کمال فن

ہمارے بزرگوں نے کمال کی حکایات بیان کی ہیں۔

ایک حکایت میں ہے کہ تین صاحب کمال افراد جمع ہوئے اور وہاں ایک اجنبی ان کے گروہ میں شامل ہوا۔ ہر شخص کے پاس ایک کمال تھا، انھوں نے مل کر منصوبہ بنایا کہ شاہی خزانے کو لوٹا جائے۔ چنانچہ ان میں سے ہر شخص نے اپنا کمال دکھلایا اور شاہی خزانے میں سے ایک بڑا قیمتی حصہ لوٹ لیا۔ صرف اجنبی ہی ایسا شخص تھا جس نے اپنا کمال نہیں دکھلایا تھا۔ جب ان میں سے باقی تین لوگ پکڑے گئے تو انھوں نے آپس میں کہا کہ اجنبی نہیں پکڑا گیا۔ خیر وہ قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے اور اس نے ٹھوس شواہد کی بنا کر ان تینوں کو سزا سنا دی۔

اس زمانے میں قاضی کے فیصلے کے خلاف بادشاہ کے دربار میں اپیل ہوتی تھی۔ تینوں نے بادشاہ کے دربار میں اپنی سزا کے خلاف اپیل کی۔ جب وہ مقررہ تاریخ پر بادشاہ کے دربار میں پیش ہوئے تو انھوں نے بادشاہ کو پہچان لیا اور کہا کہ اے اجنبی ہم سب نے اپنا کمال دکھلایا، آپ کا کمال باقی ہے۔ بادشاہ ہنس پڑا اور ان سب کو معاف کردیا۔ حکایت لکھنے والے لکھتے ہیں جب بادشاہ خود خزانہ لوٹنے والے چوروں میں شامل ہو تو انھیں چور نہیں کہا جاتا بلکہ وہ اہل فن کا ایک ٹولہ ہوتا ہے جو چوری نہیں کرتا، اپنے کمال کا مظاہرہ کرتا ہے۔

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *