قومی مسائل اور اُن کا حل(1)۔۔ڈاکٹر ابرار ماجد

اصلاحات کے لئے تھنک ٹینک بنایا جائے۔

قومی سطح کا ایک تھنک ٹینک بنایا جانا چاہیے جس کے ممبران کو اچھی سوچ، علم، تجربہ، عمل، اخلاق اور شہرت کے حامل غیر جانبدار سیاست دانوں، ریٹائرڈ ججوں، فوجیوں، معاشی ماہرین، مذہبی سکالرز، سوشل ایکٹوسٹس اور بیورو کریٹس میں سے لیا جائے جن کو بذاتِ خود سیاست کے ساتھ رومانس کا شوق نہ ہو اور قومی سطح کا اعتماد رکھتے ہوں پھر انہیں ایک خاص ماحول اور تحفظ مہیا کیا جائے۔

ان تک رسائی کو محدود کر دیا جائے۔ اس تھنک ٹینک کے کسی بھی ممبر کو انفرادی طور پر کسی ادارے کے سربراہ سے ملاقات کی اجازت نہ ہو۔ ان کو تمام ضروری معلومات تک رسائی حاصل ہو۔ اس تھنک ٹینک کو وزیراعظم کے مشیران کا درجہ حاصل ہو اور ان کی سفارشات پر اداروں کی سربراہان کی تعیناتی کی جائے۔ اداروں کا سیاست کے ساتھ رومانس ختم کرنے کے لئے اصلاحات کی غرض سے یہ سفارشات طے کریں جس پر حکومت عمل کر کے ایسے اقدامات اٹھائے تاکہ اداروں کو حقیقی آئینی حدود میں رہنے اور کام کرنے کو عملی نمونہ بنایا جا سکے۔

اداروں کا سیاست کے ساتھ رومانس ختم ہونا چاہیے۔

پاکستان اگر حقیقی ترقی چاہتا ہے تو اداروں کا سیاست کے ساتھ رومانس ختم ہونا چاہیے بلکہ ان کو ریاست کے ساتھ حقیقی نکاح (معاہدے) کے اندر لانے کی ضرورت ہے جو ادارے اور ریاست کے درمیان آئینی حیثیت رکھتا ہے جس کا ہر ادارے کا سربراہ اختیار سنبھالنے سے پہلے حلف اٹھاتا ہے۔

اس کا آسان سا نسخہ ہے۔ جیسے ہی کسی ادارے کے سربراہ نے اپنے حلف سے روگردانی کی اس کا معاہدہ منسوخ ہو جاتا ہے اور جیسے ہی اس کا معاہدہ ختم ہوا اس کے اختیارات اور مراعات معطل ہو جانے چاہیں جس کے بارے فیصلہ تھنک ٹینک کی سفارشات پر ہوں۔ اس کے اندر ریٹائرڈ ملازمین اور سابقہ آئینی سربراہان جیسا کہ وزیراعظم اور صدور کو بھی شامل ہونا چاہیے۔ بڑھتی مہنگائی پر عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

سخت فیصلوں سے پہلے عوام کو اعتماد میں لینا ضروری تھا جو بطریق احسن نہیں کیا جا سکا جس سے عوام میں بد دلی بڑھتی جا رہی ہے۔ اب عوام کو حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ جناب وزیر خزانہ کو سابقہ حکومت کے ساتھ میڈیا کے سامنے ایک ڈیبیٹ رکھنی چاہیے جس میں تمام باتیں عوام کے سامنے رکھی جائیں اور اس میں سابق حکومت کا وزیر خزانہ بھی ہو جو اپنا مؤقف پیش کر سکے اور ساتھ فنانس سیکرٹری بھی ہو جو تمام تفصیلات سے آگاہ کرے۔

پھر اس ملک میں جو سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ہر آنے والا تمام تر مسائل کا سبب سابقہ حکومت کو ٹھہرا دیتا ہے اس کے سدِباب کے لئے غیر جانبدار معاشی ماہرین کو آبزور تعینات کیا جائے، جو حکومتی معاشی پالیسیوں پر نظر رکھیں اور عوام کو اس سے آگاہ کرتے رہیں کہ آیا حکومت کی پالیسیاں صحیح سمت میں جا رہی ہیں یا نہیں؟ اس سے یہ فائدہ بھی ہو گا کہ جو لوگ مہنگائی پر تحفظات رکھتے ہیں ان کو تسلی بخش حقائق سے آگاہی ہو گی اور عوام کا حکومت پر اعتماد بحال رہے گا۔

سیاست دانوں اور آئینی عہدوں کے سربراہان کے مقدمات کو آن لائن سٹریم پر چلنے چاہیں۔

سیاست دان حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں ان پر مقدمات آن لائن میڈیا سٹریم پر چلنے چاہیں۔ حکومت پر اس وقت جو سب سے بڑا الزام عائد کیا جا رہا ہے وہ ان کے مقدمات ہیں جو عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ ان کو بنیاد بنا کر ان کے مخالفین ان کی اہلیت پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ اس پر بھی ابزرورز تعینات کئے جائیں جو ان مقدمات کی کاروائی پر نظر رکھیں اور عوام کو آگاہ کرتے رہیں۔ جن عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں ان کو بھی چاہیے کہ وہ روزانہ کی بنیادوں پر کاروائی کر کے پہلے حکومتی عہدیداروں کے مقدمات کا فیصلہ کریں۔

کفایت شعاری اگر کرنی ہے تو فقط پٹرول کی مقدار کم کر دینا کافی نہیں بلکہ تمام سرکاری گاڑیوں کو جو انفرادی استعمال میں ہیں، کو نیلام کر کے الیکٹرک بائیک دئیے جائیں جن کو وہ خود چلا کر آیا کریں۔ جو اپنی گاڑی چلا کر دفاتر نہیں پہنچ سکتے انہوں نے ملک کو کیا چلانا ہے؟ وزیراعظم، وزراء اور اداروں کے سربراہان عملی نمونہ بنیں۔

ٹارگٹڈ سبسڈی پٹرول پر نہیں سکوٹر پر دی جائے، اس سبسڈی سے الیکٹرک بائیکس مہیا کئے جائیں جس میں ان کی رجسٹریشن کو ختم کر دیا جائے اور ان کی قیمتوں پر ٹیکس ختم کر دیا جائے۔ الیکٹرک بائیک اور چھوٹی الیکٹرک کاروں کی مینو فیکچرنگ اور انڈسٹری کو کچھ عرصہ کے لئے ٹیکس سے مستثنیٰ کرار دے دیا جائے۔ بڑے شہروں میں پٹرول والی موٹر سائیکلوں پر پابندی لگا دی جائے۔

مالیاتی اداروں سے جان چھڑانے کے لئے متبادل ذرائع کو دیکھنا ہوگا۔ مالیاتی اداروں سے جان چھڑانے کے لئے ان کی شرائط کو ماننے کی بجائے متبادل ذرائع کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بیرونی قرضوں کو اندرونی قرضوں میں تبدیل کرنے کا لائحہ عمل بنایا جائے۔ جیسا کہ پر کشش اسلامی بینکاری کی بنیاد پر پرائز بانڈ جاری کئے جائیں۔ کنوینشنل بینکاری کو اسلامی بینکاری میں تبدیل کیا جائے۔ ان سکیموں اور کفائت شعاری سے حاصل ہونے والے سرمائے کو اقساط کی ادائیگی اور خود کفالت کی سکیموں پر صرف کیا جائے۔

لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے تمام مارکیٹوں اور دفاتر کے اوقات کو صبح سے شام تک کے دوران محدود کر دینا چاہیے۔ اسی طرح تقریبات کو بھی انہیں اوقات کے درمیان پابند بنایا جائے۔

اداروں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اداروں اور ان کے عہدیداران پر کسی کی طرف سے الزامات لگائے جانے کی صورت میں تحقیقات حکومت کی ذمہ داری ہے۔ الزامات لگانے والے سے شواہد کا مطالبہ کیا جائے اور اگر غلط ثابت ہوں تو کاروائی کی جانی چاہیے۔

سیاسی جلسے جلوسوں پر پابندی لگا دینی چاہیے۔

جلسے جلوسوں پر پابندی لگائی جائے اور قومی سیاسی قائدین کو عوام سے مخاطب ہونے کے لئے حکومت منسٹری آف پریس اینڈ انفارمیشن کے تحت بندوبست کروائے۔ سیاسی بحث مباحثہ ہونا چاہیے تاکہ عوام حقائق کو سمجھ سکیں۔ عوام کے لئے ان کے حقوق آزادی اظہار رائے اور مطالبات کے لئے حکومت کے شعبہ اطلاعات میں آن لائن سپیس مہیا کیا جانا چاہیے۔ سیاسی قائدین کی تقاریر کو تھنک ٹینک کے غیر جانبدار آبزرورز کو دیکھنا چاہیے اور قانونی، آئینی یا اخلاقی اعتراضات کی صورت میں وارننگ دی جائے اگر باز نہ آئیں تو پابندی لگا دی جائے۔

ہر طرح کی تفریق کو ختم کرنا ہو گا۔

قومی خزانے سے تنخواہ اور مراعات لینے والے تمام افراد کے درمیاں تفریق کو ختم کرنا ہو گا خواہ ان کا تعلق کسی بھی شعبہ سے ہو۔ تاکہ مساوات قائم کر کے قومی سطح پر محرومی کو ختم کیا جا سکے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply