• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سلسلہ ہائے اہلِ بیت رسول اللہﷺ/ہماری مائیں(گلدستہ اہلِ بیت کا تیسرا نمایاں پھول)/حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنھا (1)۔۔محمد جمیل آصف

سلسلہ ہائے اہلِ بیت رسول اللہﷺ/ہماری مائیں(گلدستہ اہلِ بیت کا تیسرا نمایاں پھول)/حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنھا (1)۔۔محمد جمیل آصف

گلدستہ اہل بیت کے معطر نمایاں پھولوں میں ہماری تیسری ماں حضرت اماں    عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں جن کی گلدستہ اہلبیت میں شمولیت سے بنی نوع انسان کے ہر طبقے کو بالعموم اور خواتین کو بالخصوص بہت فائدہ ہوا ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چشمہ ہدایت و علم و فضل سے تشنگان علم رہتی دنیا تک فیض یاب ہوتے رہیں گے   ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا گلدستہ  اہلبیت کا وہ خوبصورت  پھول ہیں جن کی خوشبو سے طبقہ نسوانیت معطر ہوئی ۔ ان کا دور جہالت میں جو بدبودار مقام بطور ایک خاتون مختلف رشتوں کے رائج تھا اور وہ ایک انسان ہونے کے باوجود جانوروں سے بھی گئی  گزری حالت میں تھی، اس معاشرتی جہالت پر مبنی سوچ کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے کردار، فہم، اپنی ازدواجی زندگی اور دانش مندی سے زمین بوس کردیا ۔ عورت کے مقام کو خاک سے اٹھا کر اوج ثریا کی بلندی عطا کی ۔
اس کردار کی اہمیت کا اندازہ آپ اس حدیث مبارکہ سے لگا لیں۔ جس کا ذکر مختلف احادیث کی کتب میں آیا ہے ۔
سیرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ  عنہا میں سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں ۔
“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اہل بیت۔”

ہمارے برصغیر کے معاشرے میں جب بھی اہل بیت کی بات کی جائے تو ایک طبقہ کے پروپیگنڈہ کی وجہ سے  اہلبیت کا  تصور صرف خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہراء و حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاندان تک ہی محدود رہتا ہے ۔ جن کا اہل بیت ثابت ہونا احادیث صحیح سے ثابت ہے ۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

قرآن مجید کی تعلیمات کی روح سے  حقیقی اہلبیت کی مخاطب ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔جن کی تشریح سورہ احزاب میں اللہ نے بیان فرما دی ۔
اہلبیت کی تشریح اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اہمیت میں سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں ۔
“مقصد یہ کہ کتاب الہی گو اپنی سہولتِ بیان کے لحاظ سے ہر عملی مثال سے بے نیاز ہے، تاہم دنیا میں ہمیشہ ایسے اشخاص کی ضرورت رہے گی ، جو اس کے اسرار و رموز کو حل کرسکیں اور ان کی عملی و علمی تعبیر بتا سکیں ۔ آپ کے بعد ان اشخاص کو آپ کے  اہلبیت میں تلاش کرنا چاہیے” ۔ (سیرت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سید سلیمان ندوی)

اہل بیت کی اس اوپر بیان کردہ حدیث کی مزید تشریح میں سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ اپنی کتاب سیرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں لکھتے ہیں ۔

“اس قدر شناسی کے لحاظ سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بابت فرماتے تھے ۔ اس صحبت و تعلیم کی بنا پر جو ان کو میسر تھی اور اس فطری جوہر اور صلاحیت کے لحاظ سے جو قدرت کامل نے ان کو عطا کی تھی اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ  اہلبیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت  عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خاص مرتبہ حاصل تھا، اسی بنا پر کتاب اللہ کا ترجمان، سنت رسول اللہ صلی  اللہ علیہ و سلم کا منبع اور احکام اسلامی کا معلم، ان سے بہتر کون ہوسکتا تھا؟ اور لوگ پیغمبر کو جلوت میں دیکھتے تھے، اور یہ خلوت اور جلوت دونوں میں دیکھتی تھیں ”

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ذریعے خواتین عالم کی تربیت کا اہتمام بھی اس نکاح کی منشا و مقصود میں نظر آتی ہے ۔ چنانچہ اللہ رب العزت کی طرف سے اپنے نظام غیب کی بدولت اس کی راہ ہموار ہوئی ۔

یہ وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حرم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہونے کی خوش خبری دی گی ۔

صحیح بخاری مناقب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا میں اس خواب کا ذکر کچھ اس طرح ہے

” نکاح سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر کوئی چیز پیش کر رہا ہے پوچھا کیا ہے؟ جواب دیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھول کر دیکھا تو عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں”
مشکوٰۃ میں کچھ اس طرح آتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

” تم تین رات مجھے خواب میں دکھائی  گئی تھی، تمہیں فرشتہ ریشمی کپڑوں میں لاتا تھا مجھ سے کہتا تھا کہ تمھاری بیوی ہیں ۔ ”
جاری ہے ۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply