پاکستانیت کو بطورِ نظریہ پروان چڑهانے کی ضرورت ہے

میں سمجھتا ہوں اس ملک میں عظیم لوگ بہت اعلی نظریات کے علمبردار ہیں. انکے نظریات کو بنیاد بنا کر معاشروں کی تشکیل نوکی جا سکتی ہے. بس ضروری امر یہ ہے کہ ایسے تمام نظریات میں پاکستان کی بقاء اور اسکے وجود کو اٹل حقیقت کے طور پر پیش کیا جائے اور '' پاکستانیت '' کو نظریاتی سرحدوں کا مرکز سمجھا جائے.
تمام تلخ تاریخی حقائق اور نظریاتی مباحث کو طوالت دینے کی بجائے تمام انقلابی یا اصلاحی تحریکات کو '' پاکستانیت '' پر منطبق کرنا چاہئیے. ایسے مباحث سے فائدہ تو کچھ نہیں البتہ مایوسی، شکستگی اور ابہام ضرور جنم لے رہاہے. اپنی آنی والی نسلوں کو تاریخی حقائق میں الجھا کر انکی توانائی صرف کرکے ہم تعمیری کام سے قبل ہی تھکاوٹ سے چور کر رہے ہیں. اپنی تاریخ پر شرمندہ نسلیں انقلابی تحریک کی روحِ رواں تو درکنار جدجہد کے راستے کی دهول میں ہی تھک ہار کر لوٹ جائیں گی. انقلابی یا اصلاحی تحریکیں توانائی بخش ہوا کرتی ہیں نہ کہ مایوس کن اور رنجیدہ خاطر. ازبس ضروری ہے کہ ہر قسم کی انقلابی اوراصلاحی نظریات کی پاکستانیت کی بنیاد پر ترتیب ِ نو کی جائے.

Avatar
شہزاد خان
میں ایگ جیتا جاگتا انسان ہوں، ایک گنہگار مسلمان اور اس عظیم ہستی کا ادنا سا بندہ ہوں، بحیثیتِ شہری پاکستانی ہوں: اسکے علاوہ میری کوئی نسلی، گروہی، لسانی شناخت قابلِ ذکر و بیان و افتخار نہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *