کمیونزم اور فیمنزم،کچھ مزید نکات۔شاداب مرتضیٰ

 فیمنسٹ تھیوری کے مطابق ہر طبقے کی عورت اپنے طبقے کے مرد کی بالادستی اور جبر کا (پدرشاہی) کا شکار ہے خواہ اس کا تعلق سرمایہ دار طبقے سے ہو، جاگیردار طبقے سے، مڈل کلاس سے یا مزدور اور محنت کش طبقوں سے۔ عورت سب سے زیادہ مظلوم سماجی “طبقہ” ہے کیونکہ یہ تمام طبقوں کے مردوں کے استحصال کا شکار ہے۔ اس لیے سب سے پہلا، بنیادی اور ضروری کام یہ ہے کہ عورت کو آزاد کیا جائے۔ جب تک تمام طبقوں کی عورتیں اپنے طبقوں کے مردوں کے جبر سے آزاد نہیں ہو جاتیں تب تک عورت بحیثیتِ مجموعی  آزاد نہیں ہو گی۔ اور جب تک عورت آزاد نہیں ہو گی سماج آزاد نہیں ہو گا۔ گویا عورت کے استحصال کا خاتمہ اور اس کی آزادی سماج سے تمام استحصال کے خاتمے اور پورے سماج کی آزادی کی بنیادی شرط ہے۔ عورت، عورت اور صرف عورت ,فیمنزم کا مرکزِ فکر ہے. حتی کہ سوشلزم میں بھی اس کا محور و مرکز عورت ہے اور عورت بھی تمام طبقوں کی عورت جبکہ سوشلزم مزدور طبقے کی آمریت کا طبقاتی نظریہ ہے۔ یہ بین الطبقاتی جدوجہد کا، طبقاتی مصالحت کا قطعی مخالف ہے۔ سوشلزم کے نزدیک عورت بھی طبقوں میں تقسیم ہے۔
مزدور طبقے کی عورت سرمایہ دار کے لیے بھی محنت کرتی ہے اور اپنے خاندان کے لیے گھریلو محنت بھی کرتی ہے۔ یہ بلامعاوضہ محنت ہوتی ہے۔ بعض صورتوں میں تو عورت کی محنت کی اجرت یا کام کی تنخواہ اس کے مرد کو ملتی ہے۔  کسان عورت کھیتی باڑی بھی کرتی ہے اور گھریلو محنت بھی۔ مزدور اور کسان عورتوں کو ان کی گھریلو محنت کا معاوضہ نہیں ملتا جبکہ ان کی گھریلو محنت مردوں کو مزید محنت کے قابل بناتی ہے۔ مزدور اور محنت کش طبقوں کی عورتیں دوہرے استحصال کا شکار ہیں۔ یہ بات درست ہے۔
 مڈل کلاس طبقے کی عورت کو ملکیت میں مساوی حصہ نہیں ملتا۔ وہ اکثر پسند کی شادی بھی نہیں کرسکتی۔ وہ اپنی زندگی کے معاملات پر فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ اس کے مرد یہ فیصلے کرتے ہیں اور وہ انہیں قبول کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ یہ بات بھی درست ہے۔
جاگیردار طبقے کی عورت قرآن سے بیاہ دی جاتی ہے۔ اسے گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اسے جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ شادی کے نام پر اس کا جنسی استحصال ہوتا ہے۔ یہ بھی درست بات ہے۔
یہ سب باتیں درست ہیں۔ لیکن سرمایہ دار طبقے کی عورت اپنے طبقے کے مردوں کے کون سے ظلم کا شکار ہے؟ وہ بزنس کرتی ہے، سیاست کرتی ہے، اپنی زندگی کے فیصلے خود کرتی ہے، آزادانہ زندگی بسر کرتی ہے۔ سرمایہ دارانہ سیاسی جماعتوں میں اہم عہدوں پر فائز عورتیں، اسمبلی میں موجود عورتیں، وزارتوں کی سربراہ عورتیں، اعلی ترین سرکاری عہدوں پر فائز عورتیں، وغیرہ وغیرہ، آزاد عورتیں ہیں۔ سو، یہ بات بالکل غلط ہے کہ، تمام طبقوں کی ساری عورتیں اپنے طبقے کے مردوں کا ظلم و جبر بھگت رہی ہیں۔ اور یہ بات بھی درست نہیں کہ حکمران طبقے کی عورتیں بھی اپنے طبقے کے مردوں کے ظلم کا شکار ہیں۔
پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر کی مارکیٹ کے باہر کھڑے ہو کر دیکھیں تو آپ کو ایسی سینکڑوں عورتیں نظر آئیں گی جو کار چلا کر آتی ہیں اور مارکیٹوں سے اپنی پسند کی خریداری کرتی ہیں۔ اپر اور مڈل   کلاس کی یہ عورتیں بھی اپنی معاشی حیثیت کے مطابق اپنی زندگی کے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ وہ مڈل کلاس گھرانے جن میں مرد اور عورت دونوں ملازمت کرتے ہیں وہاں بھی بہت سی عورتیں آزاد ہیں۔ سو یہ بات بھی درست نہیں کہ مڈل کلاس میں سب عورتیں مردوں کے ظلم کا شکار ہیں۔
جاگیردار، مڈل کلاس اور مزدور وکسان طبقے کی بہت سی عورتیں اپنے مردوں کی بالادستی کے نرغے میں ہیں۔ لیکن سرمایہ دار طبقے کی عورت آزاد ہے۔ نہ صرف یورپ و امریکہ میں بلکہ پاکستان میں بھی۔ عورت بھی طبقوں میں تقسیم ہے۔ سرمایہ دار طبقے کی عورت اپنے طبقے کے مفادات میں پیوست ہے کیونکہ اسے عیش و آرام کی زندگی چاہیے خواہ اس کی خاطر لاکھوں لوگ بھوکے سوئیں اور غربت میں سڑیں۔ اسے اپنی طبقاتی حیثیت برقرار رکھنی ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ نجی ملکیت کی وراثت میں شریک ہے۔ اگر کہیں اسے خاندانی نجی ملکیت میں مساوی حصہ نہیں ملتا تو اس کے لیے جدوجہد کرنا کم از کم کمیونسٹوں کا فرض تو بالکل بھی نہیں ہے۔
کمیونسٹ تو نجی ملکیت کو ہی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ نجی ملکیت میں، نجی خاندانی وراثت میں، سرمایہ دار یا مڈل کلاس کی عورت کے حق یا مساوی حق کے لیے کیوں جدوجہد کریں گے؟ کمیونسٹ جاگیردار طبقے کو (جو کہ اب معاشی طور پر زرعی سرمایہ دار ہے)، سرمایہ دار طبقے کو، الغرض تمام طبقوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جاگیردار طبقے یا سرمایہ دار طبقے یا مڈل کلاس طبقے کی عورت کے خاندانی وراثت و نجی ملکیت کے حقوق یا مساوی حقوق کے لیے جدوجہد کیوں کریں گے؟ کیا کمیونسٹ سرمایہ دار، مڈل کلاس یا جاگیردار طبقے کے مردوں کے درمیان خاندانی وراثت کے جھگڑوں کو سلجھاتے ہیں؟
قانونی اور عملی طور پر عورتوں کو مرد کے مساوی حقوق کس طرح حاصل ہوں گے جب تک سرمایہ دارانہ نظام موجود ہے؟ جب تک مزدور طبقہ ریاست کا اقتدار حاصل کر کے نئے قوانین بنانے اور نافذ کرنے کا سیاسی و قانونی اختیار حاصل نہیں کر لیتا (سوشلزم) وہ جاگیردار، سرمایہ دار اور مڈل کلاس طبقوں کا خاتمہ کرنے کے قابل کیسے ہو سکے گا؟ کیا اس سے پہلے یہ ممکن ہے کہ عورت کا استحصال ختم کیا جا سکے؟
کمیونسٹوں کا نصب العین سوشلسٹ انقلاب ہے فیمنسٹ انقلاب نہیں۔ کمیونسٹ مزدور طبقے کو سوشلسٹ انقلاب کے لیے تیار کرتے ہیں فیمنسٹ انقلاب کے لیے نہیں۔ کمیونسٹ مزدور طبقے کی نظریاتی تعلیم اور سیاسی رہنمائی میں سوشلزم کو، پرولتاریہ کی آمریت کو، سوشلسٹ انقلاب کو محور و مرکز بناتے ہیں فیمنزم کو نہیں۔ کمیونسٹ مزدور عورتوں کو، دیگر محنت کش عورتوں کو اور عورتوں کو عمومی طور پر سوشلسٹ انقلاب کی جانب راغب کرتے ہیں فیمنسٹ انقلاب کی جانب نہیں کیونکہ سوشلسٹ انقلاب کے بغیر عورت نجی ملکیت اور پدرشاہی نظام کے جبر سے آزاد ہو ہی نہیں سکتی۔
سماج سوشلسٹ انقلاب سے آزاد ہو گا یا فیمنسٹ انقلاب سے؟ کس انقلاب کو اولیت حاصل ہے؟ سوشلسٹ انقلاب کو یا فیمنسٹ انقلاب کو؟ کون سا انقلاب کس سے مشروط ہے؟ عورت کی نجات، فیمنسٹ انقلاب، سوشلسٹ انقلاب یعنی طبقاتی نظام کے خاتمے سے، طبقوں کے خاتمے سے مشروط ہے یا سوشلسٹ انقلاب یعنی طبقاتی نظام کا خاتمہ، طبقوں کا خاتمہ، نجی ملکیت کا خاتمہ، فیمنسٹ انقلاب سے مشروط ہے؟ کیا فیمنسٹ انقلاب سے، صرف پدرشاہی نظام کے خاتمے سے طبقاتی نظام کا، طبقوں کا، نجی ملکیت کا خاتمہ ہو جائے گا؟ ظاہر ہے سوشلزم کو فیمنزم پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ عورت بھی طبقوں میں تقسیم ہے: پرولتاریہ عورت اور سرمایہ دار عورت۔ فیمنزم عورتوں کی طبقاتی تقسیم کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک صنفی تفریق بنیادی اور طبقاتی تفریق ثانوی ہے۔
کونسی تقسیم زیادہ اہم ہے؟ طبقاتی تقسیم یا صنفی تقسیم؟ فیمنزم کے نزدیک صنفی تقسیم کو اولیت حاصل ہے۔ سوشلزم کے نزدیک طبقاتی تقسیم سماجی مسائل، بشمول عورت کے استحصال، کی بنیاد ہے۔ فیمنزم کی غلطی یہ ہے کہ یہ نجی ملکیتی نظام کے بجائے پدرشاہی نظام کو عورت کے استحصال کی جڑ سمجھتا ہے۔
عورت آزاد کیسے ہوگی؟ نجی ملکیتی طبقاتی نظام میں صرف صنفی تفریق کے خاتمے سے یا نجی ملکیتی طبقاتی نظام کے خاتمے سے؟ صنفی تفریق، مرد اور عورت کی نابرابری، عورت پر مرد کی بالادستی کا سبب ان کی مختلف صنف ہے یا نجی ملکیت؟ ظاہر ہے نجی ملکیت۔ کیا جاگیردار گھرانے کی عورت خاندانی ملکیت کی وارث بن کر زمین کو کسانوں میں تقسیم کر دے گی؟ یا سرمایہ دار گھرانے کی عورت خاندانی ملکیت کی وارث بن کر اپنی صنعتیں اور کاروبار مزدوروں کے حوالے کر دے گی؟
سرمایہ دارانہ نظام طبقاتی اور صنفی استحصال کا دوہرا نظام ہے۔ یہ بالکل درست بات ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس دوہرے نظام کے دوہرے استحصال کا شکار کون سا طبقہ ہے؟ کیا سرمایہ دار مرد اور عورت بھی اپنے ہی نظام کے استحصال کا شکار ہیں؟ یہ بات ایک فرضی قصے سے زیادہ کچھ نہیں کہ سرمایہ دار طبقے کی عورت اور بالائی درمیانی طبقے کی تمام عورتیں پدرشاہی جبر کا شکار ہیں۔
کیا سوشلزم عورت کی نجات کا دعویدار نہیں؟ کیا سوشلزم نے ہر جگہ جہاں بھی اسے اقتدار نصیب ہوا، عورت کے استحصال کا خاتمہ، پدرشاہی کا خاتمہ نہیں کیا؟ سوشلزم نے عورت کی آزادی اور نجات کے اپنے دعوے کو ہمیشہ نبھایا ہے۔ اور صرف سوشلزم نے ہی اس دعوے کو پورا کیا ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں کمیونسٹ تحریک میں بار بار عورت کے سوال کو، فیمنزم کو ابھارنے کی، اس پر اصرار کرنے کی اور عورتوں کو کمیونسٹ تحریک اور سوشلسٹ انقلابی تحریک سے جوڑنے کے لیے فیمنزم پر، صرف عورتوں کے حقوق پر، طبقاتی تقسیم سے ماورا تمام طبقوں کی عورتوں کے حقوق پر (!) اصرار مسلسل کی اور کمیونسٹ عورتوں کو صرف عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے پر راغب کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
سوشلزم کے بارے میں یہ گمراہ کن ابہام پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ سوشلزم صرف طبقاتی امتیاز کو ختم کرتا ہے (یعنی اسے عورت کے صنفی استحصال سے کوئی دلچسپی نہیں) جب کہ صنفی امتیاز کے، عورت کے استحصال کے خاتمے کا فریضہ فیمنزم نبھاتا ہے؟ دنیا میں آج تک کہاں فیمنزم نے عورت کے استحصال کا خاتمہ کیا ہے؟ فیمنسٹ تحریک سرمایہ دارانہ نظام کے دقیانوسی فریم ورک میں رہتے ہوئے عورت کی جزوی آزادی، سرمایہ دار طبقے اور مڈکل کلاس عورت کی صنفی آزادی، مزدور طبقے کی عورتوں کی اجرتی غلامی کی طبقاتی آزادی اور عمومی طور پر عورت کی آزادی کی انفرادیت پسندانہ اور تجریدی اصلاح پسندانہ تحریک سے آگے کہاں گئی ہے؟
فیمنزم اور کمیونزم,سوشلزم,مارکسزم میں کیا مشترک ہے؟ فیمنزم عورتوں کی طبقاتی تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا۔ کمیونزم عورتوں کی طبقاتی تقسیم کو تسلیم کرتا ہے۔ فیمنزم تمام عورتوں کے تمام حقوق کا علمبردار ہے۔ کمیونزم مزدور اور محنت کش طبقوں کی عورتوں کے طبقاتی حقوق کا علمبردار ہے۔ فیمنزم جاگیردار اور سرمایہ دار طبقوں کی عورتوں کے حقِ نجی ملکیت کا قائل ہے۔ کمیونزم نجی ملکیت کے خاتمے کا علمبردار ہے۔ فیمنزم سماجی انقلاب کے لیے عورت کی آزادی کو اولین شرط سمجھتا ہے۔ کمیونزم سماجی انقلاب کے لیے مزدور طبقے کی آمریت کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔
فیمنزم عورتوں کو مرد سے آزادی کی ترغیب دیتا ہے۔ کمیونزم عورتوں کو مردوں کے ساتھ مل کر مزدور طبقے کی  جدوجہد میں شریک ہو کر سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی نجی ملکیت سے آزادی کی ترغیب دیتا ہے۔ فیمنزم سوشلسٹ تحریک کو عورت کی بین الاطبقاتی نجات کے یوٹوپیا کی جانب کھینچنے کی کوشش کرتا ہے۔کمیونزم عورتوں کو، ان کی آزادی کو، سرمایہ دار طبقے کی آمریت کے خاتمے کے لیے مزدور طبقے کی جدوجہد سے، سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد سے جوڑتا چاہتا ہے۔ نظریاتی طور پر بھی اور حکمتِ عملی کے اعتبار سے بھی کمیونزم اور فیمنزم ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ فیمنزم بھلے ہی خود کو سوشلسٹ یا مارکسسٹ بنا کر پیش کرے لیکن اس کی نظریاتی بنیادیں کمیونزم/سوشلزم/مارکس ازم کے بنیادی اصولوں سے انکار پر قائم ہیں۔
عورت کی صنفی آزادی سماج کی آزادی کی ضامن نہیں۔ عورت کی طبقاتی آزادی اس کی صنفی آزادی کی پہلی شرط ہے۔ اور طبقاتی نظام سے سماج کی آزادی مزدور طبقے کی آمریت سے مشروط ہے۔ جب تک مزدور طبقہ آزاد نہیں ہوتا سماج میں موجود کوئی بھی استحصال ذدہ طبقہ آزاد نہیں ہو سکتا۔ اس لیے سماج کی آزادی، عورت کی آزادی، تمام مظلوموں کی آزادی مزدور طبقے کی آمریت پر منحصر ہے۔ اور کمیونزم،سوشلزم،مارکسزم کا محور اسی لیے پرولتاریہ کی آمریت ہے۔ اور اسی سبب سے کمیونسٹوں کا نصب العین مزدور طبقے کی آمریت کے قیام کے لیے اپنی تمام کاوشوں کو وقف کردینا ہے نہ کہ فیمنزم کے دائرہِ کار میں رہتے ہوئے عورتوں کی صنفی آزادی کی خاطر پدرشاہی نظام کے خاتمے کے لیے تمام طبقوں کی عورتوں کے تمام حقوق کے لیے جدوجہد میں اپنی توانائیاں ضائع کرنا۔
مزدور طبقے کی آمریت، سوشلزم، عورت کے استحصال کو اور پدر شاہی نظام کو خاک میں ملا دے  گی۔ اس کے لیے کمیونسٹوں کو فیمنزم کے لبرل سرمایہ دارانہ نظریے کی ضرورت نہیں۔ عورت کی آزادی کے سوال پر سوشلزم فیمنزم سے زیادہ ترقی یافتہ اور فیمنزم کی طرح معروضی عینیت پسند نہیں بلکہ سائنٹفک نکتہِ نظر اور حکمتِ عملی رکھتا ہے۔ کمیونسٹوں کا کام فیمنزم کا پرچار نہیں بلکہ مزدور طبقے میں جا کر انہیں بلالحاظِ صنف سرمایہ دارانہ نظام سے جنگ کے لیے تیار کرنا ہے.

شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *