کرکٹ اور میرٹ کا خدا۔۔محمد وقاص رشید

ہم اس ہار سے سیکھیں گے۔ بابر اعظم

سوال یہ ہے کہ ہم کیا سیکھیں گے۔ ؟
کرکٹ،  میری پہلی محبت تھی ۔ بہت کھیلی ،بہت دیکھی ، بہت سمجھی۔ ۔زندگی بیشتر خانہ بدوشی میں گزری۔ جہاں بھی رہا پہلی محبت ساتھ ہی رہی۔

julia rana solicitors

آئی سی سی T20ورلڈکپ2021 اب ایک روزہ معرکہ رہ گیا ہے۔ جی ہاں فائنل میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا مدِ  مقابل ہوں گے۔  سیمی فائنل میں اپنے اپنے گروپس میں سرِ فہرست رہنے والے پاکستان اور انگلینڈ ہار چکے ہیں ۔

کل آسٹریلیا سے ایک کانٹے دار مقابلے کے بعد پاکستان کی ٹیم ٹرافی کی دوڑ سے باہر ہوئی۔  پاکستانی ٹیم نے توقع سے بڑھ کر نہیں توقع کے برخلاف کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔  ورلڈکپ سے پہلے پانچویں چھٹے نمبر پر شمار کیے جانے سے اچانک ورلڈکپ شروع ہوتے ہی تاریخ میں پہلی بار “واک اوور” دینے آنے والی بھارتی ٹیم کو ہرانے کے بعد ورلڈکپ جیتنے کی خود اعتمادی حاصل کرنے والی ٹیم اسی  معرکے پُر ستائش  وداد اور مبارکباد کی مستحق ہے۔

بڑی  مدت بعد اتنے انہماک سے اپنی  زندگی کی پہلی محبت کرکٹ کو دیکھنے کے بعد رات متوقع طور پر ہار کے  بعد نیند آنکھوں سے روٹھ گئی ۔اسی دوران دنیا کے اوّلین بلے باز اور قومی ٹیم کے کپتان کا ٹیم سے ڈریسنگ روم میں چھوٹا سا خطاب سنا جس کی بنیادی بات کو اس تحریر کا عنوان کیا۔ اپنی کرکٹنگ سینس کے تحت میں نے سوچا میں بھی اس پہلی محبت کی یاد میں اپنا تجزیہ تبصرہ اور مشورہ پیش کروں ۔ شاید کہیں اڑتا اڑاتا ہمارے کپتان تک پہنچ جائے ۔بڑے کپتان نے تو ہمارے مشورے مانے نہیں چھوٹا کپتان ہی مان لے۔

میں یہ بات کرکٹ سے دو دہائیوں تک منسلک رہنے کی بنیاد پر کر رہا ہوں کہ کرکٹ سے متعلق دنیا کا سب سے آسان کام میچ کے بعد تبصرہ کرنا ہوتا ہے کیونکہ اس وقت دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو چکا ہوتا ہے۔  پتا انہی 11کو ہوتا ہے جو کھیل رہے ہوتے ہیں۔

سب سے پہلے تو جس طرح کپتان نے کہا بڑی مشکل سے یہ خود اعتمادی Self Belief ٹیم میں آئی ۔اپنی غلطیوں سے اسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ہار ایک بھیس بدلی نعمت Blessing in disguise ثابت ہو کر مستقبل میں جیت کی راہ ہموار کرے۔

اس میچ سے بہتر کوئی میچ اس لیے سبق سیکھنے کے لیے نہیں ہے کہ دونوں ٹیم عین برابر اور جیت کے لیے یکساں پُر امید تھیں، لیکن آسٹریلیا کی برتری محض اس بنیاد پر ثابت ہوئی جن چند جگہوں پر پاکستان کی ٹیم نے کمزوری دکھائی اور یہی وہ چیزیں ہیں ، جن پر ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔

1- وہ ٹھیک ہے کہ رضوان اور فخر دونوں کے آخر میں چھکے لگ گئے  اور رنز بن گئے، لیکن آخر میں رنز بننے سے انکا سٹرائیک ریٹ تو بہتر ہو گیا لیکن 38 ڈاٹ بالز میں سے اگر 20 بالوں پر بھی آپ نے لیگ سائیڈ پر سلاگنگ کی بجائے سنگل ڈبل یا گراؤنڈ شاٹس کے ذریعے رنز کیے ہوتے تو ہم 200کا نفسیاتی ہدف عبور کر لیتے ۔رضوان اور فخر کو محض ایک طرف ہٹنگ کی بجائے وکٹ کے ہر طرف سٹروک پلے کی مشق کرنی ہے۔

2-جب ایک بیٹسمین اپنے آپ کو وکٹ کے ایک طرف تک محدود کرتا ہے تو وہ باؤلر کو بہت مارجن دے دیتا ہے۔ آپ وارنر + ویڈ اور رضوان + فخر کی بیٹنگز میں سکورنگ ایریاز کا تقابلی جائزہ لے لیں۔ بات سمجھ میں آ جائے گی ۔

3-شاہین   آفریدی کے 19 ویں اوور اور پیٹ کمنز کے انیسویں اوور کا بال بائی بال مشاہدہ کر لیں ۔کمنز دیکھ رہا ہے کہ فخر مڈ وکٹ سلاگنگ کر رہا ہے اس نے سارا اوور آف سٹمپ سے باہر چینج آف پیس سے کیا۔   ہمارے آفریدی نے تینوں آخری چھکے ایک جگہ پر کھائے۔ آپ کی بال پر کیچ چھوٹا تو اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے میرے ہیرو کہ آپ اپنا گیم پلان ہی کھو دیں۔ آپکے پاس سلو باؤنسر ، وائیڈ یارکر ، آف سٹمپ کے باہر اپنے قد کا استعمال کرتے ہوئے سکڈنگ ڈلیوریز۔ ۔ کیوں نہیں،جس بال پر کیچ نکلا وہی ریپیٹ کی ہوتی مڈل ایک آف گڈ لینتھ۔ ۔ کیچ تو آسٹریلویز نے دو چھوڑے ۔ دونوں رضوان کے، لیکن کیا اسکے بعد انکے باؤلر لائن اینڈ لینتھ بھول گئے ۔

4-آسٹریلیا کا گیم پلان کمال تھا۔  آؤٹ بھی ہوتے رہے لیکن پاکستان کے weak Links پر مسلسل اٹیک کرتے رہے جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ مطلوبہ رن ریٹ وکٹیں گرنے کے باوجود زیادہ اوپر نہیں گیا

5-حسن علی یقیناً  اپنی واپسی کے بعد پچھلے ایک سال سے اچھی کارکردگی دکھا رہا ہے  لیکن اس کارکردگی کا اعتماد اور قسم کا “ڈنگ Sting” جو فاسٹ باؤلر میں نظر آنا چاہیے وہ تو نہیں ہے ۔کسی کو بیک کرنے کے لیے ورلڈکپ کا ایونٹ تھوڑی ہوتا ہے ۔اگر تین بڑے میچوں میں ہر ٹیم اسی کو ویک لنک سمجھتے ہوئے اسے اٹیک کرتی رہی اور وہ مار کھاتا رہا تو آپ اگلے میچوں میں نیمبیا اور سکاٹ لینڈ کے خلاف اپنے ریزروز ٹرائی کرتے ۔ یہ بھی آؤٹ فارم کھلاڑی کو بیک کرنے کا طریقہ ہوتا ہے تاکہ اسکے ذہن سے دباؤ ہٹے وہ پریکٹس کرے۔  اگر آپ کا ریزرو کامیاب ہو جائے تو آپ سیمی فائنل میں اسے موقع دیں اسے بیک کریں نا کہ آؤٹ آف فارم کھلاڑی بے چارے کا کیرئیر ہی داؤ پر لگا دیں۔  آپ 16 کے کپتان ہوتے ہیں 11کے نہیں  اور ان 16کے 16 کو آپ نے بیک کرنا ہوتا ہے ۔نا کہ کسی ایک کو ۔ طاقتور اور چالاک دشمن ہمیشہ آپ کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتا ہے، یہ آپکی چالاکی ہونی چاہیے کہ کوئی طرف کمزور نہ چھوڑیں ۔ہمیں ریزرو کھلاڑیوں کے بارے اس منفی کرکٹنگ کو ختم کرنا ہو گا۔  ہر ایک کھلاڑی پر یہ دباؤ قائم رہنا چاہیے کہ اسکا متبادل “پنجوں کے بل ” باہر بینچ پر  بیٹھا ہے ۔اگر کوئی اس پریشر کو اپنا وہ ڈنگ sting پیدا کرنے اور خود کو اس سے بہتر ثابت کرنے میں کامیاب ہو تو ہی اسے 22کروڑ کے ملک میں سے 11 نمائندگی کرنے والوں میں جگہ ملنی چاہیے ۔

6-حارث ر ؤف نے نیوزی لینڈ کے خلاف بہترین باؤلنگ کی تھی  لیکن کل انکی باؤلنگ میں وہ جان نظر نہیں آئی ۔ تمام پاکستانی باؤلرز کو یہ چیز مزید بہتر بلکہ بہترین بنانی ہے کہ انکی سٹرینتھ کیا ہے۔  جدید باؤلنگ کی ورائٹیز کیا ہیں، کیسے ان ورائٹیز میں اپنی سٹرینتھ کو مکس اپ کرنا ہے ۔ کب وکٹ لینے کے لیے اٹیکنگ بولنگ کرنی ہے کب ڈاٹس کروانے کے لیے ڈیفینسو بالنگ کے ذریعے دباؤ بڑھانا ہے تاکہ بیٹسمین خود رسک لے اور آؤٹ ہو۔

7-پاکستانی ٹیم کو اپنی بدن بولی باڈی بہتر کرنی ہے ۔ہوائیاں اڑی ہوئی صورتیں گراؤنڈ میں دکھائی دینے سے مخالف ٹیم کو ایک نفسیاتی برتری سی مل جاتی ہے۔  آپ پرسوں نیوزی لینڈ اورکل آسٹریلیا کے بلے بازوں کا پاکستانی بیٹسمین کے چہروں کے تاثرات کا موازنہ کر لیں ۔ پاکستانی بیٹسمین چھکا مار کر بھی ایک دوسرے کے پاس آکر مسکراتے ہوئے نہیں دیکھے گئے۔  اس ایشیائی نفسیات پر بھارت نے کچھ سالوں میں کافی کام کیا جس سے انکی ٹیم کی کارکردگی پر کیا اثر پڑا بتانے کی ضرورت نہیں یہ اور بات کہ انکا confidence جب arrogance میں تبدیل ہوا تو دائرے کا سفر شروع ہو گیا۔

8-فیلڈنگ میں ہٹنگ دی سٹمپس کی خصوصی مشق ہونی چاہیے ۔ کل ایک بھی تھرو وکٹوں کو نہیں لگا جس سے بہت نقصان ہوا۔  وارنر اور ویڈ شروع ہی میں رن آؤٹ ہو سکتے تھے۔

9-کپتان نے تھوڑی سی سٹریٹیجک غلطیاں بھی کیں۔  عماد وسیم کو چوتھا اوور کرنا چاہیے تھا  اور حفیظ کو ایک اوور اور ٹرائی کروانا چاہیے تھا ۔ حسن علی کو کھلایا تھا تو شاہین شاہ کے ساتھ سٹارٹ کرواتے ۔دوسرا کپتان کو چاہیے کہ گراؤنڈ میں اپنا آئیڈیل دھونی اور سٹیووا ٹائپ کپتانی کو بنائے ۔ ایک موقع پر آپ نے عماد وسیم پر شاؤٹ کیا کہ وہ تھرڈ مین پوزیشن پر ٹھیک نہیں کھڑا دوسری دفعہ شاداب کی گیند پر جب چھکا لگا تو فیلڈر روپ کے اوپر نہیں کافی آگے تھا اگر روپ پر ہوتا کیچ ہو سکتا تھا ۔ یہ باؤلر اور کپتان کا کام ہے کہ باؤلنگ اور سچو یشن کے مطابق پہلے فیلڈ پوزیشننگ کرے نا کہ بعد میں۔ ۔کپتان فیلڈنگ کے دوران فرسٹریشن دکھائے تو اسکا اثر پورے گیارہ فیلڈر پر پڑتا ہے ۔ آپ بیٹنگ میں نمبر ایک ہیں کپتانی میں بھی اسی توجہ ،سکون اور ارتکاز کے ساتھ دنیا کے نمبر ایک کپتان بن سکتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

آخر میں ایک چیز جو میں بڑی مدت سے سوچتا ہوں وہ یہ کہ پاکستان ہمیشہ دعاؤں سے   اور آسٹریلیا یا دوسرے غیر مسلم ممالک ہمیشہ محنت سے کیوں جیتتے ہیں ۔کل والے میچ پر غور کیجیے تو اس کا بھی جواب ملے کہ کل میرے سمیت بہت سے پاکستانی اور حتی کہ گراؤنڈ میں موجود تماشائی ہر قسم کا ورد کر رہے تھے لیکن ان تمام دعاؤں ورد تسبیحات اور سجدوں پر مبنی “خدا اعتمادی” آسٹریلوی ٹیم کی محنت ،ریاضت ، ذہنی اور جسمانی استعداد کار کو بڑھاتی جدید تکنیکس پر مشتمل خود اعتمادی کو شکست نہیں دے سکی ۔ یہی میرٹ کے خدا کا پیغام ہے۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply