مشعال کیس،اب سبھی کو سبھی سےخطرہ ہے/عمران حیدر

ایک کے مقابلے میں 40 وکیل!
گزشتہ دنوں مشعال خان کے والد نے صوبائی حکومت کو درخواست دی تھی کہ وہ کیس پر اٹھنے والے اخراجات برداشت نہیں  کرسکتے لہٰذا ان کی مدد کی جائے’ جس کے بعد خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ایک وکیل کے اخراجات برداشت کرنے کا اعلان ہوا
جبکہ دوسری طرف 57 ملزمان کے 40 سے زائد وکلاء پیش ہورہے ہیں ۔
اس سے پہلے مشعال کے والد محمد اقبال خان سکیورٹی خدشات کے باعث اپنی بیٹیوں کو اسلام آباد  منتقل کرنے کی درخواست بھی دے چکے ہیں۔ ا ن کا کہنا تھا کہ کیس کی پیروی کے دوران اٹھنے والے اخراجات اور سکیورٹی خدشات کے باعث وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم جاری نہیں  رکھ سکتے لہذا حکومت ان کی مدد کرے مگر تاحال کوئی جواب نہیں  دیا گیا۔

سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ وفاقی و صوبائی حکومت کی دلچسپی بھی اس کیس میں ختم ہوچکی ہے۔مشعال کے والد محمد اقبال خان کی طرف سے بار بار سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے جسے سیریس نہیں  لیا جارہا ۔ گزشتہ ماہ ان کے گھر شدید سنگ باری ہوئی جس کے بعد رسمی کارروائی کی گئی مگر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں  اٹھائے گئے۔اب بھی بار بار عدالت میں ملزمان کی طرف سے گواہان کو ہراساں کیے جانے کی درخواست دی جاتی ہے ۔ عدالت مقامی تھانے کو احکامات جاری کرتی ہے اور کچھ دنوں بعد پھر کوئی نا کوئی واقعہ پیش آجاتا ہے۔

سکیورٹی خدشات کے باعث اس کیس کو مردان سے ہری پور منتقل کیا جاچکا ہے اور تشویش ناک خبر تو یہ ہے کہ سکیورٹی خدشات کے سبب ہی ایک معزز جج بھی اس کیس سے علیحدہ ہوچکے ہیں۔ایسی صورتحال میں اس کیس میں انصاف کی امید رکھنا دیوانے کا خواب ہی ہوسکتا ہے۔ مگر سلام ہے اس بوڑھے باپ پر جو کڑیل جوان بیٹے کے قتل سے لے کر آج تک ہر روز صبح 7 بجے کچہری پہنچ جاتا ہے۔سلام ہے ان بہنوں پر جو صبح سویرے باپ کے کپڑے استری کرکے ناشتہ کروا کے اس امید پر عدالت بھیجتی ہیں کہ ایک  نا ایک دن بھائی کے قاتلوں کو سزا ملے گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *