کائنات کے پراسرار بادل۔۔۔شاہزیب صدیقی

سولہویں صدی سے پہلے پہل کائنات کے متعلق یہی تصور موجود تھا کہ یہ ایک نہ سمجھ میں آنے والی پہیلی ہے مگر پھر ٹیلی سکوپ کی ایجاد نے اس نظریے کو یکسر بدل دیا، ابھی ان کے استعمال سے دنیا آشنا ہوئی تھی کہ 18ویں اور 19ویں صدی میں نظام شمسی میں موجود اجسام نیپچون اور پلوٹو کو بنا دیکھے محض ریاضی کی مساوات کے ذریعے دریافت کرلیا گیا ، ان دریافتوں نے سائنسدانوں کو علم کی نئی جہت سے متعارف کروایا کہ محض مشاہداتی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے انہیں ریاضی کی مساوات پہ پرکھنے کے بعد کائنات کے دور دراز علاقوں پر ڈھکے پرسراریت کے پردے اٹھائے جاسکتے ہیں۔ یہ انہی کامیابیوں سے ملنے والا حوصلہ تھاکہ پلوٹو کے بعد ایک مزید سیارے Planet-Xکا دعویٰ کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اب تک نظر نہیں آسکا، مگر سائنسدان اس کی زمین سے دُوری، اس کا سائز اور اس کی ہئیت کے حوالے سے کافی کچھ جان چکے ہیں۔

1932ء میں استونیا سے تعلق رکھنے والے خلائی محقق ارنسٹ اوپِک نے دعویٰ کیا کہ نظامِ شمسی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کے تحت یہ کہا جاسکتا ہے کہ نظامِ شمسی کے کنارے پر برف کے بہت بڑے بڑے بادل موجود ہیں اور ان کی تہہ ناقابلِ بیان حد تک موٹی ہے ۔ ارنسٹ کے اس مفروضے پر تحقیق کے بعد ڈنمارک کے خلائی محقق جان اورٹ نے 1950ء میں دعویٰ کیا کہ نظامِ شمسی میں جتنے بھی دُم دار ستارے ہمیں دِکھائی دیتے ہیں وہ دراصل نظام شمسی کے ایک خاص حصے سے آتے ہیں ،جان اورٹ کی اسی تحقیق کی بنا پر نظام شمسی کے اس حصے کو اورٹ کلاؤڈ (Oort Cloud) یا اورٹ بادل کا نام دے دیا گیا۔ اورٹ کلاؤڈ دراصل نظر نہ آنے والی نظامِ شمسی سے باہر کی جانب موجود برف کے گولوں پر مشتمل ایک وسیع پٹی ہے جو کہ سورج سے ایک نوری سال سے لے کرتین نوری سال تک کے علاقے میں موجود ہے. (یاد رہے ہمارے سورج سے قریب ترین ستارہ 4 نوری سال دور ہے)۔ اس پٹی میں برف کے بنے ہوئے شہابیے موجود ہیں جو اگر کبھی سورج کی جانب لپکیں تو دُم دَار ستاروں کی صورت میں ہمیں نظر آتے ہیں۔جب ہمارا سورج معرضِ وجود میں آیا تو اتنے زیادہ فاصلے پر موجود گرد و غبار مل کر سیارے نہیں بن پائے, لہٰذا یہ آوارہ برفیلے پتھر اُس وقت سے سورج کے گرد خول کی صورت میں موجود ہے ۔

ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ اورٹ کلاؤڈ ،زمین پر زندگی کی شروعات کی وجہ ہیں۔ اس پٹی میں مشتری سے کئی گنا بڑے برف کے گولے موجود ہیں جو کہ پانی ،نائیٹروجن، کاربن مونو آکسائیڈ، میتھین، ایتھین اور ہائیڈروجن سائنائیڈ پرمشتمل ہیں۔جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کائنات میں تقریباً ہر کہکشاں کے وسط میں ایک بلیک ہول موجود ہوتا ہے اور ستارے اس بلیک ہول کے گرد اپنے سیاروں سمیت چکر لگا رہے ہوتے ہیں۔بالکل اسی طرح ہمارا سورج بمعہ نظامِ شمسی ایک بلیک ہول کے گرد چکر لگارہا ہے اور یہ چکر25 کروڑ سال پر محیط ہوتا ہے ، ایک اندازہ ہے کہ اس چکر کے دوران ہمارا سورج تین بادلوں کے درمیان سے گزرتا ہے ۔ اس وقت ہمارا سورج جس بادل میں موجود ہے اسے Interstellar local cloud کہا جاتا ہے (یہ بادل اتنا بڑا ہے کہ اس میں ہمارا سورج ڈیڑھ لاکھ سال پہلے داخل ہوا اور اسے اس بادل سے نکلنےمیں مزید 20 ہزار سال درکار ہیں) اور آگے جس دیوہیکل بادل میں یہ داخل ہوگا اسے G-Cloud کا نام دیا گیا ہے ۔ ان دیوہیکل بادلوں کے متعلق سائنسدان شش و پنج کا شکار ہیں کیونکہ ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ آیا ہمارا سورج Interstellar local cloud کا حصہ ہے اور اس کے ساتھ ہماری کہکشاں میں گھوم پھر رہا ہے یا اس دیوہیکل بادل میں سے گزر رہا ہے۔ لیکن غالب گمان یہی ہے کہ ہمارا سورج ان میں سے گزر رہا ہے۔

ان دیوہیکل بادلوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے اورٹ کلاؤڈ کے کچھ شہابیے بسا اوقات نظام شمسی سے الگ ہوکر دوسرے ستاروں کا رُخ کرلیتے اور بعض اوقات دوسرے ستاروں سے آتے شہابیے اس میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ شہابیوں کا یہ آنا جانا لگا رہتا ہے، گزشتہ ماہ اکتوبر 2017ء میں ایک شہابیہ جوکہ 400 میٹر پر محیط تھا ستاروں کے جھرمٹ Lyraسے آیا اور سورج کا چکر لگا کرستاروں کے جھرمٹ Pegasus کی طرف روانہ ہوگیا،یہ پہلا واقعہ تھا جب سائنسدانوں نے کسی ایسے پتھر کو اتنے قریب سے دیکھا جو ہمارے نظامِ شمسی سے باہر سے آیا۔یاد رہے اورٹ کلاؤڈ نامی اس برفیلی پٹی کو ابھی تک دیکھا نہیں جاسکا ، لیکن سائنسدان اس کی نشانیاں کئی بار دیکھ چکے ہیں۔ہوسکتا ہے کہ اس برفیلی پٹی کا دیدار جلد ہی ہمیں نصیب ہوجائے لیکن یہ کتنا جلد ہوگا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ناسا نے نظامِ شمسی سے باہر کی جانب چار خلائی گاڑیاں بھیجیں ہیں جن میں سے وائیجر ون سب سے دُور پہنچ چکی ہے (تقریبا 19 ارب کلومیٹر) اِس خلائی گاڑی کو 17 کلومیٹر فی سیکنڈ سے سفر کرتے ہوئے 40 سال گزر چکے ہیں لیکن اِس کو بھی اورٹ کلاؤڈ میں داخل ہونے کے لئے ابھی مزید 300 سال درکار ہیں، اور داخلے کے بعد اس کو اورٹ بادل سے نکلنے میں 30 ہزار سال لگیں گے۔ کائنات بے انتہاء وسیع ہے اسی خاطر ہمیں اس کے متعلق سوچتے ہوئے اپنی سوچ کی بلندیوں سے آزاد ہونا پڑتا ہے ،وگرنہ اگر کوئی اپنی سوچ کی بندشوں میں جکڑا رہے گا تو اس کے لئے یہ سب طلسماتی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اسی خاطر مشہور حیاتی کیمیا دان، جے بی ایس ہیلڈین کو کہنا پڑا: ’’یہ کائنات صرف اس سے زیادہ پراسرار نہیں کہ جتنا تم سوچتے ہو، بلکہ یہ اس سے بھی کہیں زیادہ پراسرار ہے کہ جتنا تم سوچ سکتے ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *