مرنے والے تو سب یوکرینی ہیں، لیکن
کوئی یہ بتائے کہ یہ آگ اس ملک میں
کس عدو نے لگائی۔۔۔کہ ہے کون جو
پھوس کے ڈھیر پرتیل
لحظہ بہ لحظ چھڑکتا چلا آ رہا ہے؟
مغربی طاقتوں نےیہ ترغیب دی ۔۔۔
ہاں ، چلے آؤ، پھاٹک
کھلا ہے ، تمہارے لیے
آؤ، “نیٹو “کے ممبر بنو
روس نے لاکھ روکا مگر
مغربی عیش و عشرت کا
بھوکا تھا یہ ملک ، ماضی میں جو
روس کا ایک حصہ ہی تھا
ہاں، یہی ایک بارود کا ڈھیر تھا
جس سے چنگاریاں
پہلے پھوٹیں، کہ اب
ہنستا بستاہوا
دیس اک راکھ کا ڈھیر ہے۔
آگ کیسے لگی؟ پوچھیے تو سہی!
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں