کسی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے۔۔عبدالرؤف خٹک

دوستو کی ایک محفل میں بر سبیل تذکرہ اچانک سے زبان کی بات چل نکلی تو ایک دوست جو بہت محترم ہیں ہمارے لیے ہم سے انھوں نے اچانک سے پشتو زبان میں کچھ کہا تو دوسرے ساتھی نے کہا کہ ہمیں بھی یہ زبان سیکھنی پڑے گی، اس محترم دوست نے کہا کہ اس زبان کو سیکھنا بہت مشکل ہے۔ کچھ ساتھی اور بھی موجود  تھے ،کہنے لگے  ،کیوں مشکل ہے یہ زبان سیکھنا؟ تو ان محترم دوست نے فرمایا کہ اس زبان  کے   اپنے  حروف تہجی نہیں ہیں ، جس کی وجہ سے سیکھنے میں پریشانی ہوتی ہے تو میں نے    پوچھا  کہ جناب حروف تہجی کیوں نہیں   ؟ پشتو زبان میں کتابیں موجود تو ہیں ۔

وہ مجھے سمجھانے لگے کہ پشتو لکھی تو جاتی ہے لیکن گرائمر کی رو سے قاعدہ نہیں ہے بقول ان کے ہم جو پشتو لکھتے پڑھتے ہیں وہ رومن لکھی جاتی ہے لیکن میں اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہ تھا اور بضد تھا کہ پشتو کا قاعدہ موجود ہے جس میں اعداد موجود ہیں اور اسی کی رو سے پشتو سیکھی اور سکھائی جاتی ہے ،لیکن افسوس میرے ساتھ دوسرے جو ساتھی موجود تھے وہ بار بار ایک ہی بات دہرا رہے تھے کہ پٹھان ہے نہیں مانے گا ،یعنی طنزیہ انداز میں مجھ پر پھبتی کس رہے تھے کہ میں پٹھان ہوں اس لیے بات کو سمجھ نہیں رہا ہوں ،

پھر میں سوچنے لگا  کہ دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو اختلاف رکھتے ہیں کئی باتوں سے اور اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں ،بڑے بڑے نامور سائنسدان گزرے ہیں جن کے فیصلوں کو آنے والے سائنسدانوں نے مات دی اور خود کو منواکر رہے لیکن اس جیت سے گزرے ہوئے سائنسدان کی تضحیک تو نہیں ہوئی ،اس طرح دنیا میں بہت سارے لوگ ہیں جو کسی نہ کسی چیز پر اختلاف رکھتے ہیں اور ضروری نہیں کہ دیکھی اور جانی ہوئی چیز پر ہی اختلاف ہو ،اختلاف اَن  دیکھی چیز پر بھی کیا جاسکتا ہے یعنی آپ  اپنی بات پر ثابت قدم رہیں    کہ ایسا نہیں ایسا ہوگا تو اسے اَن  دیکھا اختلاف کہا جاتا ہے ،اس میں بھی کسی نہ کسی کی جیت ہوہی جاتی ہے ۔لیکن کسی کی ہتک کرنا، شرمندہ کرنا، تضحیک کرنا وہ بھی قومیت کے حوالے سے ‘سوائے دل آزاری کے کچھ بھی نہیں۔

ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ میں کسی کو پنجابی کہہ کر یا مہاجر یا سندھی بلوچی یا کسی بھی زبان سے تعلق رکھنے والا ہو اسے اس کی شناخت سے نہیں پکار سکتا کیونکہ مجھے تو تضحیک نظر آتی ہے ،ہاں اس کا ایک خوبصورت سا نام ہے ،اس نام سے پکارو اسے تاکہ اس کا مان بڑھے ،میں اس بات  کےحق میں نہیں ہوں کہ کسی کو اس کی زات برادری کے حوالے سے پکارا جائے۔۔جیسے  خان صاحب،رانا صاحب،شیخ صاحب۔۔۔آخر انسان کا نام کس لیے  تجویز کیا جاتا ہے؟۔۔۔اس کی پہچان کے لیے نا۔۔تو پھر کیوں نہ اسے اس کی پہچان ،اس کے نام سے پکار کر عزت دی جائے۔

کوئی بھی قوم بیوقوف نہیں ہوتی ،فرد واحد کو تو بیوقوف گردانا جاسکتا ہے لیکن اقوام کبھی بیوقوف نہیں ہوا کرتیں،کیونکہ اقوام سے چلتا ہے ملت کا دھارا،لہذا کسی قوم کے لیے اگر آپ نے یہ خیال بن لیا ہے  کہ وہ بیوقوف ہے ،جلدی جذباتی ہوجاتے ہیں ،دوسرے کی بات کو سمجھ نہیں پاتے ،جلدی لڑنے مرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ،تو یہ عادات واطوار ہر قوم اور قبیلے میں پائے جاتے ہیں کسی خاص گروہ یا قبیلے ،قوم سے ان باتوں اور عادات کو جوڑنا    زیادتی ہوگی ،اور جس قوم کے بارے میں آج لوگ غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں وہ تاریخ اٹھا کر ضرور دیکھ اور پڑھ لیں ،ایک تو اس قوم کی تاریخ بہت پرانی ہے اور دوسرا اس کی تاریخ میں وہ نابغہ روزگار گزرے ہیں کہ اگر میں انھیں یہاں گننا شروع کردوں تو یہاں   جگہ کم پڑ جائے گی ،

ہندوستان اور پاکستان میں جتنی بھی بڑی بڑی بزرگ ہستیوں کے مزار ہیں ان سب کی اگر تاریخ پڑھی جائے تو ان سب کا تعلق انھیں اقوام اورقبیلوں سے ہوتا ہے،ہندوستان پر حکومت کرنے والے   اور حملہ آور ہونے والے یہی لوگ تھے ہندوستان کی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے یہی لوگ ہیں ،ادب اور مزاح کی دنیا میں اک چھوٹا سا شاہکار کتابچہ پطرس بخاری کے مضامین ،آج تک اس کتاب کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکا یعنی اس جیسا مزاح کوئی نہیں لکھ سکا ،اس شخص کا تعلق بھی اسی قوم سے تھا ،نوجوانوں کے دلوں پر راج کرنے والا شاعر احمد فراز وہ بھی اسی خمیر کا فرزند تھا ،دلیپ کمار ہو یا مدھوبالا ،رنگیلا ہو یا فردوس جمال یہ سب اسی علاقے کے خمیر سے اٹھے ہیں ۔

آپ جنگوں کی  تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں  ، آپ کو یہ قوم ضرور ملے گی غوری ہوں یا یوسف زئی ،خٹک ہوں یا لودھی ،خلجی ہوں یا غزنی یہ اسی قوم کے سپوت تھے،آج اس قوم کا مذاق بنایا جاتا ہے لطیفے سناۓ جاتے ہیں اور انھیں بیوقوف اور بغلول بنا کر پیش کیا جاتا ہے،جو کہ زیادتی کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ میرا یہاں سمجھانے کا مقصد دوسروں کی طرح کسی کی دلآزاری نہیں  بلکہ تمام گفتگو کا لب لباب یہ  ہے کہ کسی  مخصوص ذات برادری کی اتنی ہتک نہ کی جائے کہ وہ دل برداشتہ ہوجائے۔
آخر میں یہی کہوں گا کہ ہم سب ایک قوم ہیں ،ہم سب برابر ہیں اور سب سے بڑھ کر ہم مسلمان ہیں ،ہمارا مذہب ہمیں کسی کی دلآزاری کی اجازت نہیں دیتا۔ لہذا ہمیں مل جل کر اور محبت اور اخوت سے رہنا چاہیے   ۔

Khatak
مجھے لوگوں کو اپنی تعلیم سے متاثر نہیں کرنا بلکہ اپنے اخلاق اور اپنے روشن افکار سے لوگوں کے دل میں گھر کرنا ہے ۔یہ ہے سب سے بڑی خدمت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کسی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے۔۔عبدالرؤف خٹک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *