۔ جب سارے لوگ سڑکوں پر تھے، جب اہم چوک اور چوراہے بند تھے، جب حکمرانوں کے ہاتھ پیر اور فوج کی بندوقوں کے چیمبر یکساں پھولے ہوئے تھے لیکن کسی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔

تاریخ میں اس طرح کی اجتماعی مزاحمت کی مثال پختون قبائلی علاقوں میں 1897 سے 1898 کے درمیان برطانوی استبداد کے خلاف غر مداخیل میں جو درویش خیل وزیروں کے ذیلی شاخ مداخیل قبیلے کے علاقے میزر میں اس وقت شروع ہوئی جب ٹوچی ویلی کے سینئر برطانوی پولیٹیکل آفیسر ہربرٹ گی نے وہاں پر حفاظتی پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی۔ یہاں سے مزاحمت جنگل کی آگ کی طرح وزیرستان سے کرم اورکزئی خیبر مہمند سے ہوتی ہوئی باجوڑ دیر اور ملاکنڈ تک پھیل گئی۔ شاید یہ اپنی نوعیت کے  لحاظ سے واحد مزاحمت تھی جس میں ایک طرف غلام ہندوستانی فوجیوں نے جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ وکٹوریا کراس کے تمغے جیتے تو دوسری طرف سب سے زیادہ انگریز مالکوں نے جانیں گنوائیں۔

آج کل وہی صورت حال ایک بار پھر انہی سابقہ فاٹا کے قبائلی علاقوں میں ظہور پذیر ہوچکی ہے، جو عرب سپرنگ Arab Spring کے نام سے عرب ممالک میں اٹھی اور جس کی تاریخی مثال پختون قبائلی بغاوت کے نام سے برطانوی تاریخ نویس مارک سمنر Mark Simner کی کتاب Pushtoon Rising میں موجود ہے۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان خیبر اور اورکزئی، کرم اور مہمند باجوڑ دیر اور سوات بیک وقت ریاستی جنگی پالیسی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی کے خلاف ایک ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ قبائلی عوام دھرنوں احتجاجوں اور لاشوں کے ساتھ مظاہروں میں نکل کر بیٹھی ہے۔ روایتی پختون قوم پرست لیڈرز اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنا کر طاقت کے مراکز کی طرف منہ کرکے نیت باندھے منقبت و مناجات میں مصروف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کرائے پر رکھے ہوئے بیروزگاروں کے ذریعے کیے گئے ایک ٹویٹ یا ایک پوسٹ سے انہوں نے خود کو پختون مسائل سے مبراء کردیا ہے۔ لیکن ریاست کی پالیسیاں بنانے والے اور باپ دادا کے نام پر پشتون سیاست کرنے والے دونوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے یہ الارمنگ صورت حال ہے کہ مصیبت میں مبتلا عوام کو اب کسی خان نواب یا قبائلی سردار کی لیڈرشپ کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ وہ ہفتوں سے بغیر کسی مرکزی لیڈر کے دن رات دھرنے میں بیٹھے اپنے صبر اور حکومتی بے حسی کا امتحان لے رہے ہیں۔

جغرافیائی جبر کی پیداوار اور وقت کی بانہوں میں جواں ہوتے منظور پشتین نے آج ایک بار پھر ثابت کردیا کہ وہ واحد پختون لیڈر ہے جسے نا  صرف یہ کہ پختون قوم کی تکالیف کا احساس ہے بلکہ اس کے پاس ان کے مسائل کا حل بھی موجود ہے۔ جس دردمندی اور خلوص کے ساتھ پختون امن جرگے پشاور میں اس نے پشتون مسائل، مصائب اور ان کے حل پر مشتمل اپنا مافی الضمیر روایتی تقریر بازوں اور جرگہ جرگہ کھیلنے والوں کے سامنے بیان کیا ،وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ آج باجوڑ دھرنے میں جاتے ہوئے جس طرح جبر کے ہرکاروں نے جگہ جگہ اس کا راستہ روکا اس سے زیادہ ہر گاؤں ہر قصبے اور ہر علاقے کے لوگوں نے اس کا والہانہ استقبال کرکے ثابت کیا کہ وہ اس وقت واحد جرات مند اور دانشمند پختون لیڈر ہے جس کو پارلیمنٹ کی  مراعات سے زیادہ پختونوں کی محبت اور ذاتی نام و نمود سے قوم کے مصائب کی فکر ہے۔ اس نے آج اس سرکاری پالیسی کو باجوڑ پہنچ کر ننگا کیا جس کی وجہ سے امن مانگنے والوں کو ان علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی جہاں پر امن دشمن دندناتے پھرتے ہیں۔

محض ایک پارلیمانی سیٹ کیلئے منظور کو بیچنے والے پلاسٹکی انقلابیوں اور ذاتی مفادات کیلئے منظور کا ساتھ دینے والے کیبورڈ واریئر کے جدا ہونا سمجھا گیا تھا کہ منظور نامنظور ہوگیا ہے، لیکن اس کی جرات دانش اور عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی فطری صلاحیت نے ایسا سوچنے والوں کے منہ پر آج پختونوں کے جذباتی اور محبتوں بھرے استقبال نے تاریخی طمانچہ ثبت کردیا ہے۔ منظور ختم نہیں ہوا منظور کی تحریک کا وہ دور ختم ہوا جب مفاد پرست اس کے دائیں بائیں بیٹھ کر مخلص کارکنوں کو اس سے بدظن کرتے تھے۔ میری بات کا یقین نہیں آتا تو ہر پھاٹک پر منظور کو حکومتی کارندوں سے چھڑانے والے  ہجوم کو دیکھیں اور اس کشاکش کے بعد گرمی سے بدحال منظور پشتین کو وہاں کے عمر رسیدہ بزرگ جس طرح اپنے دامنوں سے پنکھے جھل کر ہوا دے رہے تھے ان مناظر کی مثال ڈھونڈیں، تو آپ کو نظر آجائے گا کہ یہ پختون مہمانداری یا صرف محبت نہیں یہ خالص عقیدت ہے۔ یہ منظور پشتون کی بے لوث محبت کا عوامی اعتراف اور اقرار ہے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے کہ جب عوام کا پسینہ بہہ رہا ہو تو وہ اپنا خون جلا کر روشنی کرتا ہے۔ جب قوم بے بس ہوکر مایوس ہوجاتی ہے تو وہ امید بن کر اٹھتا ہے جب محاصرہ طویل ہو جاتا ہے تو وہ دشمن کی  خندقوں کے نیچے سرنگیں بناکر متبادل راستہ بناتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

تاریخ عرب سپرنگ کس ہستی کے نام سے یاد کرے گی یا 1897 کی پختون مزاحمت کا سہرا کس کے سر باندھے گی؟ مجھے معلوم نہیں، لیکن منظور اسی طرح عوامی مزاحمت کو نئی توانائی اور جذبہ مہیا کرے گا تو مجھے پکا یقین ہے کہ وزیرستان سے سوات تک برپا ہوتی ہوئی اس مزاحمتی تحریک کو تاریخ منظور پشتون بہار یا پشتون سپرنگ کے نام سے یاد کرے گی۔

Facebook Comments

رشید یوسفزئی
عربی، فارسی، انگریزی ، فرنچ زبان و ادب سے واقفیت رکھنے والے پشتون انٹلکچول اور نقاد رشید یوسفزئی کم عمری سے مختلف اخبارات، رسائل و جرائد میں مذہب، تاریخ، فلسفہ ، ادب و سماجیات پر لکھتے آئے ہیں۔ حفظِ قرآن و درس نظامی کے ساتھ انگریزی اور فرنچ زبان و ادب کے باقاعدہ طالب علم رہے ہیں۔ اپنی وسعتِ مطالعہ اور بے باک اندازِ تحریر کی وجہ سے سوشل میڈیا ، دنیائے درس و تدریس اور خصوصا ًاکیڈیمیا کے پشتون طلباء میں بے مثال مقبولیت رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پشتون سپرنگ (Pushtoon Spring )اور منظور پشتون/تحریر-رشید یوسفزئی

  1. براوُ رشید صاحب اس وزیری کی جانب سے بابائے وزیرستان کا خطاب قبول کیجیے گا ، ایک وزیرستانی ہونے کے ناطے جو تاریخ دنیا پر مجھے آشکار دینی چاھیے تھی اس کا اس وزیرستانی کو خبر تک نہیں ، یہ آپ کا ہم وزیرستانیوں پر بڑا احسان ہے کہ آپ ہماری تاریخ کے گمشدہ ابواب کو پھر سے ہمارے اجتماعی حافظے کا حصہ بنا رہے ہیں ۔ آپ کا قلم یوں ہی رواں دواں رہے ، ہماری دعائیں نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں ۔

Leave a Reply