رب کعبہ کے حضور

رب کعبہ کے حضور
معاویہ حسن
ایک دفعہ پھر میرے رب نے مجھ پر کرم کیا اور اپنے گھر کی حاضری کی سعادت نصیب فرمائی. بے شک یہ اس کا کرم ہی تھا ورنہ کہاں مجھ سا عاصی و گناہ گار اور کہاں اس کا مقدس و مطہر گھر. کہاں وہ پاکیزہ سفر اور کہاں مجھ سا غلیظ مسافر. کہاں میری خطائیں اور کہاں اس کی عطائیں. کچھ بھی تو مماثلت نہیں ۔لیکن ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا اپنی کرم نوازیاں کرتا آرہا ہے. سو اس دفعہ بھی بلاوا آیا اور خوب آیا۔ یہ دکھیارہ اور مصیبت زدہ مسلمان آخر جائے بھی تو کہاں؟ کس کو اپنے دکھڑے سنائے؟ کس سے فریاد کرے؟
دنیا بھر میں پھیلی ظلمت و تاریکی کے ستائے ہوؤں کی جائے پناہ یہی مرکز رشدوہدایت ہی تو ہے. دو چادروں کے لباس میں یہ فرزند آدم دراصل اس سبق کو دھرانے جاتا ہے جس کے متعین وقت کو کوئی ذی بشر نہیں جانتا لیکن اس وقت بھی یہ ایسے ہی اِس حیات عالم سے عالم آخرت کا راہی بنے گا۔حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں۔
زبان تو ایسے ہی رٹے رٹائے جملے کا ورد کررہی ہوتی ہے، لیکن اصل میں یہ اقرار ہوتا ہے کہ “اے میرے خالق و مالک، بے شک میں نے ایسی ہی حالت میں تیرے پاس حاضر ہونا ہے. میرے احرام کی طرح ہی میرا کفن ہوگا، آج تو میں اس بات پر قادر ہوں کہ اپنی زبان سے باآواز بلند تجھے پکاروں لیکن جب میں کفن اوھے ہونگا تومیری زبان خاموش ہوگی۔
بیت اللہ دیکھنے کو تو ایک گھر ہی ہے لیکن اللہ جانے اس کے اندر کیا مقناطیسیت ہے کہ فرزندان توحید کھنچے چلے آتے ہیں. سفری صعوبتیں، مسائل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد بھی بیت اللہ کو چھو لینے کا شوق بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔قربان اس خانہ خدا کی عظمت و رفعت پر کہ جس کے گرد چکر پر چکر لگاتے جاؤ، سوال ہی نہیں کہ جی بھر جائے. کوئی چل رہا ہے، کوئی بھاگ رہا ہے،کوئی احرام کی دوچادریں اوڑے مالک الملک کو پکار رہا ہے تو کوئی عام کپڑوں میں پھیروں پہ پھیرے لیے جارہا ہے۔
ایک عاشق تو اکثروقت مجھے بیت اللہ کے گرد ہی چکر لگاتا نظر آیا. چلنے سے معذور اس بندہ خدا کی غیرت کو گوارا نہ تھا کہ وہ طواف کے لیے کسی سہارے کا محتاج بنے. اس لیے مرکز توحید کے گرد وہ رینگ رینگ کر چکر لگاتا رہتا. سعی کے دوران بھی ایک پاؤں سے معذور بزرگ لنگڑا کر چلتے سعی کرتے نظر آئے ، جہاں تندرست و توانا اشخاص ویل چیئر پر سعی کررہے تھے وہاں اس طرح کے لوگ حقیقی معنوں میں رحمت خداوندی کے مستحق نظر آتے ہیں. ایسوں کی وجہ سے ہی ہوسکتا ہے باقیوں پر بھی رحمت کے چھینٹے پڑ جائیں۔
دوران طواف اس دفعہ میری نظریں اس بابے کو ڈھونڈتی رہی جو ہر دفعہ بیت اللہ کےگرد چکر لگاتا ملتا تھا. انتہائی کمزور، سرجھکا ہوا، پرانے کپڑے، سر پر عمامہ رکھے یہ عاشق تواضع و خاکساری کا مکمل نمونہ تھا جو ایک مشین کی طرح بیت اللہ کے گرد گھومتا رہتا. نہ جانے کیوں اس دفعہ وہ مجھے نظر نہ آیا. اس مرکز توحید کے گرد چکر لگاتا ہر شخص ہی عشق و محبت کی ایک داستان نظر آتا ہے۔
انسانیت کا خودساختہ درس دیتے نام نہاد ٹارزن کیا جانیں کہ حقوق انسانی کس بلا کا نام ہے. یہاں تو حقوق سے بڑھ کرمحبت و شفقت کی ایک سے ایک بڑی مثال ملتی ہے. ہوٹل سے حرم آتے ہوئے ہماری بس والے کو چار آدمی حالت احرام میں بیت اللہ کی طرف جاتے نظر آئے تو اس نے بغیر کہے بس روک لی اور ان کو سوار کرلیا. بغیر کرایہ لیے جب اس نے حرم مکی کے پاس اتارا تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آئے. اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرنے والوں کو جب یوم جزا ان کے احسانات کا بدلہ ملے گا تو شاید تب ہی ان کو اندازہ ہو کہ یہ کتنی بڑی نیکی تھی. مطاف میں بھی ہر وقت کوئی نہ کوئی چیز دینے پر اسرار کرتا نظر آتا ہے. کوئی کھجوریں تقسیم کررہا ہے، کوئی زمزم کی بوتلیں اٹھائے پانی پلارہا ہے. الغرض ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالنے میں مصروف ہے۔
طواف کرتے وقت تو حالت ایک ایسے مضطرب بچے جیسی ہوتی ہے جس کو ایک طویل وقت کے بعد ماں کا سایہ نصیب ہوتا ہے۔اللہ اللہ اس سکون اور اطمینان کے بھی کیا کہنے جو زیارت بیت اللہ سے حاصل ہوتا یا پھر کتاب لاریب کی تلاوت سے میسر آتا ہے. بے شک مکہ مکرمہ میں اللہ رب العزت کی جلالت ہے، لیکن اس جلالت میں بھی ایک پیار، ایک لاڈ اور بلکتی سسکتی خلقت کو جائے پناہ محسوس ہوتی ہے۔مکہ مکرمہ سے نکلتے ہوئے دل اداس اور آنکھیں غمگین تھیں لیکن جب یہ خیال آیا کہ یہاں سے اگلی منزل ارض طیبہ ہے جہاں آقا مدنی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم آرام فرما ہیں تو دل بلیوں اچھلنے لگا. ارحم الراحمين کے دربار سے رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے دربار کی طرف سفر سے ایسے محسوس ہورہا تھا جیسے زمانوں کامسافر اپنی کھوئی دولت پانے کے بعد واپس منزل کو جاتا ہے. دعا ہے کہ اللہ پاک ہر طلبگار کو حرمین شریفین کی باربار حاضری نصیب فرمائے۔ آمین

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *