بلوچ لمبی شلوار کیوں پہنتے ہیں ؟ دلچسپ حقائق۔۔عبدالرحیم

سوشل میڈیا پہ اکثر یہ طنزیہ جملہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ  بلوچ لمبی شلواریں پہنتے ہیں۔ ویسے تو میں قوم پرستی کا قائل نہیں میری نظر میں سب انسان برابر ہیں۔ قوم اور ذات پات انسان کی شناخت کے لیے ہوتے ہیں۔ لیکن بلوچ ہونے کی  بِنا پر میرا حق بنتا ہے کہ اس غلط فہمی کا ازالہ کروں۔ لمبی شلوار پہننے کے پیچھے جو توجیہ ہے اسے سن کر آپ اسے جہالت ہر گز نہیں سمجھیں گے۔

آپ اسے روایت سمجھیں یا ثقافت ، ہمارے ہاں تنگ کپڑے پہننا آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ چاہے مرد ہوں یا خواتین، سب کوجسم کو اچھی طرح نہ ڈھانپنے پر آج بھی بزرگوں سے ڈانٹ پڑتی ہے۔ عام طور پر مردانہ سوٹ مارکیٹ میں چار میٹر کا ہوتا ہے لیکن ہمیں سات میٹر کا کپڑا لینا پڑتا ہے۔ اب تو خیر وقت بدل رہا ہے ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق کپڑے پہننے لگا ہے البتہ اکثریت ایسے کپڑے پہننا پسند کرتی ہے کہ جس سے جسم کے ابھار نظر نہ آئیں۔

آج کل چونکہ میرا جسم میری مرضی کے تحت تنگ کپڑے پہننے کا ماڈرن ٹرینڈ چل پڑا ہے ، اور تو اور برقعے میں بھی صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والا معاملہ چل رہا ہے۔ ۔ بقول شاعر

مقصد فقط چھپانا نہیں خدوخال کو
فارس میاں ! حجاب کا مطلب کچھ اور ہے

چھپانے کی چیز چھپانی چاہیے نہ کہ دکھانی۔ اگر اس سے کسی کو جہالت نظر آ رہی ہے تو اسے خلیل الرحمان قمر کے حوالے کر دینا چاہیے۔

خیر کوئی کیسے کپڑے پہن رہا  ہے یہ اس کی شخصی آزادی ہے اور اس لیے ہمیں بھی یہی آزادی حاصل ہے کہ ہم اپنی پسند اور کلچر کے مطابق لباس زیب تن کریں۔ ہمارے ہاں خواتین سلائی کڑھائی کر کے کھلے ڈھلے کپڑے پہنتی ہیں تاکہ جسم کا کوئی حصہ نظر نہ آئے۔ اور بریزر وغیرہ کا تو کوئی تصور ہی نہیں ۔ انسان بے خبری میں کہیں بیٹھا ہوتا ہے  یا سویا ہوا تو لمبی شلوار پورا جسم ڈھانپ لیتی ہے۔ پردہ صرف عورت پہ نہیں مرد پر بھی لازم ہے بس یہی وجہ ہے کہ لمبی شلوار پہنی جاتی ہے۔ لوگ گرمیوں میں قمیض اتار کر صرف شلوار پہن کر ماں بہنوں کے سامنے ادھ ننگے گھوم رہے ہوتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ایسے لوگوں کے لیے بہت بُرا لفظ ہے۔ اور دھوتی باندھنے والوں کو بھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جاتا کہ اس کا بھی کوئی بھروسہ نہیں کہ کب بےوفا محبوب کی طرح رسوا کر کے چھوڑ جائے۔ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ ویسے بھی عزت اور عزت نفس پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے۔

پہلے زمانے میں قمیض بھی لمبی ہوتی تھی لیکن چونکہ شلوار چھوٹی کرنا معیوب تھا لیکن فیشن کرنا بھی لازمی تھا تو کچھ بلوچ لڑکوں نے چھوٹی قمیض پہننا شروع کی جس کی وجہ سے مائنڈ سیٹ یہ بنا کہ بلوچ شلوار لمبی اور قمیض چھوٹی پہنتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کلیے کو بلوچ سے منسوب کرنے کے بجائے سب پر پر لاگو کیا جانا چاہیے  کہ جسم کو چھپانا کوئی معیوب بات نہیں چاہے مرد یا عورت چاہے بلوچ ہو یا پٹھان ہو سندھی ہو یا پنجابی خوبصورتی اسی میں ہے کہ پردے میں رہے۔

ترقی کے لیے ننگا ہونے کی شرط نہیں بس محنت اور عمل کی ضروت ہے۔ محنت اور عمل لمبی شلوار اور ٹوپی والا برقعہ پہن کر بھی کیے  جا سکتے  ہیں ۔

عبدالرحیم
عبدالرحیم
نام : عبدالرحیم قلمی نام : رحیم بلوچ پیشہ : بلاگنگ ، ویب ڈیولپمنٹ ، ٹیچنگ رحیم بلوچ کا تعلق ڈیرہ اللہ یار ، ضلع جفعرآباد بلوچستان سے ہے ، انٹرنیٹ ، بلاگنگ ، مارکیٹنگ کے علاوہ مختلف سماجی موضوعات پہ لکھتے ہیں۔ انہیں فیس بک آئی ڈی @rjrah33m اور ٹویٹر پہ @raheem_baloch پہ فالو کیا جا سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *