ایک ابھرتا ہوا نام،ڈاکٹر سہیل سومرو۔۔۔ عبدالروف خٹک

انھوں نے بہت ہی کم وقت میں اپنا نام اور اپنے نام کا سکہ منوایا ۔اس دور میں ایسے لوگ خال خال ہی پائے جاتے ہیں جو بہت قلیل مدت اور وقت میں بہت جلدی آگے نکل جاتے ہیں ۔ایسے لوگ بلا کے ذہین اور فطین ہوتے ہیں ان میں بلا کا اعتماد ہوتا ہے یہ بڑے سے بڑے کام کو بھی چٹکیوں میں حل کر دیتے ہیں ۔یہ مزاج کے بڑے نڈر اور بے باک ہوتے ہیں یہ کسی بھی بڑے سے بڑے کام میں ہاتھ ڈالنے سے نہیں کتراتے بلکہ سامنے والے کا حوصلہ بھی بڑھاتے ہیں ۔ایسے لوگ کسی بھی فیلڈ میں کنی نہیں کتراتے یہ جہاں بھی جاتے ہیں وہاں سوچ کے نئے زاویے کھول آتے ہیں ۔یہ اپنے کام کو اپنا فن سمجھتے ہیں اور اس فن کو بہت اچھے  طریقےسے استعمال کرنا بھی جانتے ہیں۔ یہ جہاں اورجس شکل میں بھی ہوتے ہیں وہاں سیکھنے کے نئے در واہ ہوتے ہیں اور لوگ ان کی کاوشوں پر فخر کرتے ہیں ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
جی ہاں ایک ایسی شخصیت جنھوں نے بہت جلد سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں اپنے نام کا ایسا ڈنکا بجایا کہ لوگ انگشت بدنداں ہیں کہ ہم سے بعد میں آنے والا یہ نوجوان بلا کی صلاحیتوں کا مالک اور وہ وہ نمایاں کارنامے انجام دیئے کہ استاد بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکے ۔
چھوٹا قد اور گول سی آنکھوں میں پڑے ہوئے سفید ڈورے ۔گھنگھریالے بال ،خوبصورت اور سپاٹ سے چہرے پر گھنی اور چھوٹی سی مونچھیں، بلا کاسحررکھتا ہے اپنی اس اثرانگیز شخصیت میں ،لوگوں کو بہت جلد اپنا گرویدہ کردینے والا یہ شخص اپنی ذات میں گم مولائی آدمی صرف اور صرف اپنے کام کو ترجیح دینے والا جس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں اپنے اس شہر میں ،ڈاکٹر سہیل سومرو صاحب جنھوں نے بہت کم مدت میں اپنا لوہا منوایا۔اس وقت یہ اپنی خدمات ایشین انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کو وقف کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی یہ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ڈاکٹر صاحب اس انسٹیٹوٹ میں اب تک کئی نمایاں خدمات سر انجام دے چکے ہیں ،جس میں نمایا ں ذکر اس خاتون کا ہے جس کے پیٹ میں بال تھے اور سہیل صاحب  نےاس خاتون کا کامیاب آپریشن کرکے اس کے پیٹ سے تمام بال نکال کر کے آپریشن کو کامیابی سے ہمکنارکیا۔

ڈاکٹر صاحب کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ڈاکٹر صاحب ایک خداترس انسان ہیں کبھی لالچ یا طمع دل میں پیدا نہیں ہوئی ۔ہمیشہ مریضوں کی خدمت کو اپنا فرض منصبی سمجھا ،اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ میں وہ شفاء رکھی ہےکہ مریض چند ہی دنوں میں روبہ صحت ہوجاتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کی ایک اور خوبی جس کے بغیر بزرگ کہتے ہیں آپ آگے نہیں بڑھ سکتے اور وہ ہے اساتذہ کرام کا ادب، جن کا تذکرہ کیے بغیر انسان خود کو ادھورا سمجھتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے استاد کو اپنا مرشد و مربی سمجھتے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اپنے استاد کے آگے زانوئے تلمذ طے کیا۔وہ اپنے ہنر اور کمال کو اپنے استاد کا دیا ہوا ہنر سمجھتے ہیں۔ان کے استاد بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ڈاکٹر اکمل جمال جن کی شہرت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جب استاد کا یہ کمال ہو تو شاگرد کے کیا کہنے ۔ڈاکٹر سہیل صاحب ٹیم ورک کو ساتھ لیکر چلتے ہیں دوران پروسیجر بہت ریلیکس ہوکر اپنے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں دوران پروسیجر کسی بھی بات پر ماتھے پر شکن نہیں آنے دیتے ،ساتھ کام کرنے والے ٹیکنیشن کے ساتھ بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کا سب سے بڑا کمال یہ ہےکہ کسی بھی پروسیجر میں ہاتھ ڈالنے سے نہیں گھبراتے، کام کو کبھی بھی مشکل نہیں بناتے بلکہ بہت آسان لیتے ہیں ۔ڈاکٹر صاحب اس ادارے میں اب تک بہت سارے پروسیجر کرچکے ہیں لیکن الحمدللہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ڈاکٹر صاحب مریضوں کی خدمت کو اپنا شعار سمجھتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو صحت کاملہ عطا فرمائے ۔
آمین

Avatar
Khatak
مجھے لوگوں کو اپنی تعلیم سے متاثر نہیں کرنا بلکہ اپنے اخلاق اور اپنے روشن افکار سے لوگوں کے دل میں گھر کرنا ہے ۔یہ ہے سب سے بڑی خدمت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *