ہم کیا چاہتے ہیں

آخر تم چاہتے کیا ہو؟ یہ وہ سوال ہے جو عموماً ہم سے پوچھا جاتا ہے اور لوگ حق بجانب ہیں یہ پوچھنے میں کہ آخر ہم چاہتے کیا ہیں، ہم اُن کے حق کا احترام کرتے ہیں، ہم جو چاہتے ہیں، ہمارے اساتذہ و مربین بارہا لوگوں کو تحریر و تقریر کے ذریعے اور اپنی سماجی و سیاسی جدوجہد کے ذریعے بتا چکے ہیں۔ چونکہ عام لوگوں کی اکثریت فلسفیانہ اصطلاحوں، سیاسی منطق اور سماجی سائنس کی بھاری بھر کم بحثوں سے خوف کھاتی ہے، اِس لیے ہر بار عام لوگ یہی سادہ سوال کرتے ہیں کہ آخر تم چاہتے کیا ہو؟ ہر قسم کی خالص فلسفیانہ گفتگو اور سائنسی دلیل بازی کے ساتھ ساتھ ہماری ذمہ داری یہ بھی بنتی ہے کہ ہم سادہ گفتگو کرتے ہوئے عام جنتا اور محنت کش طبقے کو سادہ سوال کا سادہ جواب دیں کہ آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟۔۔۔۔۔ہم سب سے پہلے ایک انقلابی پارٹی بنانا چاہتے ہیں، ہماری نظر میں ایک انقلابی پارٹی صرف اور صرف تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہے جس کا ایک نام ہو، ایک مخصوص جھنڈا ہو اور کچھ افراد جمع ہو جائیں یا ہم ایک منشور دے کر سیاست بازی اور الیکشن میں حصہ لینے لگیں، ہمارے لئے ایک انقلابی پارٹی طریقہ کار، نظریات، نظریاتی تربیت، نظریاتی روایات اور تنظیمی ڈھانچے کا مجموعہ ہوتی ہے، انقلابی پارٹی کا مقصد نظریات کو محنت کش طبقے اور سماج کے دوسرے تمام تر طبقات تک پہنچانا ہوتا ہے۔
ہم جِس انقلابی پارٹی کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں وہ اپنے لائحہ عمل اور طریقہ کار کو محنت کشوں کی ماضی میں کی گئی جدوجہد سے حاصل کردہ تجربات سے طے کرتی ہے، ہماری مجوزہ انقلابی پارٹی میں پارٹی کے ارکان کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے، اِس لیے ہم انقلابی پارٹی کے ارکان کی تنظیمی اور نظریاتی تربیت پہ بہت زور دیتے ہیں۔تبدیلی اور انقلاب کا لمحہ مخصوص ہوتا ہے اور بہت محدود ہوتا ہے، ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ محنت کش اور عوام ہر وقت انقلابی کیفیت میں ہوں، بلکہ محنت کش تو زیادہ عرصے کے لئے انقلابی کیفیت میں نہیں رہ سکتے، لہذا انقلاب کے محدود وقت میں ہی درست اور مناسب فیصلے لینے ہوتے ہیں، انقلاب کے دوران معمولی غلطیاں بھی بڑے بھیانک نتائج سامنے لا سکتی ہیں اور ایسا بھی نہیں کہ اُدھر انقلاب کا عمل شروع ہو اور اِدھر ہم فوراً ایک پارٹی کھڑی کر دیں، لہذا ایک انقلابی پارٹی مُسلسل تنظیمی اور نظریاتی بنیادوں پہ کارکنوں کی تربیت جاری رکھے ہوتی ہے اور اِن نظریات کو محبت کش طبقے تک پہنچاتی رہتی ہے، پھر وہ انقلاب اور تبدیلی کا وقت آن پہنچتا ہے، انقلابی پارٹی کے تربیت یافتہ ارکان اور محنت کش باہم ہو جاتے ہیں،پارٹی انقلاب کو درست سمت مہیا کرتی ہے۔
ہم جس تبدیلی اور انقلاب کی بات کرتے ہیں اُس کے نتائج کیا ہوں گے؟ وہ تبدیلی کیا ہو گی؟ دراصل ہم ایک بالکل مختلف نظام چاہتے ہیں. ہم اُس نئے نظام کے تحت صنعتوں، زرعی زمینوں اور پیداوار کے دوسرے تمام ذرائع پر چند افراد یا سرمایہ داروں کی ملکیت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں، کاشتکاری اور صنعتی عمل کو پورے سماج کی اجتماعی منصوبہ بندی سے چلانا چاہتے ہیں، کاشتکاری اور صنعتی عمل میں تمام سماج کو بلاتخصیص اور بلاامتیاز شریک کرنا چاہتے ہیں، جس کے نتیجے میں مقابلے بازی کا رجحان مکمل طور پر ختم کرنا چاہتے ہیں، زرعی اراضی اور صنعتوں کی نجی ملکیت سے مقابلے بازی کا رجحان پیدا ہوتا ہے، اور سب سے خطرناک یہ کہ ہوس، لالچ اور چند لوگوں کے مقابلے میں عوام کی اکثریت کا استحصال ہوتا ہے، ہم نجی ملکیت کا خاتمہ اِس لیے کرنا چاہتے ہیں تاکہ زرعی اور صنعتی پیداوار سماج کی باہمی مشاورت سے خرچ کی جائے،چند لوگوں کی تجوریوں کو بھرنے کی بجائے سماج کی مساوی ترقی ہو۔اب چونکہ زرعی ذرائع پیداوار اور صنعتی ذرائع پیداوار چند جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی ملکیت ہیں، اِس لیے زرعی پیداوار اور صنعتی پیداوار اُنہی چند مالکان کی ملکیت ہوتی ہے جبکہ کسانوں اور صنعتی محنت کشوں کو اُ ن کی محنت کے عوض اِتنی اجرت دی جاتی ہے کہ وہ بمشکل زندگی کی سانسوں کو برقرار رکھ پاتے ہیں۔ آج کل تو یہ اجرت مزید کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے فاقہ کشی، بیماریاں اور خودکشی کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
لیکن اگر اِن ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کا خاتمہ ہو جائے تو کسی جاگیردار و سرمایہ دار کی عدم موجودگی میں پیداوار کی سماجی ملکیت ممکن ہو جائے گی، سماج باہمی مشاورت سے طے کر لے گا کہ اِس پیداوار کو کہاں کہاں، کیسے کیسے اور کتنا کتنا خرچ کرے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہی وہ واحدقابلِ عمل طریقہ کار ہے جس کی بدولت موجودہ طبقاتی نظام ختم ہو سکتا ہے۔موجودہ معاشی نظام کے تحت سیاست و ریاست بھی سرمایہ داروں کی مرضی کے مطابق ہے، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ساری سیاست میں بظاہر ہر کسی کو شرکت کا برابر حق ہوتا ہے مگر حقیقت میں موجودہ سرمایہ دار جمہوریت میں صرف وہ لوگ حصہ لے سکتے ہیں جن کے پاس ڈھیروں پیسے اور دولت ہوتی ہے. اِس پہ مستزاد اِن سیاستدانوں کی کمپین میں ملٹی نیشنل کمپنیاں پیسہ لگاتی ہیں، مثلاً سابقہ امریکی صدر بُش کی الیکشن کمپین 2004 میں جن کمپنیوں نے 10 ملین ڈالر خرچ کئے، اُن کمپنیوں کو بُش نے تین ماہ میں مختلف قانونی طریقوں سے ٹیکس کی چھوٹ دلوائی جس کے ذریعے اُن کمپنیوں کو پانچ ارب ڈالر کا منافع ہوا۔ لہذا موجودہ جمہوریت سرمائے کی آمریت ہے۔
لیکن جب ذرائع پیداوار اور اُ ن کی پیداوار کی نجی ملکیت کا خاتمہ ہوگا، جیسا کہ ہم چاہتے ہیں، تو مالیاتی مفادات کیلئے کوئی بھی شخص ایوانِ اقتدار یا حکومت میں داخل نہ ہو پائے گا۔ تبدیلی یا انقلاب کے بعد حکومتی اہل کاروں اور کارکنوں کو ایک ہنر مند مزدور کی اجرت سے زیادہ تنخواہ بھی نہیں دی جائے گی یعنی آج کل کے حالات کے بالکل مختلف کہ منتخب شدہ اہل کاروں کی مراعات اُن کی تنخواہوں سے بھی تجاوز کر جاتی ہیں، نتیجتاً حکومتی اور ریاستی امور کو سرانجام دینے کے لئے وہ لوگ ہی سامنے آ سکیں گے جو مفادات کی بجائے واقعتاً کام کرنا چاہتے ہوں گے، اس لئے نہیں کہ اس کی وجہ سے انہیں اضافی فوائد اور مراعات حاصل ہوں گی ، یہ حقیقی معنوں میں جمہوریت ہو گی۔ محنت کش اور کسان اپنے میں سے ہی لوگوں کو چُن کر حکومتی اور ریاستی امور پر لگائیں گے اور واپس بلائیں گے۔موجودہ مالیاتی نظام ہی سماجی نظام کی وضع قطع کا تعین کرتا ہے،بےپناہ پیداوار کے انبار لگا دیئے گئے ہیں، خوراک، علاج، لباس، تعلیم اور رہائش وغیرہ کی سہولیات کی بےپناہ دستیابی کے باوجود لوگوں کی اکثریت اِن سہولیات کے استعمال کو سوچ بھی نہیں سکتی۔
اِن حالات میں سماج کے اندر ایک خطرناک بیماری” خود سے بیگانگی”،”سماج سے بیگانگی” اور”فطرت سے بیگانگی” میں اضافہ ہوا ہے، عدم اعتماد، عدم تحفظ، بیوفائی اور بےیقینی کو بڑھاوا ملا ہے لیکن جب مالیاتی انبار اور دولت کے ارتکاز کا خاتمہ ہو جائے گا تو روزمرہ کی سہولیات تک سب کو رسائی حاصل ہو جائے گی، نتیجتاً سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا بھی خاتمہ ممکن ہو جائے گا، جرائم کا خاتمہ بھی ممکن ہو جائے گا، بس یہی تو ہم چاہتے ہیں۔ آج کے عہد میں جنگیں، دہشت گردی اور مذہبی شدت پسندی کا آخری تجزیہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ مالیاتی مفادات ہی اِن عفریتوں کی وجہ ہیں.،حاکمینِ عالم کبھی بھی اِن عفریتوں کی شہ رگ نہیں کاٹیں گے کیونکہ اِس طرح اُن کی اپنی مالیاتی رگیں کٹنے کا احتمال ہے، لہذا دولت کی ہوس، منافع کی لالچ اور مالیاتی ارتکاز کی راہ روکنے سے ہی جنگوں اور دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے، اِسی طرح ہم ایک ایسے سماج کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں کہ جہاں لوگ اپنے رب کو جب اور جیسے مرضی پکارنا چاہیں، اُن کو آزادی ہو، اپنی مذہبی آزادی کی راہ میں کوئی فرد کوئی رکاوٹ محسوس نہ کرے۔۔ بس یہی ہم چاہتے ہیں!آسان الفاظ میں ہم کیمونزم کے ایجنڈے اور پروگرام کے تحت تمام قسم کےذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کا خاتمہ چاہتے ہیں، تاکہ دنیا بھر کی دولت اور وسائل کا چند لوگوں کے ہاتھوں میں ارتکاز کا خاتمہ ہو جائے اور دوسری طرف دنیا کی اکثریتی آبادی کو بھوک، ننگ، جہالت، جرائم، بیماریوں، جنگوں، دُکھوں اور مصیبتوں سے نجات حاصل ہو۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *