شادی کی تقریبات اور ہماری قدریں /رانا اورنگزیب

اس موضوع پر بہت لکھا جا چکا ہے بہت سے اہل علم نے اس پر بہت کچھ کہا مگر یہ موضوع ہمیشہ تشنہ ہی رہا ہے۔یہ ہر پاکستانی کا ذاتی مسئلہ ہے۔مگر اس پر بات کرنے کو کوئی  تیار نہیں۔ہم کیسے لوگ ہیں اپنے ہی مسائل پر بات کرتے شرماتے ہیں۔اپنا آپ جلا کر رسموں کو روشن رکھنے پر بضد ہیں۔دن رات رسم ورواج کو کوستے ہیں مگر چھوڑنے پر تیار نہیں۔صرف ناک بچانے کے لئے بقیہ سارا جسم دکھوں پریشانیوں کے حوالے کر دیتے ہیں ناک مگر پھر بھی نہ اونچی رہتی ہے نہ  ہی کٹنے سے بچتی ہے۔ انسانی زندگی کی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت نکاح ہے۔ نکاح اور رشتہ ازدواج کی رسم بنی نوع انسان کی بنیادی اور فطری ضرورت ہے۔ اسی لئے ہر طبقہ انسانی میں یہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اور تقریباً  دنیا کے تمام مذاہب نے اس کے لئے کچھ نہ کچھ دستور اور قوانین وضع کیے ہیں، لیکن تقریباً  سبھی نے اسے صرف ایک رسمی ضرورت اور تفریح سے زیادہ نہ تو سمجھا،نہ سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی اس کے دیرپا اور دور رس نظریہ کو پیش نظر رکھا۔
مگر اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے نکاح اور رشتہ ازدواج کے احکام کو نہ صرف بیان کیا بلکہ اسے ایک عبادت اورقرب الٰہی کے حصول کا ذریعہ بھی بنایا۔ غیروں کی طرح ہم نے بھی شادی کو تفریح اور رسم و رواج کا ذریعہ سمجھ لیا۔خوشی کی تقریبات و تفریحات کا اہتمام کرنا انسانی فطرت ہے اور ضرورت بھی، بلکہ ہمارے معاشرے میں لوگوں کو خوشیاں بہم پہنچانے والے لوازمات کی اب بھی شدید کمی محسوس ہوتی ہے، اسی طرح غم و الم کی رسومات نبھانا بھی معاشرتی زندگی کا حصہ ہے مگر خوشی یا شادی بیاہ وغیرہ اور موت مرگ کے سوگ و ثواب کے نام پر ایسی رسوم کو پروان چڑھاناکہ انھیں نبھانے سے انسان کی ذاتی و گھریلو زندگی عدم توازن یا بر بادی کا شکار ہو جائے کسی طور بھی پسند یدہ و لائق تحسین وتقلید عمل نہیں ہے۔ پاکستان میں مذہب اور معاشرت کے نام پر ایسے فضول رسم و رواج فروغ پا چکے ہیں جن پر بلا شبہ اربوں روپے ضائع ہو رہے ہیں اور بہت سی معاشرتی دشواریاں اور مسائل بھی جنم لے رہے ہیں ۔
شادی اگرچہ ایک اہم معاملہ یا فریضہ ہے مگر فضول رسم و رواج نے اسے ایسا مہنگا اور الجھا ہوا مسئلہ بنا دیا ہے کہ ایک عام آدمی اس سے نمٹنے کے بعد ساری زندگی بھاری قرض کے بوجھ تلے رہتا ہے اور یوں اس خوشگوار فریضے کو ناقابل برداشت بوجھ بنا دیا گیا ہے۔شادی کی تقریبات کا کئی دن جاری رہنا، بے شمار مہمانوں کو مدعو کرنا اور بیش قیمت و بیش بہا زیورات و ملبوسات تیار کروانا ایسا رواج بن گئے ہیں کہ سفید پوشی کا بھرم رکھتا انسان زندگی کا بیشتر حصہ شادی کے فرض کے قرض کی ادائیگی میں گزار دیتا ہے۔کچھ نو دولتیے اور اپنی شہرت کے بھوکے لوگ اپنی حیثیت کی نمائش کے لیے رقص وسرور  کی محفلیں سجانا شادی کا ایک اہم حصہ تصور کرتے ہیں ان کی دیکھا دیکھی یہ بیماری اب پورے پاکستانی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
اگر کسی کے پاس رقم کم ہے تو وہ شادی میں صرف فلمی گانوں کی ریکارڈنگ پر گزارا کرتا ہے اور جس کے پاس رقم کچھ زیادہ ہے تو وہ شادی کی بے حیائی سے بھرپور تقاریب کی مووی بھی بنواتا ہے اور اس سے زیادہ رقم والا بہت بڑے فنکشن کا اہتمام کرتا ہے جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں موسیقی کی دھنوں اور ڈھولک کے شور میں بے ڈھنکے پن سے ناچتے اور گاتے ہیں۔ تماشائی خوب اودھم مچاتے، بے ہودہ فقرے کستے، اس پر ہنستے، قہقہے لگاتے اور زور زور سے تالیاں اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ وڈیروں کے ڈیرے طوائف کے گھنگروؤں کی چھناچھن سے سجتے ہیں شرابیں پی  اور پلائی  جاتی ہیں۔بدمست شرابی نشے میں دھت ناچنے والیوں سے وہ سلوک کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔جبکہ نچلے درجے کے لوگ یہی شوق خواجہ سراؤں کو نچا کے پورا کر لیتے ہیں۔شرم وحیا اور غیرت سے عاری لوگ اپنے نوجوان بچوں کے سامنے یہ سب کرتے ہیں۔جبکہ کئی تقریبات جو مخلوط ہوتی ہیں وہاں عورتوں کی موجودگی کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا اور یہ فریضہ مونچھوں کو تاؤ  دیتے غیرت مند بھائی  ،بیٹے، باپ اور شوہر سر انجام دیتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ اس قسم کی حرکتوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ گویا شرم و حیاء بالکل ختم ہوچکی ہے۔
دوسری بڑی بیماری اور رسم اپنی بیٹیوں کو گراں قیمت جہیز دینا ہے۔دولت والے اپنی بیٹیوں کو قیمتی مہنگی اور ضروریات  ز ندگی کی ہر چیز اپنی بیٹیوں کو جہیز میں دیتے ہیں جن کی دیکھا دیکھی متوسط اور نچلے طبقے کے لوگ بھی اپنی ناک اونچی رکھنے کے لیے جہیز کا باقاعدہ بندوبست کرتے ہیں۔اب تو مہنگے  جہیز کا لین دین ایسا مستحکم رواج بن گیا ہے کہ شادی کے مواقع پر لڑکے والے لڑکی والوں کو مطلوبہ اشیاء کی باقاعدہ فہرست دیتے ہیں ،برانڈز کی  ڈ یمانڈ ہوتی ہےاور جو بے بس لوگ اپنی معاشی مجبوریوں کے باعث جہیز کا مطالبہ پورا نہیں کر سکتے ان کی بیٹیاں تمام تر سگھڑاپے، صلاحیت ،تعلیم اور حسن و جمال کے باوجود والدین کے گھرمیں بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ بعض لوگ جہیز کے لین دین کے لیے شرعی جواز بھی پیش کرتے ہیں مگر یہ جواز منصفانہ نہیں ہے اور کسی بھی جواز سے جہیز کی رسم کے مکروہ پن کو کم نہیں کیا جا سکتا ۔
بعض لوگ ان رسومات کی اس قدر پابندی کرتے ہیں کہ ناجائز فعل بھی کرنا پڑے تو کریں گے مگر رسموں کا چھوڑنا گوارا نہیں، مثلاً  لڑکی جوان ہے اور رسوم ادا کرنے کے لئے رقم نہیں تو یہ نہ ہوگا کہ رسومات چھوڑ دیں اور نکاح کروادیں، نہیں بلکہ ان رسومات کو پورا کرنے کے لئے والدین کو چاہے بھیک مانگی پڑے یا قرض لینا پڑے مگر رسومات ضرور انجام دیں گے اور مالداروں کی رسومات کے تو کیا کہنے! وہ تو پانی کی طرح لاکھوں روپے بہا دیتے ہیں۔ کروڑوں روپے کا ایک ایک فنکشن کرتے ہیں۔ آج کل مہندی کی رسم ادا کی جارہی ہے، اس پر جتنا رویا جائے، وہ کم ہے ۔ اس رسم کو خاص الخاص نوجوان لڑکیوں سے مختص کردیا گیا ہے۔ وہ اس طرح کہ بارات سے ایک دن پہلے نوجوان لڑکیاں اور پھر ساتھ بینڈ باجے والا اور نوجوان وغیرہ دولہا کے گھر جاتے ہیں۔
تمام راستے میں نوجوان لڑکیاں زرق برق اور ادھ ننگے لباس پہنے ساتھ میں ہیجڑا ٹائپ نوجوان ہاتھوں میں آتش بازی کے انار گھماتے ناچتے گاتے بد مستیاں کرتے ہر قسم کی بیہودگی پھیلاتے جاتے ہیں کہ بعض دفعہ ان بے ہودہ مناظر کو دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ یہ مہندی کی رسم یا رسم حنا اس کا نہ تو پاکستان کی ثقافت سے کوئی  تعلق ہے نہ معاشرت سے یہ خالصتاً بھارتی فلموں کی رسم ہے جس کا ہندوستان کی اسی فیصد آبادی سے بھی کوئی  تعلق نہیں۔مسلمانوں اور پاکستانیو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ پہلے دور میں شادی کی تقریبات میں دو شامیانے لگائے جاتے تھے۔ ایک مردوں کے لئے دوسرا عورتوں کے لئے۔گاؤں ،گلی،محلے کا نائی کھانا تیار کردیتا اور اپنے چند نوجوان مل کے بیرا گیری کا فرض سنبھال لیتے۔ اب بڑے بڑے شادی ہالز ہم بک کروانے لگے۔ اب گاؤں یا محلے کے نائی سے دیگیں نہیں پکوائی  جاتی بلکہ شادی ہال والے ہی کھانے کا بندوبست کرتے ہیں۔بس آپ ان کی قیمت ادا کرنے کے قابل ہوں تو شادی ہال والوں سے فی کس طے کر لیں اور بے فکر ہو جائیں کھانا جانے اور مہمان جانے۔کھانا ضائع ہو یا کم پڑے ان کی بلا سے انہیں اپنی فیس سے غرض ہوتی ہے جو آرڈر ہے لگا دیا اللہ اللہ خیر صلا۔
پھر کھانے والے بھی پاکستانی جنہوں نے بھرنا لبالب ہے کھایا جاۓ یا نہیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی۔ شادی ہال میں بھی دو طبقات کی تقسیم واضح ہے۔اگر بندہ متوسط طبقے کا ہے اور ایک آدھ ڈش پر گزارا ہے تو عموماًکھانا کم پڑجاتا ہے اور صاحب خانہ کی عزت خاک میں مل جاتی ہے۔اگر ٹیبل پر کھانا سرو کیا جاۓ تو کھانے کی بچت بھی ہوجاتی ہے اور رزق کے ضیاع کا اندیشہ بھی کم ہوتا ہے مگر جہاں بوفے سسٹم جو آج کل عام رواج ہے، وہاں بہت اسراف ہوتا ہے۔ دوبارہ نہ      ملنے کی سوچ یا بار بار اٹھنا نہ پڑے کے خیال کی بناء پر پلیٹیں کھچا کھچ بھرلی جاتی ہیں۔ تقریباً  مہمانوں  کا یہی حال ہوتا ہے، بالاخر جب مہمان کھانا کھا کر جاتے ہیں تو آپ خود سروے کر لیجئے گا کہ آدھی آدھی پلیٹوں میں کھانا بچا ہوا رکھا ہوتا ہے۔ خدا بھلا کرے ہمارے مالداروں کا کہ وہ بیس اور پچیس ڈشوں کا اہتمام کرکے مہمانوں کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ آدھے سے زیادہ کھانا ضائع ہوتا ہے، مہمان سب چیزیں نکال لیتا ہے مگر اسے   کھا نہیں  پاتا۔
اخباری سروے کے مطابق صرف کراچی میں شادی ہالز سے لاکھوں روپے کا کھانا پھینکا جاتا ہے۔ ہم نے رزق کی قدر کرنی چھوڑ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل ہر ایک بے برکتی اور تنگ دستی کا رونا رو رہا ہے۔ حدیث شریف: سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی پاکﷺ مکان میں تشریف لائے، روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا تو اس کو لے کر پونچھا پھر کھالیا اور فرمایا عائشہ! اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی) جب کسی قوم سے بھاگی ہے تو لوٹ کر نہیں آئی (ابن ماجہ) غرضیکہ ہم نے ایک سنت کو پہلے رسم بنایا پھر اس رسم کو اتنا مشکل بنالیا کہ اب گھر گھر میں تفکرات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو دن بہ دن بڑھتا ہی جاتا ہے۔اس سلسلے کو روکنا حکومت کے بس کی بات نہیں بلکہ عوام کو خود ہی سادگی اپنانا ہوگی۔عوامی شعور کو اجاگر کرنے لیے لگاتار لکھنا ہوگا مکالمہ کرنا ہوگا۔اور اس پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔

رانا اورنگزیب
رانا اورنگزیب
اک عام آدمی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *