• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • بجلی کابنیادی ٹیرف ایک روپیہ68 پیسے فی یونٹ بڑھانے پرغور

بجلی کابنیادی ٹیرف ایک روپیہ68 پیسے فی یونٹ بڑھانے پرغور

نیپرا نے بجلی کابنیادی ٹیرف ایک روپیہ 68 پیسے فی یونٹ بڑھانےکی درخواست پر سماعت مکمل کرلی ہے۔ اعدادو شمار پر غور کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

حکومت کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کی درخواست پر سماعت کے دوران چیئرمین نیپرا نے کہا۔ حکومت نے کہا تھا کہ احساس پروگرام کے تحت غریب صارفین کو سبسڈی دیں گے۔ آپ کو 300 یونٹ والے صارفین کا تحفظ کرنا چاہیے تھا۔ یہ بہتر نہیں ہوتا کہ200 کے بجائے کم از کم 300 یونٹ والے صارفین کی بھی بچت ہو جاتی۔ موجودہ درخواست سے تو گھریلو صارفین کے لیے ایک روپے 68 پیسے تک اضافہ جائے گا۔

tripako tours pakistan

انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں صارفین کا تحفظ کرنا ہے اور بحیثیت چیئرمین میرے اس درخواست پر تحفظات ہیں۔غریب لوگوں پر اس کا زیادہ بوجھ پڑے گا۔ صارفین پر بوجھ ڈالا جارہا ہے اس لئے وہ تو بولیں گے۔ اس لئے بہتر ہو گا کہ حکومت اس درخواست پر نظر ثانی کرلے۔ تمام کیٹگریز کیلئے نہیں صرف 300 یونٹ والے صارفین کیلئے نظر ثانی کا کہہ رہاہوں۔

وزارت توانائی کے حکام نے نیپرا کو بتایا کہ100سے 200 یونٹ والے صارفین کو بجلی کی قیمت میں اضافے کے اثرات سے بچانا چاہتے ہیں۔ حکومت کا مقصد ٹارگٹڈ سبسڈی کی طرف جانا ہے۔ اگر 300 تک والے صارفین کو اس ٹیرف سے بچاتے ہیں تو باقیوں پر بوجھ پڑتا ہے۔

حکام نے مزید کہا ہے کہ حکومت اب بھی صارفین کو 168ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔ بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے سے حکومت کو 185 ارب روپ کی سبسڈی دینی پڑے گی۔ہمیں مجبوراً بجلی کی قیمتیں صارفین سے ہی لینا ہیں۔

حکام کے مطابق موجودہ سطح پر بنیادی ٹیرف 13 روپے 97 پیسے ہے۔بنیادی ٹیرف اضافے کے بعد 15 روپے 36 پیسے ہوجائے گا۔ مجموعی طور پر ٹیرف میں اضافہ ایک روپے 68 پیسے جبکہ کیٹگریز کے تحت ایک روپے 39 پیسے بنے گا۔

Advertisements
merkit.pk

نیپرا نے ٹیرف میں اضافے پر سماعت مکمل کر لی ہے۔ نیپرااتھارٹیزجائزہ لیں گی کہ صارفین کی ہر کیٹگری پر کتنا اثر ہوگا؟ اعدادو شمار کے جائزے کے بعد ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply