الیکشن کمیشن کے اعتراضات یا لطیفے۔۔اقصیٰ اصغر

آج میں آپ کو ایسے لطیفے سناؤں گی جنہیں پڑھ کر یا تو آپ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو سکتے ہیں یا اپنا سر پکڑ کر اس سوچ میں ڈوب سکتے ہیں کہ ایک ذی شعور انسان ایسے سوالات بھی کر سکتا ہے جن سوالات کی توقع صرف ایک بچے سے کی جا سکتی ہے۔

وزارتِ  سائنس اینڈ کمیشن نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین دکھائی ،تو الیکشن کمیشن نے اس کا مذاق اڑایا اور 37 اعتراضات کی ایک فہرست جاری کردی۔
جیسا کہ آپ سبھی جانتے ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں کیا جا رہا ہے یہ انتخابات کو شفاف آسان اور تیز بنانے کا بہترین طریقہ ہے۔

tripako tours pakistan

پہلا اعتراض آئندہ عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر EVM (Electronic Voting Machine) کے استعمال کیلئے وقت بہت کم ہے
الیکشن کمیشن کو لگتا ہے کہ وقت بہت کم رہ گیا ہے اگلے انتخابات میں ابھی دو سال باقی ہیں اتنی زیادہ الیکٹرونک مشینیں  نہیں بنائی جا سکتیں ۔جبکہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت نے کہا تھا کہ ہم روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مشینیں  تیار کر سکتے ہیں اور جو مطلوبہ تعداد میں مشینیں  درکار ہیں وہ چھ مہینے کے اندر ہم الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فراہم کر سکتے ہیں۔لہذا پہلا اعتراض مسترد ہوتا ہے کہ وقت بہت کم رہ گیا ہے، وقت ابھی بہت ہے۔۔   ہاں یہ الگ بات  ہے کہ اگر آپ نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ   آپ وقت سے پہلے الیکشن کروانا چاہتے ہیں ہیں تو پھر یقیناً  وقت کم ہے۔

دوسرا اعتراض   :مشین کا  سافٹ ویئر       اور ہارڈوئیر دیکھا نہیں جا سکتا۔
آپ نے کرنا کیا ہے دیکھ کر وہ تو پرانے زمانے کے کلکولیٹر جیسی مشینیں  ہیں۔اس کے اندر ایسا کوئی سافٹ ویئر ہی نہیں اور اس مشین کے ہارڈ ویئر کو کیا شیشے کا بنا دیں جس کو آپ جھانک جھانک کر دیکھتے تو رہیں، مطلب یہ کیسی فضول بات ہے اس کو دیکھا نہیں جا سکتا۔تو اے  ٹی ایم مشین سے کون سا آپ کو نظر آتا ہے تو پھر بھی آپ اپنا کارڈ ڈالتے ہیں بغیر دیکھے نیچے سے بہت مزے سے پیسے پکڑ لیتے ہیں اور کارڈ بھی۔تو یہ مشین بھی ایسے ہی کام کرتی ہے۔لگتا ہے آج سے پہلے الیکشن کمیشن نے کوئی ایسی مشین استعمال ہی نہیں کی۔عجیب بات ہے اس کے اندر دیکھا نہیں جا سکتا ،تو پھر بیلٹ باکس کے اندر بھی دیکھا نہیں جا سکتا۔

تیسرا عتراض: یہ EVM کس کی تحویل میں رہےگی کچھ بتایا نہیں جا رہا
نہیں نہیں ہم میاں نواز شریف کو لندن سے بلائیں گے اور ان کی تحویل میں دے دیں گے کہ یہ لیں میاں صاحب    یہ آپ کی تحویل میں رہے گی۔
بھئی آپ کی تحویل میں رہے گی الیکشن کمیشن کی۔ EVM ہم نے جو بائیڈن کو بلا کر نہیں دینی اور نہ ہی مودی کو بلا کر اس کی تحویل میں دینی ہیں۔ یہ EVM الیکشن کمیشن کی تحویل میں رہے گی ان کا ہی اثاثہ ہوگا۔

چوتھا اعتراض ویئرہاؤس اور ٹرانسپورٹیشن میں اس کے سافٹ وئیر کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
استاد جی ادھر ڈبے  تبدیل ہو جاتے ہیں تھلے تبدیل ہو جاتے ہیں بندے تبدیل ہو جاتے ہیں بندے اغوا ہو جاتے ہیں۔ آپ مشین کی بات کر رہے ہیں۔ ان چیزوں کی تبدیلی کا آپ نے آج تک جواب نہیں دیا۔
رہی بات سافٹ ویئر کی تو سافٹ ویئر تبدیل نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ لاک مشین ہے مکمل طور پر بند ہے موبائل کی طرح اگر آپ موبائل کو ایک بار کھول کر دوکان پر لے کر جائیں تو وہ بھی دیکھ کر بتا دیتے ہیں یہ کھلا ہوا ہے یہ تو پھر مشین ہیں۔  سیل پیک  ہوئی ہوئی مشین ہے۔ اسے جو بھی کھولے گا پتہ چل جائے گا مشکوک ہو جائے گا۔کھولے گا تو سافٹ وئیر کو بدلے گا وہ کھول ہی نہیں سکتا تو سافٹ وئیر کو کیسے بدلے گا۔ بچوں والے سوالات۔

پانچواں اعتراض: Black Box کی شفافیت پر سوال اٹھ سکتا ہے
شاندار لاجواب کیا Black Box کی terminology استعمال کی ہے۔نہیں اگر آپ کہتے ہیں تو ہم سرخ رنگ کا ہرے رنگ کا مالٹے رنگ کا پیلے رنگ کا چٹے رنگ کا  سفید رنگ کا Box بنوا لیتے ہیں۔سمجھ نہیں آرہی مطلب ایسے لطیفے۔

چھٹا اعتراض :EVM کی ایمانداری پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے۔
اچھا اب EVM داڑھی رکھ لیں۔ یا سپریم کورٹ جا کر وہاں سے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ لے کر آئیں کہ میں ایماندار ہوں ۔ انسان تو سنا تھا ایمان دار ہوتے ہیں بے ایمان ہوتے ہیں۔ یہ مشینیں بھی ایماندار ہوتی ہیں کبھی نہیں سنا تھی۔ یعنی ہم پاکستانی عوام کو تو اس سے پہلے پتہ ہی نہیں تھا کہ مشینیں بھی ایماندار اور بے ایمان ہوتی ہیں۔ یعنی آج کے بعد ہم اے ٹی ایم مشین میں کارڈ ڈالیں گے تو سوچیں گے یہ ایماندار مشین ہے یا بے ایمان مشین ہے ۔ اور مہربانی کرکے ہمیں پہچان بھی بتا دیں کہ ایماندار اور بے ایمان مشین کی پہچان کیسے کی جائے۔ آپ مشین پر اعتماد نہیں کر سکتے اپوزیشن پر اعتماد ہے ، این جی اوز پر اعتماد ہے میڈیا کی ایمانداری پر اعتماد ہے۔ مشین کی ایمانداری پر اعتماد نہیں۔ ہم تو بچپن سے کلکولیٹر استعمال کر رہے ہیں ہیں جب بھی دو جمع دو کیا تو اس نے چار ہی بتایا کبھی پانچ نہیں بتایا۔

ساتواں اعتراض: EVM واٹر کی تعلیم اور ٹیکنالوجی میں رکاوٹ بنے گی۔
پاکستان میں آپ کو پتہ ہے کتنے لوگ ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیں۔دس کروڑ فالور تو ایک پاکستانی ٹک ٹاکر خاتون کے ہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ Like والا بٹن کونسا ہے۔ اور Share والا بٹن کونسا ہے۔ ہر بندہ اس کام پر لگا ہوا ہے۔ اتنے لوگ تو پاکستان کے اندر ووٹ نہیں ڈالتے جتنے لوگ پاکستان کے اندر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔اتنے گئے گزرے لوگ نہیں ہیں۔ جاہل نہیں ہیں ، اَن پڑھ ہوسکتے ہیں، تعلیم حاصل نہ کی ہو لیکن اتنا کوئی جاہل نہیں ہے جو اپنی پسند کے امیدوار کو ڈھونڈ کر کاغذ کے اوپر 9 خانوں والی مہر لگا کے بڑے احتیاط کے ساتھ لپیٹ کر بیلٹ باکس میں میں ڈال سکتا ہے تو کیا اس کے لئے اپنے پسندیدہ امیدوار کے بٹن پر انگلی لگانا کوئی مشکل ہے صرف ایک انگلی لگانا اور ایک پیپر باہر آئے گا اس کو اٹھا کر وہاں پاس پڑے باکس میں ڈالنا کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔

Advertisements
merkit.pk

آٹھواں اعتراض مشین کی آزادی پر سوالات ہوگئے
واہ کیا بات ہے مشین کی آزادی پر بھی اب سوالات ہوں گے۔ نہیں کیا اب ہم مشین کو گھومنے پھرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیں۔ سڑکوں پر نکل آئیں اس کے لیے احتجاج کریں۔ ہاں میڈیا کی عورتوں کی آزادی کے لیے بات ہوتی ہے یہ مشین کی آزادی کے لیے کب سے؟ کیا ہم نے اسے اڈیالہ جیل کے اندر بند کیا ہوا یا اسے اشتہاری قرار دیا ہے۔کیا کریں اس کی آزادی کے لیے کیا اسے کھلا چھوڑ دیا جائے سڑکوں پر جا کر وہ نعرے لگائے اپنی آزادی کے لیے؟
انہیں عتراضات اور لطیفوں کو پڑھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ باقی کے اعتراضات اور لطیفے کیسے ہوں گے۔ مطلب الیکشن کمیشن آف پاکستان چاہتا ہی نہیں ہے کہ انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے شفاف انداز سے کیے جائیں۔خیر دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aqsa Asghar
میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز کی طالبہ ہوں۔اور ساتھ لکھاری بھی ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply