پاکستانی صحافت میں تحقیق کا فقدان۔۔۔ اویس احمد

SHOPPING

چندروز  قبل وفاقی دارالحکومت میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے معتبر اخباری ادارے جنگ و دی نیوز گروپ کے سینئیر  صحافی احمد نورانی، جو اپنی تحقیقاتی صحافت کی بنیاد پر جانے جاتے ہیں، کو لگ بھگ چھ نامعلوم افراد نے شہر کی مصروف اور معروف شاہراہ کشمیر ہائی وے پر زیرو پوائنٹ کے قریب وفاقی اردو یونیورسٹی کے تقریباً سامنے  آہنی ڈنڈوں اور کچھ اطلاعات کے مطابق تیز دھار آلے کی مدد سے زدوکوب کیا۔ تفصیلات کے مطابق احمد نورانی کو راولپنڈی سے اسلام آباد جاتے ہوئے زیرو پوائنٹ کے قریب تین نامعلوم موٹر سائیکل سوار افراد نے روکا اور گاڑی سے باہر آنے پر مجبور کیا۔دریں اثنا مزید تین افراد بھی موقع پر پہنچ گئے۔وہ آہنی ڈنڈوں اور تیز دھار آلے سے مسلح تھے۔انہوں نے احمد نورانی پر حملہ کیا اورخاص طور پر احمد نورانی کے سر کو نشانہ بنایا۔زخمی کرنے کے بعد حملہ آور مضروب صحافی کو موقع پر چھوڑ کر فرار ہو گئے۔احمد نورانی کو بعد ازاں اسلام آباد کے پمز اسپتال  پہنچایا گیا جہاں انہیں فوری طبی امداد مہیا کی گئی اور اب وہ روبصحت ہیں اور اپنے گھر منتقل ہو چکے ہیں۔

یہ خبر سوشل میڈیا کی بدولت دیکھتے ہی دیکھتے جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور مضروب صحافی کی تصاویر دھڑادھڑ سوشل میڈیا کے ذریعے شئیر کی جانے لگیں جن میں وہ اسپتال کے اسٹریچر پر لہو لہان  پڑےنظر آتے ہیں اور ڈاکٹر صاحبان ان کی مرہم پٹی میں مصروف ہیں۔ پورے ملک کی صحافی برادری اس واقعے کے خلاف سراپا احتجاج بن گئی اور مختلف شہروں میں صحافیوں نے اپنے صحافی بھائی کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ احمد نورانی پر حملہ کرنے والوں کا  فی الفور سراغ لگایا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔

وطنِ عزیز میں انٹر نیٹ کی ارزاں نرخوں پر دستیابی کے باعث تقریباً ہر پاکستانی اپنے ہاتھ میں موجود سمارٹ فون کی مدد سے، جس کی بہتات کو پرویز مشرف نے ملک میں ترقی کا پیمانہ قرار دیا تھا،  سوشل میڈیا پر موجود مختلف فورمز پر  اظہار خیال کرسکتا ہے۔انہی میں سے ایک پلیٹ فارم ٹویٹر ہے جس پر ہر قابلِ ذکر اور ناقابلِ ذکر  واقعے کی اطلاع منٹوں، سیکنڈوں میں مہیا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ بذریعہ ٹویٹر اس اطلاع کے ملنے پر  پاکستان کے ایک عام شہری ہونے کے ناطے مجھے بھی اس واقعے پر اتنا ہی دکھ اور افسوس ہوا جتنا کہ ایک عام پاکستانی شہری کو ہو سکتا ہے  جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں ٹویٹر پر متحرک ہو گیا اورمیں نے اس واقعے کی، جس کو کچھ  لوگوں نے سانحہ قرار دیا ، شدید الفاظ میں مذمت بھی کی۔

اس کے بعدمیں نے سوچا کہ چونکہ حملہ ایک صحافی پر ہوا ہے لہٰذا مناسب ہو گا کہ میں  پاکستان کے مانے ہوئے صحافیوں سے اس واقعے پر اظہار افسوس کروں اور اس واقعے کی مزید تفصیلات جاننے کی کوشش کروں۔چنانچہ میں نے مختلف صحافیوں کے ٹویٹر اکاؤنٹس پر جانا اور ٹویٹس پڑھنا شروع کیں تاکہ اپنا افسوس  بہتر طور پرریکارڈ کروا سکوں اور معلومات بھی حاصل ہو جائیں۔وہاں پر میں ایک عجیب کشمکش سے دوچار ہو گیا۔  تقریباً ہر وہ صحافی جس کومیں عرصہ سے پڑھتا، سنتا اور مانتا آیا  ہوں، ایک ہی نکتے پر متفق نظر آیا  کہ احمد نورانی پر حملہ آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی ایک کوشش ہے اور ساتھ ہی ساتھ  ایک مخصوص طرزِ کلام اپناتے ہوئے اس حملہ کی ذمہ داری  کو پوشیدہ الفاظ میں اس طرف منتقل کرتا نظر آیا۔ جس طرف ہمارے کچھ سیاستدان  28 جولائی کے بعد کبھی کھلے الفاظ میں اور کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں اشارہ کر رہے ہیں۔ ایک صاحب نے اس کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔لکھا: احمد نورانی کو اسپتال کے بستر پر پڑے دیکھا تو یوں لگا جیسے یہ احمد نورانی نہیں بلکہ پاکستان کی جمہوریت پڑی ہوئی ہے۔میں اپنے صحافی بھائیوں کے جذبات کی قدر کرتا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ خوف زدہ بھی ہوں۔ اہلِ قلم خواتین و حضرات اپنےقلم سے ملک و قوم کی بہترین خدمت کرتے ہیں لیکن جناب قلم کی مثال اس بندوق کی سی ہے جس کا غیر محتاط استعمال خود اپنے اور اپنوں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ راقم الحروف نے تقریباً ہر جید صحافی کے سامنے چند سوال اٹھائے کہ

1۔  کیا اس حملے کی وجوہات سامنے آگئی ہیں؟

2۔  کیا اس واقعے کی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں؟

3۔  کیا کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے؟

4۔ کہیں یہ حملہ کسی ذاتی مخاصمت کا شاخسانہ تو نہیں؟

لیکن تاحال میں اپنے ان سوالات کے جواب کا متلاشی ہوں۔کسی صحافی نے میرے ان سوالات کا جواب نہیں دیا البتہ ٹویٹر استعمال کرنے والے میرے جیسے کچھ عام پاکستانیوں نے میرا مضحکہ اڑاتے ہوئے مجھے مطلع کیا کہ احمد نورانی پر حملہ پاکستان میں آزادی صحافت پر کوئی پہلا حملہ نہیں ہے ۔ رواں سال صرف  اسلام آباد میں یہ چوتھا واقعہ ہے جس میں صحافی اور صحافت پر حملہ ہوا ہے۔میری معلومات میں مزید گراں قدر  اضافہ کرتے ہوئے مجھے یہ بھی یاد دلایا گیا کہ کچھ برس قبل محتر م حامد میر صاحب پر بھی کراچی میں حملہ ہوا تھا جس کی نشانیاں میر صاحب اپنے بدن میں لیے پھر رہے ہیں۔ٹویٹر استعمال کرنے والے عام پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد اس خیال کا اظہار کرتی ہوئی پائی گئی کہ اس سے پہلے بھی کسی حملہ کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی اور نہ ہی ان واقعات کے ذمہ داران کو قانون کے شکنجے میں کسا گیا ۔چنانچہ ماضی کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کر لیا گیا کہ تازہ واقعہ کی تحقیقات بھی ممکنات میں شامل نہیں ہیں۔چنانچہ “حسنِ ظن” کی بنیاد پر ازخود ذمہ داروں کا تعین کرتے ہوئے اس واقعے کو بھی انہیں “نامعلوم افراد” کے کھاتے میں ڈال دیا گیا جن کا نام کوئی صحافی لینے کو تیار ہرگزنہیں لیکن تقریبا ًہر صحافی کا اشارہ اسی جانب ہے –

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔

جہاں تک میں جانتا ہوں ایک صحافی کی  بنیادی ذمہ داری خبر کو بیان کرنا اور اپنے قاری تک پہنچانا ہے- غالباً اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ایک اصول جس کو  مد نظر رکھا جاتا ہے وہ تحقیق ہے۔ بلا تحقیق کسی خبر کو بیان کرنا صحافتی اصولوں کے منافی سمجھا جاتا ہے۔لیکن یہ کیسی صحافت ہے جس میں تحقیق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے  محض  ماضی کے واقعات کو بنیاد بنا کر ایک ایسا بیانیہ قارئین کے ذہن میں ٹھونسنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ممکنہ طور پر حقائق سے اتنا ہی دور ہو سکتا ہے جتنا  انقلابی سیاست سے نواز شریف دور ہیں یا پھر نظریاتی سیاست سے عمران خان۔کیا یہ پاکستان کی صحافت میں تحقیق کے فقدان کی نشانی نہیں  ہے؟

SHOPPING

احمد نورانی کی صحافت سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن  ان کے زندہ اور سلامت رہنے کے حق سے کسی طور بھی اختلاف ممکن نہیں۔ چنانچہ اس تحریر کے توسط سے میں احمد نورانی  پر حملے کی ایک بار پھر مذمت کرتا ہوں اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کم ازکم اس مرتبہ اس واقعے کو محض “نورانی مخلوق”  کے کھاتے میں ڈالنے کی بجائے حقیقی تفتیش و تحقیق کی جائے اور قوم کے سامنے حقائق لائے جائیں  جو جاننا  ہر پاکستانی کا حق ہے۔ کوئی بھی پاکستانی یہ نہیں چاہتا کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے  “بنانا ری پبلک” کی دہائی دیتی رہے۔ پاکستان   “بنانا ری پبلک” تو نہیں البتہ بدقسمتی سے  “بہانہ ری پبلک” ضرور بنتاجا رہاہے جس میں ہر واقعہ اور ہر موقع کی مناسبت سے بہانہ موجود ہے۔

SHOPPING

اویس احمد
اویس احمد
ایک نووارد نوآموز لکھاری جو لکھنا نہیں جانتا مگر زہن میں مچلتے خیالات کو الفاظ کا روپ دینے پر بضد ہے۔ تعلق اسلام آباد سے اور پیشہ ایک نجی مالیاتی ادارے میں کل وقتی ملازمت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *